ملک کے حالات ٹھیک نہیں ہیں

وطن عزیز ہندوستان کے حالات ٹھیک ہونے کا نام نہیں لے رہے ہیں۔ یہاں سب سے بڑی پریشانی یہ ہورہی ہے کہ حکومت کی پالیسیوں کے خلاف بولنے، لکھنے اور یہاں تک کہ سننے والوں کو وطن کے خلاف بولنے، لکھنے اور سننے والا ٹھہرایا دیا جاتا ہے۔ مرکزی حکومت کی باگ ڈور تھامنے اور ان کی حمایت کرنے والے اب تک یہ ماننے سے انکار کررہے ہیں کہ ہندوستان ایک کثیرتہذیبی ملک ہے جہاں مختلف مذاہب اور نظریات و رجحانات کے پیروکاررہتے ہیں۔ حکومت اور اقتدار میں بیٹھی بیشتر سیاسی پارٹیاں ہندوتوکو ہندوستان کی تہذیب کی صورت میں پیش کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔ بی جے پی کے رہنما سبرانیم سوامی جیسے افراد ہندوتو اور دیش بھکتی کے نام پر اپنا الو سیدھاکرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ ایک ایسے ملک میں جس کی ایک تہائی سے زیادہ آبادی خط افلاس سے نیچے گذربسر کررہی ہے، جوبرسہابرس سے مسلم کش فسادات کے سبب آج بھی ممکنہ ترقی سے بہت پیچھے ہے، وہاں ہر دوسرے دن رام مندر کا شوشہ چھوڑا جا رہا ہے۔

رام کے نام پر ہندوستان کورامائن اور مہابھارت کے دور میں لے جانے والوں کو یہ احساس ہی نہیں ہوتا کہ اس ملک میں آئین اور قانون کا راج چلے گا یا پھر سبھی اپنی اپنی ڈفلی اور اپنااپنا راگ بجاتے رہیں گے۔ دہلی یونیورسٹی میں رام مندر کے نام سمینار کرانے والوں سے یہ پوچھاجانا چاہیے کہ کیا ملک میں جس کی لاٹھی اس کی بھینس والا راج چلے گا یا پھر قانون کے مطابق کام ہوگا؟ کیا وہ یہ چاہتے ہیں کہ آج جس کے پاس طاقت و اقتدار ہے وہ جہاں چاہے، جس کی عمارت پر چاہے قبضہ کرلے، پھر کل جس کے پاس طاقت ہوگی وہ اپنی مرضی کے مطابق اپنا راستہ اختیار کرے گا۔ کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکسسٹ، سی پی ایم) کے جنرل سکریٹری سیتارام یچوری نے گذشتہ سال ۶ دسمبر کو جنتر منتر پر تقریر کرتے ہوئے کچھ اسی طرح کے سوالات اٹھائے تھے۔ انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی سے سوال کیا تھا کہ قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف وہ کیا اقدام کررہے ہیں؟

وزیر اعظم نریندر مودی کے سامنے بہت سے سوالات ہیں۔ سب سے بڑا سوال تو یہی ہے کہ وہ ’سب کا ساتھ سب کا وکاس ‘ کے نعرہ کو کب عملی جامہ پہنائیں گے؟ گجرات کا وزیر اعلیٰ رہتے ہوئے انہوں نے ٹوپی پہننے سے انکار کردیا تھا اور یہ کہا تھا کہ وہ ٹوپی کی سیاست نہیں کرتے۔ لیکن لوک سبھا کے لیے انتخابی مہم سے لے کر آج تک وہ مختلف تقریبات اور مواقع پر دوسرے مذاہب اور تہذیب و ثقافت کی پہچان والے لباس کو اکثر زیب تن کیے ہوئے نظرآئے ہیں۔ اس کی تازہ مثال گذشتہ دنوں اس وقت دیکھنے کو ملی جب وہ ایک جین مذہب کے ایک بڑے پیشوا کی کتاب کا اجرا کر رہے تھے۔ اس سے بھی صاف لگتا ہے کہ وہ ملک کی ایک بڑی آبادی کو سماجی اور سیاسی طور پر اکثریتی آبادی سے الگ رکھنا چاہتے ہیں۔یہ ملک کے لیے نہایت ہی خطرناک ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *