سرسید بڑے مصلح قوم تھے: گوپال داس نیرج

سر سید اسکول سیکولر بنیاد پر قائم کیے جائیں گے : جنرل ضمیر الدین شاہ
مسلم طلباء مقابلہ جاتی امتحانات میں شریک ہوں: برگیڈیئر سید احمد علی
قومی ماہنامہ دا علی گڑھ موومنٹ کے زیر اہتمام سرسیدکے۱۹۹؍ویں یومِ پیدائش پر قومی سمینار کا انعقاد

ضمیر الدین شاہ معروف شاعر گوپال داس نیرج کو سرسید ایکسلنس ایوارڈ ۲۰۱۶ پیش کرتے ہوئے
ضمیر الدین شاہ معروف شاعر گوپال داس نیرج کو سرسید ایکسلنس ایوارڈ ۲۰۱۶ پیش کرتے ہوئے

علی گڑھ(پریس ریلیز):سمینار کے مہمان خصوصی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے وائس چانسلر لیفٹیننٹ جنرل(ریٹائرڈ) ضمیر الدین شاہ نے کہا کہ سرسید احمد خاں نے علی گڑھ تحریک کا آغاز کیا تھا اور اس تحریک کو جاری رکھتے ہوئے قوم کے ہر فرد تک تعلیم کی روشنی پہنچانے کے لیے کوششیں کی جا رہی ہیں۔ آل انڈیا مسلم تعلیمی کانفرنس نے علی گڑھ موومنٹ کو تقویت دی تھی ،ہم چاہتے ہیں کہ یہ تحریک دوبارہ شروع ہو۔انہوں نے کہاکہ سرسید کی مہم تبھی کامیاب ہوگی جب کہ ادارے قائم ہونگے ۔ انہوں نے مدارس کے کردار کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ اب مدرسوں کی جدید کاری کی ضرورت ہے۔ مدارس میں مذہبی تعلیم کے ساتھ انگریزی اور دیگر مضامین کی تعلیم کا بندوبست کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ مدارس کے طلباء اے ایم یو کے برج کورس کے ذریعہ اپنے مستقبل کو تابتاک بنارہے ہیں۔ انہیں مختلف یونیورسٹیوں میں اچھے کورسیز میں داخلے مل رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سیکولر بنیادوں پر سرسید اسکول کھولے جارہے ہیں جن میں سے ایک مظفرنگر میں کھولا جا چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مختلف مذاہب کے لوگوں کو ایک دوسرے کے بارے میں جاننا چاہیے۔ ضمیر الدین شاہ نے مزید کہا کہ مسلمانوں کے اندر اگر قابلیت ہے تو ان کے ساتھ کوئی تعصب نہیں ہوسکتا۔ انہوں نے والدین سے اپنی لڑکیوں کو اچھی تعلیم سے آراستہ کرنے کی تلقین کی۔
اس موقع پر مہمان اعزازی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے پرو وائس چانسلر برگیڈیئر ( ریٹائرڈ)سید احمد علی نے کہا کہ سرسید کے خواب کو شرمندۂ تعبیرکرنے کے لیے نئے ادارے قائم کرنے ہونگے۔ اب طلباء پڑھنے کے لیے تیار ہیں لیکن انہیں داخلے نہیں مل پارہے ہیں۔ سرسید کا کہنا تھا کہ مسلمانوں کو انگریزی پر عبور حاصل کرنا چاہیے، اسی کے ذریعہ ان کا مستقبل تابناک ہوسکتا ہے۔ یہ آج بھی اتنا ہی ضروری ہے کیونکہ مقابلہ جاتی امتحانات میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے انگریزی پر عبور حاصل کرنا بہت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ زندگی کا کوئی شارٹ کٹ نہیں ہے محنت اور محنت محض ہی آپ کی کوششوں کو کامیاب بنائے گی ۔انہوں نے کہا کوالٹی ماڈرن ایجوکیشن کے لیے ہم آپ کو مل کر کام کرنا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ اردو زبان کے فروغ کے لیے بھی ہم نے کام کیا ہے۔

سمینار سے خطاب کرتے ہوئے ضمیرالدین شاہ
سمینار سے خطاب کرتے ہوئے ضمیرالدین شاہ

ممتاز شاعر اور اترپردیش بھاشا سنستھان کے صدر پدم بھوشن گوپال داس نیرج نے کہا کہ طلباء میں سائنسی سوچ پیدا کرنے کی ضرورت ہے تاکہ وہ اپنے مستقبل میں کامیابی کا زینہ آسانی کے ساتھ طے کرسکیں۔انہوں نے سرسید احمد خاں کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے انہیں قوم و ملت کا عظیم رہنما قرار دیا۔ گوپال داس نیرج نے اس موقع پر اپنے گیتوں کے بند پیش کرکے زندگی کے فلسفے کو بیان کیا اور کہا کہ انسان کی زندگی میں ’کرم‘ سے ہی خوشیاں آتی ہیں۔
اس سے قبل مہمانان کا خیر مقدم کرتے ہوئے سمینار کے کنوینر اور قومی ماہنامہ دا علی گڑھ موومنٹ کے مدیر اعلیٰ ڈاکٹر جسیم محمد نے کہا کہ ہمیں اس بات کا جائزہ لینا چاہیے کہ سرسید نے۱۸۷۵ء میں ایم اے او کالج کی بنیاد ڈال کر جس تعلیمی مشن کا آغاز کیا تھا کیا وہ نوجوان نسل کو فائدہ بخش رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ مختلف ایجنسیوں نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کو ٹاپ کی رینکنگ دی ہے اور یہی نہیں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اپنے کیمپس کے باہربھی اسکولوں کے قیام میں کامیاب رہی ہے۔ لہٰذا کہا جاسکتا ہے کہ ہم آج بھی سرسید کے مشن کو آگے بڑھا رہے ہیں۔
اس موقعہ پر قومی ماہنامہ دا علی گڑھ موومنٹ کی جانب سے گوپال داس نیرج اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے وائس چانسلر لیفٹیننٹ جنرل ضمیر الدین شاہ نے ادب کے میدان میں معروف قلم کارہ ڈاکٹر نمیتا سنگھ اور تعلیم نسواں کے میدان میں پروفیسر ذکیہ اطہر صدیقی کو سرسید ایکسلنس ایوارڈ۔۲۰۱۶سے سرفراز کیا۔
اس موقعہ پر گوپال داس نیرج، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے وائس چانسلر لیفٹیننٹ جنرل ضمیر الدین شاہ اورپرو وائس چانسلر برگیڈیئر سید احمد علی نے ڈاکٹر جسیم محمد کی تصنیف کردہ کتاب’’ سرسید احمد خاں اور علی گڑھ موومنٹ کا اجراء بھی کیا۔ اسی کے ساتھ ڈاکٹر جسیم محمد کی تیار کردہ دستاویزی فلم پر مبنی سی ڈی’’ یہ میرا چمن‘‘ کا اجراء کیا گیاجس کی پروگرام کے دوران نمائش بھی کی گئی۔ پروگرام میں مہمانان کو یادگاری نشانات اور شال سے سرفراز کیاگیا۔ اس کے علاوہ سرسید مضمون نویسی مقابلہ۲۰۱۶کے فاتحین کو انعامات اور شرکائے مقابلہ کو سرٹیفکیٹ سے نوازا گیا۔
پروفیسر محمد شبیر نے سمینار کے موضوع سے متعارف کرایا جبکہ’’ سوچ‘‘ تنظیم کے صدرڈاکٹر سلیم محمد خاں، یونیورسٹی انجینئر پروفیسر انور خورشید، اے ایم یو کی ایگزیکیوٹو کونسل کے سابق رکن ڈاکٹر محمد شاہد اور اے ایم یو کورٹ کے رکن پروفیسر ہمایوں مراد ،ڈاکٹر نمیتا سنگھ اور پروفیسر ذکیہ اطہر صدیقی نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔نظامت کے فرائض ڈاکٹر شیریں مسرور اور ڈاکٹر محمد فرقان سنبھلی نے بحسن خوبی نے انجام دیے جبکہ ڈاکٹر دولت رام نے حاضرین کا شکریہ ادا کیا۔
اس موقع پرصبیحہ سیمی شاہ، اے ایم یو آرٹ فیکلٹی کے ڈین پروفیسر شیخ مستان، فائنانس آفیسر ایس ایم جاوید اختر، معروف فلم ایکٹر میجر علی شاہ ، محسن حسن، مشتاق صدف، دیبا ابرار ، ڈاکٹر فاطمہ زہرہ، ڈاکٹر جی ایف صابری، محمد دلشاد، عمار خاں، محمود انصاری، اجو، شاہد اور اقبال سیفی وغیرہ بھی موجود رہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *