ساہتیہ اکادمی کے زیراہتمام چھ روزہ ’ساہتیہ اُتسو‘ اختتام پذیر

نظامی برادرس نے اپنی قوالی سے سماں باندھا، سمینار کا انعقاد
آؤ کہانی بُنیں، آمنے سامنے، محفل افسانہ اور شعری نشست کا اہتمام

????????????????????????????????????

نئی دہلی، ۲۰؍ فروری (پریس ریلیز): ساہتیہ اکادمی کے زیراہتمام چھ روزہ ساہتیہ اُتسو آج اختتام پذیر ہوگیا۔ ساہتیہ اُتسو میں گزشتہ چھ دنوں سے مختلف پروگراموں کا انعقاد کیا گیا۔ اکادمی نمائش کے افتتاح سے لے کر ’آؤ کہانی بُنیں‘ تک متعدد پروگراموں میں کم و بیش 24 ہندستانی زبانوں کی۱۷۰ سے زائد سرکردہ ادیبوں نے حصہ لیا۔ اسکولی بچوں نے بھی اپنے ہنر کے جوہر دکھائے۔ دنیا بھر میں مشہور نظامی برادران نے اپنی شاندار قوالی سے سماں باندھا۔ مشہور قوال غلام صابر نظامی اور غلام وارث نظامی نے عشق و محبت، آپسی بھائی چارہ اور باہمی اتحاد کو استحکام بخشنے والی قوالیاں پیش کیں جس سے پوری محفل گلزار ہوگئی۔ پروگرام کے آغاز میں اکادمی کے پروگرام آفیسر ڈاکٹر مشتاق صدف نے قوالی کی مختلف روایت پر روشنی ڈالی اور نظامی برادرس کا تعارف پیش کیا جبکہ سکریٹری ساہتیہ اکادمی ڈاکٹر کے سری نواس راؤ نے گلدستہ سے نظامی برادرس کا استقبال کیا اور صدر ساہتیہ اکادمی وشوناتھ پرساد تیواری نے قوالی کے انعقاد پر اپنی خوشی کا اظہار کیا اور کہا کہ قوالی فن نہیں بلکہ عبادت ہے۔ اس موقع پر چوبیس ہندوستانی زبانوں کی سرکردہ شخصیات کے علاوہ دہلی اور قرب و جوار کے نامور شعرا و ادبا موجود تھے۔

اس موقع پر گاندھی، امبیڈکر اور نہرو کے فکر و نظر پر سہ روزہ قومی سمینار کا انعقاد بھی کیا گیا جس کا افتتاح کپِلا واتسائن نے کیا۔ اکادمی کے صدر وشوناتھ پرساد تیواری نے صدارت کی۔ سمینار کے آغاز میں سکریٹری ساہتیہ اکادمی کے ایس راؤ نے مہمانوں کا خیرمقدم کیا۔ سمینار کے پہلے اجلاس کی صدارت سیتانشو یشش چندر نے کی جبکہ نندکشور آریہ، پنڈلک نارائن نائک اور انورادھا رائے نے اظہارِ خیال کیا۔ دوسرے اجلاس کی صدارت بھال چندر نیماڈے اور مالچند تیواری اور کرنال چٹوپادھیائے نے مقالے پیش کیے۔ کپل کپور، ایس ایچ شیوپرکاش اور پرشوتم اگروال نے مختلف اجلاس کی صدارت کی اور رانا نائر، این موتھو موہن، پروین پانڈیا، کے جے کمار، نیلانجنا دیو، ستیہ نارائن ساہو، ستیہ کام برٹھاکر، شری بھگوان سنگھ اور شاہباز حقباری نے مقالے پیش کیے۔ ساہتیہ اُتسو کے دوران ’غیرتحریر شدہ ہندستانی زبان‘ کے موضوع پر ایک سمپوزیم کا اہتمام بھی کیا گیا جس کی صدارت وشوناتھ پرساد تیواری نے کی اور کلیدی خطبہ مہندر کمار مشرا نے پیش کیا۔

مہمانِ خصوصی کے طور پر دیوی پرسنّا پٹنائک نے شرکت کی۔ اظہار تشکر اکادمی کے وائس چیئرمین چندرشیکھر کمبار نے پیش کیا۔ اودھیش کمار مشرا اور بھگوان داس پاٹل نے مختلف اجلاسوں کی صدارت کی اور مختلف ادیبوں نے مقالے پیش کیے۔ اس درمیان ’ترجمہ نگاری‘ پر بھی ایک سمینار کا انعقاد کیا گیا جس میں اودھیش کمار سنگھ نے کلیدی خطبہ پیش کیا اور مہمانِ خصوصی کے طور پر اندرناتھ چودھری نے شرکت کی۔ کلچرل پروگرام میں ینگ میزو ایسوسی ایشن نے ’بمبو ڈانس‘ پیش کیا اور ’آؤ کہانی بُنیں‘ پروگرام کے تحت دہلی کے اسکولی بچوں نے پنٹنگ بھی بنائے اور ڈانس بھی کیے اور کارٹون بھی بنائے۔ اس موقع پر شعر و شاعری کا مقابلہ بھی ہوا اور انعامات تقسیم بھی کیے گئے۔

دریں اثنا ساہتیہ اُتسو میں شمال مشرق اور شمالی مصنفین کی کانفرنس کا اہتمام بھی کیا گیا جس کا افتتاح لکشمی نندن بورا نے کیا اور صدارت صدر ساہتیہ اکادمی نے کی جبکہ اروند وزیر، ویریندر جین، وکرم سنپت، لائرن لکپم اور کرشن کمار طور نے اپنے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ محفل افسانہ کی صدارت ایل جے چندرسنگھ نے کی۔ شعری نشست کی صدارت لیلادھر منڈلوئی نے کی۔ ساہتیہ اُتسو میں ’آمنے سامنے‘ پروگرام کا انعقاد بھی کیا گیا جس میں ساہتیہ اکادمی ایوارڈ سے سرفراز سات مصنفین سے سرکردہ ادیبوں و دانشوروں نے بات چیت کی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *