ترقی کے لیے علم و ہنر دونوں ضروری: مفتی منظور ضیائی

بنگلور میں “علم و ہنر کانفرنس” میں سرکردہ شخصیات کی شرکت، تعلیم و ہنر کے موضوع پر مقررین کا اظہار خیال

بنگلور (تازہ ترین نیوزگروپ): بنگلور کے للت اشوک ہوٹل میں ممبئی کے مشہور ادارہ جامعتہ الزہراء ایجوکیشنل ٹرسٹ کے بینر تلے مشہور اسلامک اسکالر مفتی منظور ضیائی کی قیادت میں “علم وہنرکانفرنس” کا انعقاد کیا گیا۔ اس کانفرنس کو اپنی نوعیت کی پہلی اور تاریخی کانفرنس قرار دیا جا رہا ہے۔ کانفرنس میں پورے ملک سے تمام مذاہب و مسالک کی ایک ہزار سے زائد نمائندہ شخصیات شریک ہوئیں۔

کانفرنس کے روح رواں مفتی منظور ضیائی نے اپنے خصوصی خطاب میں کہا کہ علم میں بھی شعور ہے لیکن یہ وہ جنت ہے جس میں حور نہیں۔ انہوں نے کہا کہ کرناٹک سے ایک تحریک کی ابتدا  ہوئی ہے جو پورے ملک میں اور پوری دنیا میں اپنے اثرات مرتب کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ یہاں سے ایک ایسی تحریک کی ابتدا ہوئی ہے جسے ’علم و ہنر ‘ کہتے ہیں۔ انہوں نے علم و ہنر کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا کہ آپ علم کا پیمانہ جاننا چاہتے ہیں تو کمار وشواش کو دیکھیں اور ان کے علم کو سمجھیں اور ہنر کا پیمانہ دیکھنا چاہتے ہیں تو اظہرالدین کو دیکھیں اور ان کے ہنر کو سمجھیں۔ واللہ آپ اپنی نسلوں کو سدھار لیں گے۔  انہوں نے کہا کہ آج ہمارے پاس علم بہت ہے لیکن ہم شعور و آگہی نہ ہونے کی وجہ سے لوگ خودکشی کر لیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آپ نے کسی ہنر مند کو خودکشی کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ میں نے ممبئی و مہاراشٹر کو چھوڑ کر اس لیے بنگلور میں پروگرام کیا کہ ٹیکنالوجی بنگلور کے پاس ہے، علم بنگلور کے پاس ہے، مہارت بنگلور کے پاس، ہنر بنگلور کے پاس ہے۔ اگر اس ’علم و ہنر‘ کی شروعات بنگلور  سے نہیں ہوگی تو اور کہاں سے ہوگی؟ انہوں نے کہا کہ ہم اس ملک کی ترقی چاہتے ہیں جس کے لیے علما نے اپنے خون کو بہایا اور اپنی لاشیں درختوں پر لٹکوایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کچھ جملے ایسے ہیں جو ہمیں رات کو سونے نہیں دیتے ہیں۔ میں سوچتا ہوں کب پاکستان کو ہم دندان شکن جواب دیں گے، کب ہم چین کو آنکھیں دکھائیں گے، کب ہم یورپ اور امریکہ سے آنکھیں ملا کر بات کریں گے۔ یہ اسی وقت ممکن ہے جب ہمارے ہاتھوں میں قلم کی طاقت ہوگی۔ اگر ہم علم و ہنر شعور و آگہی پر عمل پیرا ہوں گے تب ھی ترقی ممکن ہے۔ انہوں نے تمام لوگوں کا اس موقع پر شکریہ ادا کیا جو ان کی آواز پر لبیک کہہ کر دور دراز سے سفر کرکے اس پروگرام میں شریک ہوئے۔

ہندوستانی کرکٹ ٹیم کے کپتان محمد اظہر الدین نے کہا کہ جب تک آپ علم نہیں سیکھیں گے آگے نہیں بڑھ سکیں گے۔ علم سے ہی انسان آگے بڑھ سکتا ہے۔ اگر آپ  کے پاس ہنر ہے لیکن علم نہیں ہے تو بے کار ہے۔

میزائل مین کے لقب سے مشہور ملک کے سابق صدر جمہوریہ اے پی جے عبدالکلام کے پریس سکریٹری رہ چکے ایس ایم خان نے علم کی اہمیت و افادیت پر روشنی ڈالی اور سابق صدرجمہوریہ کے واقعات سنائے کہ وہ کس طرح علم حاصل کرکے ہندوستان کے باوقار عہدے تک پہنچے۔ اس موقع پر انہوں نے اے پی جے عبدالکلام پر لکھی اپنی کتاب منظور ضیائی کو پیش بھی کی۔ انجمن منہاج رسول کے صدر مولانا سید اطہر دہلوی نے موجودہ ہندوستان میں علم و ہنر کےحوالہ سے کہا کہ اس میدان میں مسلمانوں کے پاس صلاحیت کی کمی نہیں ہے بلکہ مواقع کی ضرورت ہے۔ اس کے لیے عوامی  بیداری بیحد ضروری ہے۔ کمیونسٹ پارٹی کے ترجمان امیر حیدر زیدی نے کہا کہ ہندو مسلمان سکھ عیسائی سبھی کو حق ہے کہ وہ اپنے مذہب کا پرچار کرے لیکن پریشانی اس وقت ہوتی ہے جب کوئی کسی شریعت میں مداخلت کی کوشش کرتا ہے۔ انہوں نے طلاق ثلاثہ بل کی مخالفت کی اور کہا کہ مذہبی معاملات میں مداخلت کوئی بھی برداشت نہیں کرے گا۔ اگر میں وندے ماترم نہ بولوں تو غدار ہوجائوں یہ غلط ہے کیونکہ یہ ہمارے مذہب میں بولنا جائز نہیں ہے تو کیوں بولوں۔ انہوں نے کہا کہ آج اس پروگرام میں سبھی مذاہب و مسالک کے افراد کا جمع ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ سبھی ایجوکیشن کے لیے فکر مند ہیں۔ سبھی چاہتے ہیں کہ ایجوکیشن ملنا چاہیے جملہ بازی نہیں چاہیے۔ آج دلتوں سے مسلمان پیچھے چلا گیا کیا سرکار کی ذمہ داری نہیں بنتی کہ وہ مسلمانوں کے لیے کوئی اسکول و یونیورسٹی قائم کرے۔ انہوں نے کہا کہ ہر انسان چاہتا ہے کہ ایجوکیشن ملے علم ہو۔ ملک ترقی اسی وقت کرے گا جب عوام تعلیم یافتہ ہوں۔ انہوں نے آصفہ پر ہوئے ظلم کے بارے میں بھی آواز اُٹھائی۔ اس کانفرنس سے عام آدمی پارٹی کے لیڈر کمار وشواس، بی جے پی کے لیڈر منوج تیواری، ہیرا گروپ آف کمپنی کی نوہیرہ شیخ، امام عمیر الیاسی، راکیشن جین، ڈاکٹر ظہیر  قاضی، امیرشریعت اترا کھنڈ مولانا زاہد رضا رضوی، سابق مرکزی وزیر سی کے جعفر شریف، شاہی امام کلکتہ مولانا برکاتی، جسٹس سہیل احمد صدیقی، آچاریہ پرمود کرشنم، راکیش منی جین، مفتی اعجاز ارشد قاسمی، مجلس اتحاد المسلیمن کے ایم ایل اے وارث پٹھان وغیرہ نے بھی خطاب کیا۔ اس کانفرنس میں بڑی تعداد میں سامعین نےشرکت کی۔

Share

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *