مرکزی وزیر مملکت برائے فروغ انسانی وسائل کے خلاف دھرنا

مسلمانوں کو دوسرے درجہ کا شہری بنانے کی ہورہی ہے سازش: پروفیسر اپوروانند

دھرنا پر بیٹھے ہوئے لوگ
دھرنا پر بیٹھے ہوئے لوگ

نئی دہلی، یکم مارچ(نامہ نگار) : مرکزی وزیر مملکت برائے فروغ انسانی وسائل رام شنکر کٹھیریا کی مبینہ اشتعال انگیز تقریر کے خلاف آج قومی راجدھانی کے جنترمنتر پر معروف سماجی کارکن شبنم ہاشمی کی سربراہی میں ایک احتجاجی دھرنا دیا گیا۔اس دھرنے میں مسلم مجلس مشاورت کے صدر نوید حامد کے علاوہ پلاننگ کمیشن کی سابق رکن سیدہ سیدین حمید، معروف عیسائی رہنما جان دیال اور جمہوری حقوق کے لیے آواز بلند کرنے کے لیے مشہور دہلی یونیورسٹی کے استاد پروفیسر اپوروانند نے شرکت کی۔

شبنم ہاشمی نے ’نیوز ان خبر‘ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ایک مرکزی وزیر کے علاوہ بی جے پی کے کئی ارکان پارلیمنٹ و اسمبلی نے گذشتہ دنوں آگرہ میں ایک تعزیتی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے مسلمانوں کے خلاف زہر افشانی کی۔ ان رہنماؤں نے کھلے لفظوں میں ہندؤوں سے مسلمانوں کو مارنے اور ان کا قتل کرنے کے لیے کہا۔ انہوں نے جس طرح کی اشتعال انگیزی کی اس سے تو یہی لگتا ہے کہ ملک میں انارکی ہے، کہیں قانون کا کوئی راج نہیں ہے۔
شبنم ہاشمی نے مزید کہا کہ بی جے پی جب سے وزیراعظم نریندر مودی کی قیادت میں برسراقتدار آئی ہے، تشدد میں لگاتار اضافہ ہورہا ہے۔ ادیبوں ، دانشوروں سے لے کر تعلیمی اداروں تک کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔ اپنے اس دھرنے کا مقصد بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس سے پہلے مظفر نگر میں بھی اسی طرح کے اشتعال انگیز بیانات دیے گئے تھے ، جس کے نتیجے میں وہاں فسادات بھڑکے اور ہزاروں افراد بے گھرکردیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ وہ آگرہ میں اس واقعہ کو دہرانے سے روکنے کے لیے آواز اٹھا رہی ہیں۔ اس سلسلے میں انہوں نے صدر جمہوریہ کو میمورنڈم بھی دیا ہے۔ اس میں صدر جمہوریہ سے مرکزی وزیر مملکت برائے فروغ انسانی وسائل کو برخاست کرنے کی مانگ کے ساتھ ہی ملک میں حالات کو بگاڑنے والی طاقتوں کے خلاف بھی قدم اٹھانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

دھرنے میں شامل مسلم مجلس مشاورت کے صدر نوید حامد نے ’نیوز ان خبر‘ سے بات کرتے ہوئے آگرہ ضلع انتظامیہ سے ان سبھی لوگوں کے خلاف مقدمہ درج کرکے قانونی کارروائی کرنے کی مانگ کی جو عوام میں خوف و ہراس پھیلانے کی کوشش کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ سب ملک میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے تانے بانے کو توڑنے کی سازش ہے۔ انہوں نے کہا کہ آرایس ایس اور بی جے پی کے رہنما اکثریتی طبقہ کو مشتعل کرکے اترپردیش میں ہونے والے آئندہ اسمبلی انتخابات میں اس کا فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں، جو ظاہر ہے نہایت ہی مذموم عمل ہے۔
اس موقع پر پروفیسر اپوروانند نے ’نیوز ان خبر‘ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ آگرہ میں جو باتیں کہی گئیں، وہ گذشتہ س۷۰۔۶۰برسوں یا اس سے بھی زیادہ عرصہ سے کہی جارہی ہیں۔ اس طرح کی اشتعال انگیز تقریروں کا واضح پیغام ہے کہ مسلمان اب اس ملک میں عزت کے ساتھ نہیں رہ سکتے۔ انہیں اگر رہنا ہے تو سر جھکا کر رہنا ہوگا۔


پروفیسر اپوروانند نے کہا کہ اس طرح کھلے عام جنگ کا اعلان کرنے والے کے خلاف کوئی اقدام کرنا تو دور اسے جرم تک نہیں مانا جارہا ہے۔ آئین کی قسم کھاکر وزارت کا قلمدان سنبھالنے والے کے ذریعہ ایسی باتیں کہنا ملک کے لیے نہایت ہی خطرناک بات ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی مسلمان نے ایسی بات کہی ہوتی تو ٹی وی چینل چلا چلا کر اس کے خلاف بول رہے ہوتے۔ ہوسکتا ہے اس کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا ہوتا اور گرفتار کرکے اسے سلاخوں کے پیچھے بھی بھیج دیا گیا ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ آگرہ میں ایک مرکزی وزیر نے جس طرح کی اشتعال انگیز تقریر کی ہے ، وہ ملک کو توڑنے والی ہے اور آئین کی صریح خلاف ورزی ہے۔ ان کے خلاف ملک دشمنی کا مقدمہ درج ہونا چاہیے۔جے این یو کے چند ایک طالب علموں کے خلاف جو مقدمہ درج کیا گیا ہے وہ دراصل ان لوگوں کے خلاف ہوناچاہیے جنہوں نے ہندؤوں کو مسلمانوں کے خلاف اکسانے کا کام کیا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *