اردو کو طعنہ دینے والوں کے منہ پر طمانچہ

معذور ماں اور ڈرائیور باپ کی بیٹی نے اردو میں بنیادی تعلیم حاصل کرنے کے باوجودا یم ٹیک میں پہلا رینک حاصل کیا ، آئی اے یس افسر بننے کی ہے چاہت

نشاط انجم اپنے والدین کے ساتھ
نشاط انجم اپنے والدین کے ساتھ

شیموگہ،یکم اپریل،(لیاقت علی) عام طور پر اردو زبان میں تعلیم حاصل کرنے والے طلباء کو ہماری قوم میں اچھوت مانا جاتاہے اور ان سے وہ امیدیں نہیں کی جاتیں جو انگلش میڈیم اسکولوں کے طلباء سے کی جاتی ہیں ، لیکن ضلع کے بھدراوتی تعلقہ کے چھوٹے سے گاؤں ویراپور کے ایک آٹوڈرائیور کی بیٹی نے جو کارنامہ کردکھایا ہے وہ اپنی مثال آپ ہے۔ ویراپور کے ساکن چاند پیراور شاہ میرہ جان جو آنکھوں کی بینائی سے معذور ہیں ان کی بیٹی نشاط انجم نے امسال ویشویشواریا یونیورسٹی میں ایم ٹیک کے تیسرے سیمسٹر میں پہلا رینک حاصل کیا ہے ۔ انہوں نے یہ ثابت کردیا ہے کہ اردو اسکولوں میں بنیادی تعلیم حاصل کرنے سے ترقی کی راہ میں رکاوٹ پیدا نہیں ہوتی بلکہ ہمارے عزائم اور بھی بلند ہوتے ہیں ۔
نشاط انجم نے اپنی ابتدائی تعلیم بھدراوتی کے قاضی محلے کے سرکاری اردو اسکول میں مکمل کی۔اس کے بعد سنچی ہونما سرکاری اسکول سے ہائی اسکول تک کی تعلیم پوری کی۔ نشاط انجم نے ایس ایس ایل سی کے امتحانات میں۸۶؍ فیصد نمبر حاصل کیے تھے۔ان کی زندگی میںیہ ایک اہم موڑ تھا۔ اس کے بعد نشاط انجم نے فیصلہ کرلیا کہ وہ ہر حال میں اعلیٰ تعلیم حاصل کریں گی ۔ پی یو سی میں بھی امتیازی نمبرحاصل کرنے کے بعد انہوں نے بی ای الیکٹریکل اینڈ الیکٹرانکس میں داخلہ لیااور اس میں بھی اعلیٰ نمبرات سے کامیابی حاصل کی ۔ آج وہا یم ٹیک کی طالبہ ہیں اور انہوں نیا یم ٹیک کے تیسرے سیمسٹر میں پہلا رینک حاصل کیا ہے ۔
نشاط انجم نے اس مشکل ترین تعلیمی سفر میں اپنے والدین کے کردار کے تعلق سے نم آنکھوں کے ساتھ بتاتے ہوئے کہا کہ میرے والدین نے مجھے ہر موڑ پر سہارا دیا ہے ، محدود وسائل کے باوجود انہوں نے کبھی مجھے تعلیم حاصل کرنے سے نہیں روکا۔ ابو کی جو کمائی ہے ،وہ ہماری تعلیم پر صرف ہورہی ہے ۔ اس کے علاوہ میں نہایت مشکور ہوں قوم کے ان اداروں کی جنہوں نے میری تعلیم میں میرا سہارا دیا ہے۔ کرناٹک زکوٰۃ فاؤنڈیشن ، مائناریٹی ڈپارٹمنٹ کی مالی امداد اور شہر کے قاضی محلہ جامع مسجد کی جانب سے بھی مجھے مالی امداد دی جارہی ہے اور یہ میری خوش نصیبی ہے کہ ہر کوئی میری ہمت افزائی کررہا ہے ۔ جتنی مدد میرے والدین کی ہے اتنی ہی مدد میرے ماموں بھی کررہے ہیں اور وہ ہر طریقے سے جہاں سے بھی مدد ملے وہ مجھ تک پہنچا رہے ہیں۔ میں چاہتی ہوں کہ تعلیم مکمل کرنے کے بعد سول سروسزامتحان کی تیاری کروں اور آئی اے یس افسر بن کر قوم کے کام آؤں ۔ جس قوم نے میری تعلیم کے لیے اتنا کچھ کیا ہے ان کا مجھ پر قرض ہے اور میں اس قرض کو اداکرنا اپنا فرض سمجھتی ہوں ۔ا یم ٹیک کا یہ میرا آخری سال ہے اورا یم ٹیک مکمل ہوتے ہی سویل سروسز امتحان کے لیے میں تیاری کروں گی اور مجھے اللہ سے امید ہے کہ وہ میری محنت کا پھل ضرور دے گا۔میرے ساتھ میرا بھائی بھی اب بی ای سال آخر کا طالب علم ہے اور وہ بھی ہر مرحلے میں نمایاں کامیابی حاصل کرتارہاہے اور بھی اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کا خواہشمند ہے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *