شیخ النمر اقلیتوں کی آواز تھے: جلال حیدرنقوی

نئی دہلی،۵ جنوری (نامہ نگار) سعودی عرب حکومت کے ذریعہ معروف شیعہ رہنما شیخ باقر النمر کو سزائے موت دیے جانے کی شدید مذمت کرتے ہوئے مجلس علمائے ہند کے جوائنٹ سکریٹری مولانا جلال حیدر نقوی نے کہا کہ شہید نمر باقر النمر اقلیتوں کے حقوق کے لیے آواز اٹھاتے تھے۔
ہندوستانی کی قومی راجدھانی دہلی کے وسنت وہار علاقہ میں واقع سعودی عرب کے سفارتخانہ کے نزدیک ایک احتجاجی مظاہرہ میں شرکت کرتے ہوئے مولانا جلال نقوی نے کہا کہ اقلیتوں کے حقوق کے لیے آواز اٹھانا کوئی جرم نہیں ہے۔ انہوں نے ہندوستان کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ یہاں ہم سبھی مسلمان اپنے اور دوسری اقلیتوں کے حقوق کی بات کرتے ہیں۔ حکومت سے اقلیتوں کو ان کے حقوق دینے کا مطالبہ کرتے ہیں، اس کے لیے احتجاج کرتے ہیں، مظاہرے کرتے ہیں ، تو کیا حکومت سبھی مسلمانوں کو اور اقلیتوں کے حقوق کی لڑائی لڑنے والوں کو پھانسی دے دیگی؟

مولانا نقوی نے حکومت ہند سے مطالبہ کیا کہ وہ شیخ باقر النمر کو جھوٹے الزامات کی بنیاد پر شہید کیے جانے کے خلاف سعودی عرب کے سفیر کو بلا کر اپنا شدید احتجاج درج کرائے۔

واضح ہوکہ سعودی عرب نے معرف شیعہ رہنما آیت اللہ باقر النمر سمیت ۴۷ افراد کو مختلف جرائم کی پاداش میں سزائے موت دے دی تھی جس کے خلاف ایران سمیت مختلف ملکوں میں شدید احتجاج اور مظاہرے شروع ہوگئے۔ حالات یہاں تک پہنچ گئے کہ ایران کی راجدھانی تہران میں واقع سعودی عرب کے سفارتخانہ پر کچھ مشتعل افراد نے حملہ کردیا اور اس کے ایک حصے کو آگ لگادی۔اس کی بنیاد پر سعودی عرب نے ایران سے سفارتی تعلقات توڑنے کا اعلان کردیا۔ ریاض کے اس اقدام کے بعد بحرین اور پھر کویت نے بھی تہران سے اپنے سفیروں کو واپس بلا لیا۔

ان حالات میں ایک بار پھر عالم اسلام میں اتحاد و یکجہتی کا خواب دیکھنے والوں کے سپنے چکنا چور ہوگئے ہیں۔ مغربی طاقتوں اور دہشت گرد گروہوں کی وجہ سے اسلام اور مسلمانوں کی بدنامی کا سدباب کرنے کے لیے عالم اسلام کے اہم ملکوں کے درمیان گذشتہ کچھ مہینوں سے قربت بڑھانے کی بات ہورہی تھی۔ حال ہی میں ایران کے صدر حسن روحانی نے اسلامی ملکوں سے اپیل کی تھی کہ سب مل جل کر دہشت گردی کے خلاف متحدہ جنگ لڑیں اور اسلام کی شبیہ کو بہتر بنانے کی کوشش کریں۔ادھر سعودی عرب نے بھی دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑنے کے لیے ۳۴ ملکوں پر مشتمل ایک اتحاد بنایا تھا۔نئے حالات میں اب دہشت گردی سے زیادہ عرب اور ایران کے درمیان بڑھتے اختلافات کی خبریں آرہی ہیں۔ اس سے فائدہ کس کو ہوگا، اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ہونا چاہیے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *