سمری بختیار پور میں طلاق ثلاثہ بل کے خلاف خواتین کی زبردست ریلی

وجیہ احمد تصور
سہرسہ:
  سہرسہ ضلع کے سمری بختیار پور میں طلاق ثلاثہ بل کے خلاف مسلم پرسنل لا کی اپیل پر اورائمہ مساجد سمری بختیار پور کے بینر تلے مسلم خواتین نے  جمعرات کو خاموش جلوس نکالا۔ شہر کے بختیارپور اسٹیٹ سے نکل کر سب ڈیویژنل آفس پہنچا۔ جلوس میں شامل ہزاروں خواتین نے اپنے ہاتھوں میں تختیاں لے رکھی تھیں جن پر طلاق بل اور مرکزی حکومت کے خلاف نعرے لکھےتھے۔ اس کے علاوہ بعض تختیوں پر آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی حمایت میں بھی نعرے لکھے ہوئے تھے۔
جلوس کے آگے بڑھنے سے پہلے خواتین کے ٹھاٹھیں مارتے ہجوم سے خطاب کرتے ہوئے معروف عالمہ محترمہ سیدہ شگفتہ یاسمین نے کہا کہ مسلم خواتین کی یہ بیداری اور ان کا یہ کامیاب جلوس اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ مسلمان سب کچھ برداشت کر سکتا ہے ، مگر اپنی شریعت میں ذرہ برابر مداخلت برداشت نہیں کر سکتا ۔ انہوں نے مرکزی حکومت پر طلاق بل کے ذریعے مسلم معاشرہ کو تہ وبالا کرنے اور مسلم خواتین سے ان کا دین چھیننے کی سازش کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ یہ ہندوستان کی تاریخ کا سیاہ باب ہے ، جسے اس ملک کے تمام انصاف پسند شہری مسلمانوں پر ظلم سمجھ رہے ہیں۔ آج کے اس احتجاج کے ذریعہ مسلم خواتین حکومت ہند سے مطالبہ کرتی ہیں کہ وہ طلاق مخالف بل واپس لے اور دستور میں دی گئی ملک کے تمام باشندوں کو ان کے مذہب پر جینے کی آزادی کو یقینی بنائے۔
جلوس میں شریک خواتین بیک زبان مرکزی حکومت کے اس بل کے خلاف نعرے لگا رہی تھیں ۔ ان کے ہاتھوں میں بل کے خلاف تختیاں اور بینر تھے ، جس پر طلاق بل واپس لوواپس لو ،شریعت میں مداخلت، نہیں چلے گی نہیں چلے گی، ہندوستان زندہ باد، مسلم پرسنل لا بورڈ زندہ با د اور اس جیسے بہت سے نعرے درج تھے ۔ سمری بختیار پور سب ڈیویژن کے کم وبیش سبھی گاؤوں اور قصبوں کی مسلم خواتین نے اس جلوس میں شرکت کی۔ جلوس نکلنے پہلے اسٹیٹ کے میدان میں خواتین کا بڑا مجمع لگا۔
 
دن کے قریب ساڑھے گیارہ بجے یہ اجلاس جلوس میں تبدیل ہو گیا۔ جلوس سمری بختیار پور  کی تاریخ میں اس اعتبار سے امتیازی حیثیت رکھتا ہے کہ سر زمین سمری بختیار پور ہی نہیں پورے سہرسہ ضلع میں صرف مسلم خواتین کا کسی مذہبی ایشوپر اس سے پہلے اتنا بڑا احتجاجی مظاہرہ نہیں ہوا تھا۔جلوس کے دوران جہاںمظاہرین کی زبان پر حکومت مخالف نعرے تھے ، وہیں امارت شرعیہ کے اس بر وقت اقدام اور مسلم پرسنل لا بورڈ کے اکابرین کی جرأت کے چرچے بھی تھے ۔ جلوس کے اختتام پرنگر پنچایت کی چیئرپرسن روشن آرا،  ڈاکٹر کوکب سلطانہ، شگفتہ یاسمین، فطرت خاتون، حافظ ممتاز رحمانی، وجیہ احمد تصوراور مظاہر عالم پر مشتمل ایک وفد نے سب ڈویژن آفس میں ایس ڈی او کی معرفت صدر جمہوریۂ ہندکوایک میمورنڈم سونپا۔
میمورنڈم :
 ’’ہم سمری بختیار پور ( سہرسہ ) کی مسلم خواتین  طلاق مخالف بل ( دی مسلم  ویمن پروٹیکشن آف رائٹس ان میرج) بل  ۲۰۱۷ جو لوک سبھا   سے ۲۸ ؍ دسمبر  ۲۰۱۷ کو پاس ہوا ہے ، اس کی زبردست مخالفت کرتے ہیں اور حکومت سے  مطالبہ کرتے ہیں کہ جلد از  جلد اس بل کو واپس  لے کیونکہ یہ بل مسلم پرسنل لاء میں کھلی مداخلت  ہے ، اور ہندوستان کے آئین کی دفعات ۱۴ ؍اور ۱۵ ؍کی صریح خلاف ورزی ہے۔
یہ بل خواتین کے خلاف ہے ، بچوں کے حقوق  کے خلاف ہے حتی کہ سماج  کے خلاف ہے کیونکہ  جب شوہر تین سال کے لیے جیل میں ہوگا تو وہ اس بل کے مطابق بیوی اور بچوں کو گزارا  بھتہ کیسے دے گا ؟  اگر وہ روزانہ مزدوری کرتا ہے تو وہ جیل میں رہ کر کس طرح بیوی بچوں کا  خرچ اٹھا ئے گا ،  اگر وہ سرکاری نوکری میں ہے تو کیا تین سال جیل میں رہنے کے بعد اس کی نوکری  برقراررہے گی ؟  نوکری چھوٹ جانے کے بعد وہ کس طرح گزارا بھتہ دے گا؟  اس کے علاوہ تین طلاق کو ثابت کرنے کی پوری ذمہ داری مسلم عورتوں پر ڈالی گئی ہے ، یہ عورتوں پر سراسر ظلم ہے ۔
ہم سبھی مسلم خواتین شریعت میں اور مسلم پرسنل  لاء میں مکمل یقین رکھتی ہیں اور اس پر عمل کرتی ہیں  اور  اس بات پر مکمل یقین رکھتی ہیں کہ اسلام میں  طلاق کا نظام مسلم عورتوںکے لیے ظلم نہیں بلکہ ان کے لیے ایک نعمت ہے ۔ ہم سبھی مسلم خواتین اس بل کی پرزور مخالف کرتی ہیں اور حکومت سے مطالبہ کر تی ہیںکہ وہ اس بل کو واپس لے کیونکہ  یہ ہندوستانی آئین ، خواتین کے حقوق اور جینڈر  جسٹس کے خلاف ہے ۔ ہم سے عدل وانصاف کیاجائے ۔‘‘
Share

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *