وقت کی چاپ میں آہٹ سی ہے طوفانوں کی

جلال الدین اسلم

ہندوستانی مسلمان اس وقت اپنی زندگی کے انتہائی خطرناک، صبر آزما بظاہر انتہائی حوصلہ شکن موڑ پر آکھڑے ہوئے ہیں۔ ان کی حیثیت بھیڑوں کے ایک ایسے گلے کی ہے جس کا کوئی قابل بھروسہ نگہبان نہیں ہے اور اس سے بھی زیادہ اذیت ناک بات یہ ہے کہ مختلف سمتوں سے اس پر شب خون مارنے کا سلسلہ جاری ہے۔ اس کی تہذیب و ثقافت ہی نہیں بلکہ دینی شعار کو بھی مختلف عنوان و انداز سے نشانہ بنایا جارہا ہے۔ Muslims

مرکز میں اس وقت جو لوگ برسراقتدار ہیں وہ بظاہر ایک ایسے ایجنڈے پر کام کر رہے ہیں جو ان کے بقول ہر اعتبار سے سیکولر ہے لیکن اس حکومت کے وزراء ایک کے بعد ایک ایسے اقدامات کر رہے ہیں جن کا لازمی نتیجہ ملک کی یکجہتی اور سیکولر آئین اور ہماری جمہوریت کی ادارہ جاتی بنیادوں کی تباہی کی صورت میں ہی برآمد ہوسکتا ہے۔ نصابی کتابوں میں تبدیلی، تاریخ کو مسخ کرکے من مانی تاریخ کا اختراع او راپنی ثقافت و تہذیب کو دوسروں پر زور زبردستی تھوپنا جیسے اقدامات کوملک کی سب سے بڑی فاشسٹ تنظیم آرایس ایس کے ایجنڈے کی تکمیل ہی کہا جائے گا اور جس کا واضح مقصد اس کے سوا اور کچھ نہیں ہے کہ اقلیتوں خاص طور سے مسلمانوں کو یہ بتا اور جتا دیا جائے کہ اب اس ملک میں وہی اور صرف وہی کچھ ہوگا جو آر ایس ایس کے عزائم کی تکمیل میں معاون بن سکتا ہو۔

اور بات صرف مرکزی حکومت ہی کی نہیں بلکہ ان تمام ریاستوں کی بھی ہے جہاں جہاں بی جے پی کو عملاً بالا دستی حاصل ہے، بہت ہی کھل کر بلکہ جارحانہ قدم اٹھائے جارہے ہیں جن کی زد براہ راست مسلمانوں پر پڑ رہی ہے۔ کبھی گھر واپسی، لوجہاد، بہو لاؤ بیٹی بچاؤ، گؤماتا (بیف) یا اب بھارت ماتا کے نام پر مسلمانوں کی گھیرا بندی، قتل و غارت اور دہشت گردی کا کھیل کھیلا جارہا ہے۔ آرایس ایس اور بی جے پی کے عام کارکن ہی نہیں بلکہ اس غیر انسانی کھیل میں ایک مدت سے اعلیٰ عہدیدار بھی بہت ہی کھل کر شریک ہوتے رہے ہیں اور اس طرح کے اقدامات تو آر ایس ایس یا بی جے پی کے لیے کوئی نئے بھی نہیں ہیں، یہ سب اس کے ایجنڈے کا حصہ ہیں، انہیں جب بھی اور جہاں بھی موقع ملا ہے ان پر عمل اپنا فریضہ سمجھ کر کیا ہے۔

آر ایس ایس کی کارگاہ میں فکر و نظر کے جو سانچے ڈھالے گئے ہیں وہ چیخ چیخ کر کہہ رہے ہیں کہ ہندوراشٹر کے یہ مبلغ پورے شعور کے ساتھ اسی راہ پر چل رہے ہیں جو فاشزم کا متعین راستہ ہے۔ اقلیتوں خاص طور پر مسلمانوں اور عیسائیوں کے بارے میں آر ایس ایس کس طرح کی سوچ پروان چڑھا رہا ہے، اس کے حقیقی عزائم کیا ہیں اور وہ پہلے کے آزمودہ فسطائی حربوں کو کس چابکدستی کے ساتھ استعمال کرتا آرہا ہے ،اس کا اندازہ گذشتہ چند برسوں کے دوران رونما ہونے والے واقعات و حالات سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے۔

آر ایس ایس کے نظریہ ساز گرو گولوالکر نے اپنی کتاب ’بنچ آف تھاٹ‘ میں اسلام، مسلمانوں اور عیسائیوں کے تعلق سے بہت کچھ بہت ہی واضح لفظوں میں فرمایا ہے۔ ذیل میں چند اقتباسات پیش ہیں۔ وہ لکھتے ہیں: جب یہ کہا جاتا ہے کہ ہندوستان ایک ہندو ملک ہے تو کچھ لوگ فوراً ایک سوال پیش کردیتے ہیں کہ ان مسلمانوں اور عیسائیوں کے بارے میں آپ کی رائے کیا ہے جو ہندوستان میں رہتے ہیں؟ کیا یہ یہاں پیدا نہیں ہوئے ہیں؟ کیا انہوں نے یہاں پرورش نہیں پائی ہے؟ وہ غیر ملکی محض اس لیے کیسے ہوسکتے ہیں کہ انہوں نے اپنا عقیدہ تبدیل کرلیا ہے؟ اصل سوال یہ ہے کہ کیا یہ لوگ یہ یاد رکھتے ہیں کہ وہ ہندو مادر وطن کے فرزند ہیں۔ محض ہماری اس بات کو یاد رکھنے سے کیا ہوتا ہے۔ یہ احساس دراصل ان لوگوں کے اندر پیدا کرنے او ران کے دماغ میں ہر وقت تازہ رکھنے کی ضرورت ہے۔ سوال یہ ہے کہ ان لوگو ں کا کیا رویہ ہے جو اسلام یا عیسائیت قبول کرچکے ہیں؟ بے شک وہ اسی زمین پر پیدا ہوئے ہیں۔ کیا یہ لوگ حق نمک ادا کرنے پر رضامند ہیں؟ کیا یہ اس مادر وطن کے وفادار ہیں؟ جس نے ان کوپال پوس کر بڑا کیا ہے؟ کیا وہ یہ محسوس کرتے ہیں کہ یہ اس مادر گیتی کے سپوت ہیں او ریہ بات ان کے فرائض میں داخل ہے کہ وہ اس کی خدمت کریں؟ (صورت حال یہ ہے کہ عقیدہ کی تبدیلی کے ساتھ ساتھ قوم سے محبت اور اس پر تن من دھن قربان کردینے کا جذبہ بھی رخصت ہوگیا ہے)۔

گولوالکر اور سنگھ کے دوسرے لیڈروں کا ایک سوچا سمجھا موقف یہ بھی ہے کہ مسلم علاحدگی پسندی کی جڑیں کسی حد تک خود اس کی مذہبی سوچ میں پیوست ہیں۔ گولوالکر جی کے خیال میں مسلمان سوچ کا الگ سانچہ رکھتے ہیں۔ ان کی سوچ اور عمل دونوں علاحدگی پسندی پر مبنی ہیں۔ وہ الگ رہتے اور الگ رہ کر کام کرنے کے منصوبے بناتے رہتے ہیں۔ یہ مسلمان ہی ہیں جو یہ سوچ کر چلتے ہیں کہ غیر مسلم دوزخ میں جائے گا۔

آر ایس ایس کے لوگ یہ مان کر چلتے ہیں کہ مسلمانوں کی غالب اکثریت کے پُرکھے ہندو تھے، جنہیں مکر و فریب، خوف، لالچ یا جبر و دباؤ کے تحت اپنا مذہب تبدیل کرنے پر مجبور کیا گیا تھا۔ چنانچہ سنگھ اپنا یہ فرض قرار دیتا ہے کہ ان تمام لوگوں کو جن کے پرکھوں نے مذہب تبدیل کرلیا تھا انہیں دوبارہ ہندو دھرم میں واپس لایا جائے۔ گروگولواکر جی نے اسے اپنے گھر واپس لوٹنے کا نام دیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’’اب یہ ہمارا فرض ہے کہ وقت کے ہاتھوں ستائے ہوئے اپنے ان بھائیوں کو جو صدیوں سے مذہبی غلامی کا شکار ہیں اپنے آبائی گھر میں واپس لوٹ آنے کی دعوت دیں، بحیثیت ایک دیانت دار محب وطن کے ان لوگوں کو غلامی کے سارے طوق اتار پھینکنے چاہئیں اور اپنے آبائی طریقے اور قومیت کے قدیم رسم و رواج کو اختیار کرلینا چاہیے۔ ان تمام بھائیوں کے لیے دعوت عام ہے کہ وہ اپنی اصل جگہ اور اصل قومی زندگی میں واپس لوٹ آئیں۔ جس وقت ہمارے یہ بچھڑے بھائی ہمارے پاس واپس لوٹ آئیں گے اور ہمارا حصہ بن جائیں گے اس دن ہم عظیم الشان جشن منائیں گے۔‘‘

یہ تو رہی اقلیتوں خاص طور سے مسلمانوں کے خلاف آر ایس ایس کی فرد جرم اور اس کے عزائم کی ایک ہلکی سی جھلک۔ اس نے ان عزائم کی تکمیل کے لیے جو ذرائع اختیار کیے ہیں وہ اب ڈھکے چھپے نہیں رہے۔ اس کے اب تک کے وہ تمام حربے وہی ہیں جو فاشزم کی کارگاہ میں ڈھالے جاتے رہے ہیں۔ فسطائی روایات کے عین مطابق سنگھ تاریخ کے حوالہ سے محتاج ثبوت مظالم اور فرضی نا انصافیوں کی داستانیں تصنیف کرنے اور مسلمانوں کو ان کے ناکردہ گناہوں کے لیے مجرموں کے کٹہرے میں لا کھڑا کرنے کے حربہ کو اس خوبصورتی اور عیاری کے ساتھ استعمال کر رہا ہے کہ نازیوں کی پروپیگنڈہ مشینری کی بہترین کامیابیاں بھی ہیچ نظر آتی ہیں۔ فاشزم کے طریقۂ واردات میں یہ بھی شامل ہے کہ کچھ بہت ہی واضح علامتوں کو قوم و مذہب کی پیشانی پر کلنک کا ٹیکہ قرار دیا جائے اور اس کے حوالہ سے فضا کو شراروں سے بھر دیا جائے۔

مثالیں اور بھی بہت سی ہیں اور قرائن بتاتے ہیں کہ آئندہ بہت کچھ ہونے بھی جارہا ہے۔ لیکن افسوس کہ مسلمان حالات کا مقابلہ کرنے کے معاملے میں اس مستعدی کا مظاہرہ کرتے نہیں دیکھے جارہے ہیں جس کے بغیر آنے والے سیلاب پر بند باندھنا ممکن نہیں ہے۔

یہ بات بہرحال حوصلہ افزا ہے کہ گذشتہ مہینوں میں دہشت گردی، بیف اور بھارت ماتا کے نام پر مسلمانوں کے خلاف اندھا دھند گرفتاریاں اور قتل و خون پر مسلم تنظیموں میں ہلکی سی حرارت پیدا ہوئی تھی، لیکن صرف جلسے جلوس اور کانفرنسیں ہی کافی نہیں، ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلمان ملک گیر سطح پر اپنے آپ کو منظم کریں اور خود غرض اور خودساختہ لیڈروں کے فریب میں آنے کے بجائے مخلص، دیانتدار، ایثار پیشہ اور بے غرض لوگوں کو آگے بڑھانے کی کوشش کریں او رہمارے علماء، امراء، اپنے آپ کو خودغرضی، انانیت پسندی، مسلکی اور گروہی مفادات کی دلدل سے باہر نکال کر ایک مسلمان اور صرف مسلمان کی حیثیت سے اسلام کی خدمت اور ملت کے وسیع تر مفادات کے تحفظ کا نہ صرف عہد کریں بلکہ اس کی عملی مثال قائم کرنے کی راہ پر چل بھی پڑیں تو یہ ایک بہت اچھی مثال بھی ہوگی اور وقت کے بڑھتے اندھیروں میں روشنی کی کرن بھی ثابت ہوگی۔ بصورت دیگر اندھیرا ہی اندھیرا ہے۔
موبائل نمبر: 09868360472

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *