برطانوی شہریت کے معاملے میں راہل گاندھی کو پارلیمانی کمیٹی کا نوٹس

Rahul Gandhi

نئی دہلی، ۱۴ مارچ: بھارتیہ جنتا پارٹی کے سینئر لیڈر لال کرشن اڈوانی کی قیادت والی پارلیمانی ایتھکس کمیٹی نے کانگریس پارٹی کے نائب صدر راہل گاندھی کو وجہ بتاؤ نوٹس بھیج کر ان سے پوچھا ہےکہ کیا انھوں نے ایک بار خود کو برطانوی شہری بتایا تھا۔

دراصل، چند دنوں قبل بی جے پی لیڈر سبرامنیم سوامی نے راہل گاندھی پر الزام لگایا تھا کہ انھوں نے برطانیہ میں ایک کمپنی کھولنے کے لیے دی گئی درخواست میں خود کو برطانوی شہری قرار دیا تھا۔ بقول سوامی، راہل گاندھی نے سال ۲۰۰۳ میں برطانیہ میں بیکہاپس لمیٹڈ کمپنی قائم کی تھی اور اس کمپنی کے سالانہ ریٹرن فارم میں خود کو برطانوی شہری لکھنے کے ساتھ اپنا برطانیہ کا پتہ بھی دیا تھا۔ سوامی نے یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ مذکورہ کمپنی میں راہل گاندھی کا ۶۵ فیصد شیئر ہے۔ ان تمام الزامات کے مد نظر سبرامنیم سوامی نے وزیر اعظم نریندر مودی کو ایک خط لکھ کر ان سے راہل گاندھی کی ہندوستانی شہریت اور پارلیمنٹ کی رکنیت چھیننے کا مطالبہ کیا تھا۔

اسی سلسلے میں آج جب یہ شکایت لوک سبھا اسپیکر سمترا مہاجن کے پاس پہنچی، تو اسے انھوں نے پارلیمانی ایتھکس کمیٹی کے پاس بھیج دیا، جس کے بعد کمیٹی نے راہل گاندھی کو وجہ بتاؤ نوٹس جاکر کیا ہے۔ پارلیمانی ایتھکس کمیٹی کے رکن ارجن رام میگھوال نے کہا ہے کہ یہ ایک سنگین مسئلہ ہے اور راہل گاندھی کی طرف سے جواب ملنے کے بعد اس سلسلے میں مزید کارروائی کی جا سکتی ہے۔

دوسری جانب کانگریس پارٹی نے راہل گاندھی کا دفاع کرتے ہوئے بی جے پی کی طرف سے عائد کیے گئے ان تمام الزامات کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ کانگریس لیڈروں پر ذاتی حملے کرنا بی جے پی کی عادت ہو گئی ہے۔

کانگریس کی جانب سے چونکہ فی الحال پارلیمنٹ میں وجے مالیا کہ مدعے کو زٰر شور سے اٹھایا جا رہا ہے، اس لیے بعض تجزیہ نگاروں کا ماننا ہے کہ مالیا کے معاملے میں ہونے والی جھینپ کو مٹانے کے لیے بی جے پی راہل گاندھی کی برطانیہ شہریت کے ایشو کو طول دینا چاہتی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *