دیکھو مجھے جو دیدۂ عبرت نگاہ ہو!

Asfar Faridyاسفرفریدی

مغربی ایشیا کے جو حالات ہیں ، وہ صرف خطے کے عوام وخواص ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کے ذی ہوش انسانوں کے لیے بھی تکلیف دہ ہیں۔ یہ احساس ہندوستان کے نائب صدر جمہوریہ محمد حامد انصاری کے چہرے پر اس وقت صاف نظر آرہا تھا، جب وہ ۱۹؍ جنوری کو انسٹی ٹیوٹ فار ڈیفنس اسٹڈیز اینڈ اینالیسس (آئی ڈی ایس اے) کے ذریعہ منعقدہ مغربی ایشیا پر دوسری سالانہ کانفرنس کے افتتاحی اجلاس میں کلیدی خطبہ پیش کررہے تھے۔ خطے کی موجودہ صورتحال کا پس منظر بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اپنے مقاصد کو پانے کے لیے مذہب کا بڑے پیمانے پر سہارالیا گیا ہے۔ اس کی اپنے اپنے طور پر تاویل اور تعبیر کی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی اپنے ایجنڈے کو دوسروں پر تھوپنے کی کوشش کے سبب حالات بدتر سے بدتر ہوئے ہیں۔ اس میں بیرونی مداخلت نے بھی اپنا کام کیاہے۔ بحرین، یمن اور شام کے حالات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے جناب انصاری نے کہا کہ علاقائی قوتوں کے ساتھ ہی عالمی طاقتیں بھی اپنے اپنے طور سے مختلف شکل و صورت میں خطے کے نصف درجن میدان جنگ میں سرگرم عمل ہیں۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ مغربی ایشیا اور شمالی افریقہ کے بیشتر ممالک میں جہاں مطلق العنان حکومتیں ہیں، وہاں عوام اور حکومت کے درمیان کوئی ربط نہیں ہے۔ حکومتیں اپنے کاموں کے لیے جوابدہ نہیں ہیں اور ظاہر ہے کہ جب تک عوام کی خواہشوں اور ان کے مطالبات پر توجہ نہیں دی جائے گی تب تک امن و امان کی بحالی اور برقراری کا خواب پورا نہیں ہوسکے گا۔انہوں نے کہا کہ خطے کے ملکوں میں سماجی و اقتصادی ترقی کی صورتحال موجودہ حالات کے لیے ذمہ دار ہے۔ اسی کے ساتھ بیرونی مداخلت نے اسے مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مغربی ایشیاکا پرتشدد ماحول خطہ اور پوری دنیا کے لیے خطرناک ہے۔
محمد حامد انصاری کی مذکورہ باتیں کئی اعتبار سے اہمیت کی حامل ہیں۔ اول یہ کہ وہ ہندوستان کے نائب صدر جمہوریہ ہیں۔ اس لحاظ سے ان کی باتوں سے مغربی ایشیا کے تعلق سے ہندوستان کے نقطۂ نظر کا اندازہ ہوتا ہے۔ دوسرے یہ کہ وہ خطہ کے تین اہم ممالک یعنی سعودی عرب، ایران اور متحدہ عرب امارات میں ہندوستان کے سفیر کا منصب سنبھالنے کے ساتھ ہی اقوام متحدہ میں بھی ملک کی نمائندگی کر چکے ہیں۔ گویا جس خطے میں حالات پرآشوب ہیں، وہاں رہنے کے علاوہ جناب انصاری اس جگہ پر بھی رہے جہاں عالمی سیاست کے تانے بانے الجھائے اور سلجھائے جاتے ہیں۔ ہندوستان والوں کی نظر سے مغربی ایشیا اور مغربی ملکوں کے مطابق مشرق وسطیٰ کہلانے والے اس خطے میں واقع سعودی عرب، ایران اور متحدہ عرب امارات کا یہاں کے موجودہ حالات میں بہت زیادہ عمل دخل مانا جاتا ہے۔ سعودی عرب خطہ کا سب سے بڑا اور اہم ملک ہے۔ اس کے ساتھ دنیا کے بیشتر مسلم ممالک ہیں۔ ساتھ ہی اس کو اب تک امریکہ اور برطانیہ کی حمایت حاصل رہی ہے۔ یہی ممالک اسرائیل کے بھی سب سے بڑے حامی ہیں۔ اب ان ملکوں کی نظر عنایت ایران پر پڑنے لگی ہے۔ ایران کے ساتھ نیوکلیائی معاہدے کے بعد اس پر لگی اقتصادی پابندیاں ختم ہوگئی ہیں۔ اس سے ایران کا ایک نئے روپ میں ظہور ہوا ہے۔ سعودی عرب کو لگتا ہے کہ یہ سب اس کی قیمت پر ہوا ہے۔ اس لیے وہ اپنی ساکھ کو بحال کرنا چاہتا ہے۔ سعودی عرب کے حالات پر نظر رکھنے والے تجزیہ کار مانتے ہیں کہ ریاض میں حاکم تو بادشاہ سلمان ہیں اور ولیعہد کا منصب شہزادہ محمد نائف کے حصہ میں آیا ہے لیکن حکومت نوجوان وزیر دفاع اور نائب ولیعہد محمد بن سلمان کی چلتی ہے۔ ان کی منشاء کے مطابق ہی سیاست کے تانے بانے بنے جاتے ہیں۔ شہزادہ محمد بن سلمان کی سیاست کو امریکہ اور دوسرے مغربی ملکوں کے لیے اس پیغام کے طور پر بھی دیکھا جاتا ہے کہ سعودی عرب صرف ان کی حمایت کے طفیل عالم اسلام کا اہم ملک نہیں ہے بلکہ اس کی اپنی بھی اہمیت ہے۔ وہ آزادنہ طور پر بھی اپنی اہمیت بنائے رکھنے کے قابل ہے۔ سعودی عرب تیل کی دولت سے مال مال ہے۔ ایران کے پاس تیل کے علاوہ قدرتی گیس کا بڑا ذخیرہ ہے۔ اس کے ساتھ ہی وہ سائنس و ٹکنالوجی کے میدان میں آگے بڑھ رہا ہے اور مغرب کی پابندیوں کے باوجود اپنی دفاعی صلاحیتوں میں بھی خاطرخواہ اضافہ کرنے میں کامیاب رہا ہے۔ متحدہ عرب امارات نے خود کو دنیا کے ایک تجارتی مرکزکے طور پر قائم کرنے کی کامیاب کوشش کی ہے ۔
اس خطے اور دنیا بھر کی مشکلات کا ایک بڑا سبب اسرائیل کا وجود ہے۔ یہ مقبوضہ فلسطین کی سرزمین پر واقع ہے۔ محمد حامد انصاری نے اس کی طرف بھی اشارہ کیا ۔ انہوں نے کہا کہ خطے کی تاریخ میں جو چند ایک نہایت اہم موڑ آئے ہیں ان میں ۱۹۴۸میں اسرائیل کا قیام اور ۱۹۶۷ میں اسرائیل کے ہاتھوں مصر یعنی عربوں کی شکست کے علاوہ ۲۰۰۳ میں عراق پر امریکہ اور اتحادیوں کا حملہ ہے۔ مغربی ایشیا کی تاریخ کو نیا موڑ دینے والے ان تینوں برسوں کو دیکھیں تو اس میں برطانیہ اور امریکہ کے علاوہ دوسرے یورپی ملکوں کا بڑا اہم رول رہا ہے۔ فلسطین کی سرزمین پر اسرائیل کو وجود میں لانے سے پہلے برطانیہ نے خلافت عثمانیہ کا خاتمہ کرکے پورے خطے کو ان گنت حصوں میں تقسیم کرکے چھوٹی چھوٹی مملکتیں قائم کردی ۔ اس کا مقصد اسرائیل کو قائم کرنا تھا۔ دوسری بار انہوں نے اسرائیل کو تحفظ فراہم کرانے کا مقصد سے عربوں کے خلاف تل ابیب کا ساتھ دیا۔ تیسری بار عراق کو اس وقت نشانہ بنایا جب صدام حسین کے زیر حکومت بغداد مغربی طاقتوں کی ہر بات پر لبیک کہنے سے انکار کرنے لگاتھا۔
عراق کی تباہی کے بعد تیونس، مصر ، لیبیا ، بحرین، یمن اور شام کی باری آئی ۔ کہیں مغربی ملکوں نے راست مداخلت کی تو کہیں اندرون خانہ ایسی تحریکوں نے زور پکڑا جن کے نتیجے میں حکومتوں کا تختہ پلٹ ہوگیا۔ لیکن ایسے ملکوں میں مغربی طاقتوں کے ساتھ ہی ان کی ہمنوا عرب حکومتیں بھی جلدی سے حرکت میں آئیں اور وہ سب کیا جو عوام کی منشاء اور خواہشات کے خلاف ہونے کے علاوہ اسرائیل کے حق میں تھا۔ ان میں مصر میں پہلی بار جمہوری طریقے سے منتخب ہوئی صدر محمد مرسی کی حکومت کا تختہ پلٹ بھی شامل ہے۔ یمن اور شام میں بیرونی مداخلت کے پس پشت بھی عوام الناس کی خواہشوں کو دبانے اور کچلنے کی حکمت عملی کارفرما رہی ہے۔ اتفاق سے جو ممالک اور طاقتیں ان ملکوں میں جاری جنگ اور پرتشدد تحریک کے عمل میں دخیل ہیں وہ سبھی عوام اور امن وامان کی بحالی و برقراری کے حق میں کام کرنے کا دم بھرتے ہیں۔
اس سب کے درمیان مغربی ایشیا کے علاوہ دنیا کے دوسرے خطوں میں سعودی عرب اور ایران کے باہمی اختلافات کو شیعہ سنی اختلاف کی صورت میں پیش کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ کمال کی بات یہ ہے کہ اس کے لیے دونوں ممالک ایک دوسرے کو ذمہ دار قرار دیتے ہیں۔ اس سے پہلے جب ایران کے نیوکلیائی پروگرام کو بہانہ بنا کر امریکہ سمیت دوسری مغربی طاقتیں تہران پر دباؤ بنارہی تھیں تو اس وقت بھی ان کا یہی بہانہ ہوتا تھا کہ اس سے خطہ کے امن کو خطرہ لاحق ہوگا ۔ ساتھ ہی ایران کی وجہ سے عرب ممالک بھی نیوکلیائی ہتھیار حاصل کرنے کی دوڑ میں شامل ہوجائیں گے۔ اس پوری بحث کے دوران کوئی بھی مغربی ملک اس بات کا ذکر تک نہیں کرتا تھا کہ اسرائیل کے پاس ۲۰۰ سے زائد نیوکلیائی بم ہیں۔ اس کی وجہ شاید یہ تھی کہ عرب ملکوں نے بھی مغرب کی اس دلیل کو الف سے ی تک تسلیم کرلیا تھا کہ ایران کانیوکلیائی پروگرام ان کے لیے خطرہ ہے۔ اس لیے وہ ایران کو نیوکلیائی ہتھیار حاصل کرنے سے باز رکھنے کے لیے اس کے خلاف عائد پابندیاں ہٹائے جانے کی مخالفت کررہے تھے۔ مغربی ایشیا میں پرتشدد تحریکوں اور داخلی جنگوں کے علاوہ نئی سفارتی جنگ کو بھی اسی تناظر میں دیکھنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ اب اس میں خطاکس کی ہے، یہ بتانے کی ضرورت نہیں ۔ البتہ ہماری یہ کہنے کی عادت بن گئی ہے کہ اس کے پیچھے صہیونی اور مغربی طاقتوں کا ہاتھ ہے۔
(بشکریہ : روزنامہ انقلاب)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *