متنازع بیان پر شری شری روی شنکر اور غلام نبی آزاد کی صفائی

Sri Sri Ravi Shankar_Ghulam Nabi Azad

نئی دہلی، ۱۴ مارچ: مذہبی رہنما شری شری روی شنکر اور سینئر کانگریس لیڈر غلام نبی آزاد اپنے متنازع بیان کی وجہ سے پچھلے دو دنوں سے اخباروں کی سرخی بنے ہوئے ہیں۔ آج دونوں ہی رہنماؤں نے اپنے اپنے بیانات کی وضاحت کی ہے۔

شری شری روی شنکر پر الزام تھا کہ انھوں نے آرٹ آف لیونگ کے ذریعہ دہلی میں منعقدہ تین روزہ ’’ورلڈ کلچر فیسٹول‘‘ کے دوران وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ کی موجودگی میں ’’پاکستان زندہ باد‘‘ کا نعرہ لگایا۔ اس کو لے کر ان کے مخالفین سوشل میڈیا پر یہ مطالبہ کر رہے تھے کہ موجودہ مودی حکومت کو ان پر بھی ’’ملک سے بغاوت‘‘ کا مقدمہ درج کرنا چاہیے۔ تاہم، شری شری روی شنکر نے آج وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ’’دراصل، پاکستانی اسکالر مفتی محمد سعید خان نے ہفتہ کے روز ورلڈ کلچر فیسٹیول کے دوران اپنی تقریر میں ’’پاکستان زندہ باد‘‘ کہا تو میں نے اس کے جواب میں، میں نے ’’جے ہند‘‘ کہا۔‘‘

دوسری طرف سینئر کانگریس لیڈر اور رکن پارلیمنٹ غلام نبی آزاد پر الزام تھا کہ انھوں نے جمعیۃ علماء ہند کی قومی یکجہتی کانفرنس میں ’’آر ایس ایس کا موازنہ آئی ایس آئی ایس‘‘ سے کر دیا ہے۔ اس کو لے کر آر ایس ایس اور بی جے پی کے لوگ کافی ناراض چل رہے تھے۔ لہٰذا، اپنے اس متنازع بیان پر غلام نبی آزاد نے آج راجیہ سبھا میں صفائی پیش کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے آر ایس ایس کا موازنہ دہشت گرد تنظیم آئی ایس آئی ایس (داعش) سے نہیں کیا ہے، بلکہ صرف اتنا کہا تھا کہ جس طرح وہ آئی ایس آئی ایس کی مخالفت کرتے ہیں، اسی طرح آر ایس ایس کی بھی مخالفت کرتے رہیں گے۔ انھوں نے میڈیا پر اپنے بیان کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے کا الزام لگایا اور بی جے پی کے تمام اراکین پارلیمنٹ کو اپنی اُس تقریر کی سی ڈی بھی سونپی اور خاص کر وزیر اطلاعات و نشریات روی شنکر پرساد سے درخواست کی کہ وہ اسے غور سے سن لیں، پھر کوئی تبصرہ کریں۔ تاہم، راجیہ سبھا کے لیڈر آف دی ہاؤس اور وزیر خزانہ ارون جیٹلی نے کہا کہ غلام نبی آزاد سے وہ ہمیشہ یہ امید کرتے ہیں کہ وہ تہذیب کے دائرہ میں رہ کر کوئی بیان دیں گے یا بات کریں گے، لیکن اس معاملے میں ان سے کہیں نہ کہیں جانے انجانے میں غلطی ضرور ہوئی ہے۔

ویسے آج کل یہ عام بات ہو گئی ہے کہ بعض ہندی اخبارات اور خاص کر کچھ ٹی وی چینل ملک میں نفرت پھیلانے کے کاموں میں لگے ہوئے ہیں۔ ملک کے دانشور حضرات ان ٹی وی چینلوں پر پابندی لگانے کا سرکار سے مطالبہ کرتے آ رہے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *