سمری بختیار پور میں قومی یکجہتی سیمینار اختتام پذیر

 

وجیہ احمد تصور کی رپورٹ

سہرسہ…  قومی یکجہتی میں اردو کا اہم رول ہے. آزادی کی جنگ سے آج تک، اردو نے معاشرے کو جوڑنے کا کام کیا ہے. اردو زبان بالخصوص اردو شاعری دنیا کے کچھ مقبول زبانوں میں سے ایک ہے لیکن آج ہمارے بچے وراثت میں ملی اس زبان کو بھولتے جا رہے ہیں. مذکورہ باتیں چودھری فاروق صلاح الدین نے المسلم ایجوکیشنل اینڈ ویلفیئر فاؤنڈیشن، سمری بختیار پور کی طرف سے منعقد بہار اردو اکیڈمی پٹنہ کے تعاون سے ہفتہ کو سمری بختیار پور کے مدرسہ فیض قاسم مغربی پہاڑ پور میں ایک روزہ سیمینار “قومی یکجہتی میں اردو کا کردار” پر اپنے خیالات کا اظہار کیا کرتے ہوئے کہا اس موقع پر چودھری فاروق صلاح الدین نے سمری بختیار پور میں لائبریری کی ضرورت پر زور دیا اور اپنے طرف سے ایک کٹھا زمین اپنے دادا نواب نظیر الحسن اردو لائبریری رانی باغ کو دینے کے سابقہ  اعلان کو دہراتے ہوئے کہا کہ لائبریری سے  نئی نسل کو تعلیم اور سیکھنے کا ماحول ملتا ہے. 

انہوں نے آئندہ بھی اس طرح کے پروگرام کے انعقاد پر زور دیا. سیمینار میں دیگر مقررین نے بھی قومی اتحاد میں اردو کے کردار پر بے باک خیالات کا اظہار کیا . اس سے پہلے سیمینار کا افتتاح تلاوت قرآن اور ننھی بچیوں کے کی طرف سے پیش قومی گیت “سارے جہاں سے اچھا هندوستاں ہمارا …  سے ہوا. اردو روزانہ انقلاب پٹنہ کے بيورو چیف مشہور صحافی اسفر فریدی نے اس موقع پر اپنے کلیدی خطبے میں  کہا کہ اردو زبان میں تعلیم حاصل کرنے والے بچے دیگر بچوں سے ذہین ہوتے ہیں اور یہ میں نہیں سروے رپورٹ کہتی ہے . انہوں نے بچوں کی ابتدائی تعلیم اپنی مادری زبان میں دینے کی اہمیت پر زور دیا.

انجمن ترقی اردو سہرسہ کے صدر شاہد علی علیگ کی صدارت میں منعقد پروگرام میں اقلیتی فلاح و بہبود محکمہ کے ضلع افسر جناب روی شنکر نے کہا کہ اردو کی ترقی کے لئے حکومت پابند ہے. انہوں نے جب  اردو کا ایک پرچا لیکر پڑھ کر سنایا تو لوگوں نے خوشی سے تالیاں بجا کر ان کے اردو زبان سیکھنے کا حوصلہ بڑھایا . انہوں نے کہا کہ اردو نہ مسلم کی زبان ہے اور نہ ہندو کی زبان ہے یہ خالص ہندوستانی زبان ہے. ضلع ایجوکیشن افسر جناب تقی الدین احمد نے کہا کہ اردو اور ہندی ایک دوسرے کی تکمیل ہے.

اردو کی ترقی کے لئے اردو سماج کو آگے بڑھ کر اردو کی ترقی کے لئے سرکاری کوششوں کو کامیاب بنانے کے لئے محنت کرنی پڑے گی. انہوں نے کہا اردو کے استاد اگر اپنی ذمہ داری کو سمجھیں تو اردو کی ترقی میں سب سے اہم کردار ان کا ہی ہے.

پروگرام کے کنوینر اور ضلع انجمن ترقی اردو سہرسہ کے نائب صدر وجيہ احمد تصور نے حاضرین کا ھدیہ تشکر اس شعر کے ساتھ کہ “یہاں چہرے نہیں انسان پڑھے جاتے ہیں، مذہب نہیں ایمان پڑھے جاتے ہیں، یہ ملک اس لیے بہت اچھا ہے دوستو !، یہاں ایک ساتھ گیتا اور قرآن پڑھے جاتے ہیں، “آئے ہوئے مہمانوں کا شکریہ ادا کیا اور چودھری فاروق صلاح الدین کو لائبریری کے لئے زمین فراہم کرنے کے لئے شکریہ ادا کیا. 

پرو فیسر ڈاکٹر محمد ابو الفضل کی نظامت میں منعقد اس پروگرام  کا خطبہ استقبالیہ  مفتی ظل الرحمن قاسمی نے پیش کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی پروگرام کی کامیابی سرکاری مدد کے ساتھ ساتھ عوامی تعاون کے بغیر ممکن نہیں ہے. انہوں نے کہا کہ اگر عوام کا ساتھ رہا تو یہاں تعلیمی ماحول کو بہتر بنانے کے لئے کام کرنے کے ساتھ ہی مقابلہ ذاتی امتحانات کی تیاری کے لیے بھی اقدام اٹھایے جائیں گے . اس موقع پر محمد حسان، منهاج عالم، مظاہر قاسمی، ممتاز رحمانی،ڈاکٹر محمد ابو هریرا، ذیشان عارف، تنویر عالم، اکبر عالم، سالك امام، عتیق الرحمن ، طارق احمد ، رضوان عالم وغیرہ نے پروگرام کو کامیاب بنانے میں اہم کردار ادا کیا.

پروگرام کے اختتام کے بعد چودھری محمد فاروق صلاح الدین کے ہاتھوں “نواب نظیر الحسن اردو لائبریری” کا راني باغ کا  سنگ بنیاد رکھا گیا جہاں بڑی تعداد میں لوگ موجود تھے.

Share

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *