ریاستی اسمبلی انتخابات، وقت امتحاں ہے دوستو!

top_banner_15Feb2016ممتاز میر
اپریل مئی میں تمل ناڈو ،پانڈیچری ،کیرل،آسام اور مغربی بنگال میں اسمبلی انتخابات ہونے جا رہے ہیں۔یہ انتخابات سیاسی پارٹیوں کے لیے کم اور مسلمانوں کے لیے بہت زیادہ اہمیت کے حامل ہیں کیونکہ اگر ان انتخابات میں بی جے پی کامیاب ہوتی ہے تو وہ یہ سمجھے گی کہ ملک کی اکثریت مسلمانوں اورسیکولرسٹوں پر اس کے ظلم و ستم کی حمایت کرتی ہے۔وہ یہ بھی سمجھے گی کہ اس نے حیدرآباد یونیورسٹی میں روہت ویمولا کے ساتھ اور جے این یومیں کنہیا کمار اینڈ کمپنی کے ساتھ جو کچھ بھی کیا اسے عوام درست سمجھتی ہے۔اس نے ملک میں جو عدم برداشت کا ماحول بنا کر رکھ دیا ہے وہ بھی صحیح ہے۔پھر انوپم کھیر جیسے اس کے چمچے جی بھر کر بغلیں بجائیں گے۔یہ انتخابات مسلمانوں کے لیے اس لیے بھی اہم ہیں کہ سن ۲۰۱۱ء کی مردم شماری کے مطابق کیرل اور مغربی بنگال میں مسلمانوں کی آبادی ۲۷۔۲۷ فیصد ہے تو آسام میں ۳۴؍ فیصد اور جموں وکشمیر کے بعد یہ سب سے زیادہ مسلم آبادی والی ریاستیں ہیں۔کیرل میں انڈین یونین مسلم لیگ مسلمانوں کی طاقتور سیاسی پارٹی ہے تو آسام میں مولانا بدرالدین اجمل کی آل انڈیا یونائٹڈ ڈیموکریٹک فرنٹ طاقتور اپوزیشن ہے ۔آسام کے گذشتہ فسادات اسی کو دبانے کی کوشش تھے۔مگر مغربی بنگال میں کوئی بھی مسلم سیاسی پارٹی اپنا وجود نہیں رکھتی ۔وہاں مقابلہ شاید تین سیاسی پارٹیوں کے درمیان ہوگا۔
(۱)ممتا بنرجی کی ترنمول کانگریس(۲)کمیونسٹوں اور کانگریس کا اتحاد(۳)بی جے پی ۔زیادہ اندیشہ اس بات کا ہے کہ پہلی دو سیاسی پارٹیوں کے جھگڑے میں سیکولر ووٹ تقسیم نہیں ہونگے بلکہ بری طرح تقسیم ہونگے اور اس کا فائدہ بی جے پی کو ہوگا اور غیر معمولی ہوگا۔بی جے پی کا ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ وہ بہت ساری ریاستوں میں اقتدار سے باہر ہونے کی بنا پر راجیہ سبھا میں اکثریت نہیں رکھتی۔ اگر وہ ان ریاستوں میں بھی اکثریت حاصل کرلے تو راجیہ سبھا میں بھی اسے اکثریت حاصل ہو جائے گی اور پارلیمنٹ میں من مانی کر سکے گی۔
آئندہ ماہ جن ریاستوں میں الیکشن ہے، ان میں سب سے اہم ریاست مغربی بنگال ہے۔وہاں اسمبلی کی سب سے زیادہ نشستیں ہیں۔اس کے علاوہ وہاں گذشتہ ۴۰؍ سالوں سے نہ کانگریس کی حکومت ہے نہ بی جے پی کی۔اس لیے اس دوران وہاں کوئی فرقہ وارانہ واقعہ بھی رونما نہیں ہوا،نہ چھوٹا نہ بڑا۔مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ وطن عزیز کی تمام ہی قومی پارٹیوں پر چاہے وہ کانگریس ہو یا بی جے پی ، سی پی آئی ایم ہو یا ترنمول کانگریس سب پر برہمنوں کا غلبہ ہے ۔ممتا بنرجی بھی برہمن ہی ہیں مگر وہ بہت غریب ہیں۔اسی لیے کمیونسٹوں کی چھتر چھایا میں رہتے ہوئے بھی بنگالی مسلمان ملک کی سب سے زیادہ پسماندہ برادری ہیں اور یہ ممبئی یا ملک کے دیگر بڑے شہروں میں مزدوری کرتے نظر آئیں گے۔بڑے شہروں میں گھروں میں کام کرنے والی بائیاں(عورتیں)سب سے زیادہ بنگالی ہی ملیں گی۔۱۹۷۷ء میں پہلی بار جیوتی بسو کی قیادت میں کمیونسٹوں کی حکومت قائم ہوئی تھی جو مسلسل ۳۴؍ سال قائم رہی۔یہ ایک ریکارڈ ہے۔جیوتی بسو نے کوئی فساد نہیں ہونے دیا مگر اعداد وشمار بتاتے ہیں کہ مسلمانوں کو ترقی بھی نہیں کرنے دی ۔حالانکہ ان کی کابینہ میں بڑے مہارتھی مسلمان موجود تھے۔
جیوتی بسو سن۲۰۰۰ء میں رضاکارانہ طور پر حکومت سے الگ ہوئے اور حکومت اپنے نائب بدھا دیب بھٹا چاریہ کوسونپ دی ۔بدھا دیب سے حماقت یہ ہوئی کہ انہوں نے سنگور نندی گرام میں زبردستی کسانوں کی زمین ہتھیا کر صنعت کاروں کے حوالے کرنے کی کوشش کی ۔ یہ زمینیں زیادہ تر مسلمان کسانوں کی تھی۔اس تحریک میں ۱۴؍ لوگ مارے گئے ۔ممتا بنرجی کسانوں کے حق میں بھوک ہڑتال پر بیٹھ گئیں۔۲۶ ویں دن وزیر اعظم نے مداخلت کی۔بالآخر ٹاٹا کو اپنا موٹر پلانٹ نریندر مودی کے گجرات لے جانا پڑاجو اس قت گجرات میں وزیر اعلیٰ تھے۔ہمارے نزدیک کمیونسٹوں کی ہار کی سب سے بڑی وجہ یہی حماقت تھی۔اب پھر سی پی آئی کانگریس سے اتحاد کرکے حماقت کر رہی ہے۔کانگریس کا چہرہ گذشتہ دو سالوں میں کچھ اجلا نہیں ہو سکا ہے ۔مسلمان یہ سمجھتے ہیں کہ فرقہ پرستوں کے موجودہ ابھار میں کانگریس کا بہت بڑا ہاتھ ہے ۔یہی نہیں بلکہ ٹو پارٹی سسٹم ہی کانگریس کی دین ہے۔آرایس ایس کے لوگ جتنے بی جے پی میں ہیں اتنے ہی کانگریس میں ہیں۔اس لیے کانگریس کے ساتھ اتحاد کمیونسٹوں کو فائدہ نہیں نقصان پہنچائے گا۔ہمیں کانگریس اور سی پی آئی کے اس عشق سے کچھ لینا دینا نہیں،مگر مسئلہ یہ ہے کہ اس سے مسلمانوں کی توجہ بنٹے گی۔بہت ممکن ہے کہ ووٹوں کے شکاریوں کا مقصد بھی یہی ہو۔
مغربی بنگال کی موجودہ وزیر اعلیٰ محترمہ ممتا بنرجی خود بھی برہمن ہی ہیں۔محترمہ انتہا درجہ سیماب صفت ہیں۔مغربی بنگال میں کانگریس کی کمسن ترین ایم پی بنیں۔سن ۱۹۹۱ء میں نرسمہا راؤ کابینہ میں فروغ انسانی وسائل کی وزارت کا قلمدان سنبھالا۔پھر سونیا گاندھی سے اختلافات کی بنا پر کانگریس سے الگ ہو کر ترنمول کانگریس کے نام سے اپنی الگ پارٹی بنا لی ۔اس کے بعد ۱۹۹۹ء میں این ڈی اے سے رشتہ جوڑکر پہلی بار وزیر ریل بنیں۔سن۲۰۰۰ء میں وہ اور اجیت کمار پانجہ پٹرولیم قیمتوں میں اضافے پر این ڈے اے سے الگ ہو گئے ۔مگر پھر جنوری ۲۰۰۴ء میں بغیر کسی بنیاد کے این ڈی اے کے پاس واپس آگئے۔۲۰ ؍اکتوبر ۲۰۰۵ء میں لینڈ ایکویزیشن کے معاملے پر بدھا دیب بھٹاچاریہ حکومت کے خلاف احتجاج کیا ۔۲۰۰۹ء کے الیکشن سے پہلے وہ پھر یو پی اے میں گھس گئیں۔الائنس نے بنگال میں ۲۶؍ سیٹیں جیتیں اور وہ پھر ریلوے منسٹر بن گئیں ۔پھر ۱۸؍ ستمبر ۲۰۱۲ء کو یو پی اے سے ناطہ توڑ لیا اس لیے کہ حکومت خردہ بازار بھی غیر ملکیوں کے حوالے کرنے جا رہی تھی۔بالآخر ۲۰۱۱ء میں تن تنہا کمیونسٹوں کو حکومت سے بے دخل کرکے مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ بن گئیں ۔اب جس کے پیروں میں اتنے چکر رہے ہوں، اس پر بھروسہ کیسے کیا جائے،ووٹ کسے دیا جائے؟ اس کے لیے مغربی بنگال کے عوام کو تینوں کا یعنی ترنمول کانگریس ،کمیونسٹ اور کانگریس اور بی جے پی کی کارکردگی کا تجزیہ کرنا ہوگا۔
بی جے پی کو تو جو اس کا مخصوص ووٹ بینک ہے اسے چھوڑ کر شاید ہی کوئی ووٹ دے ۔کیونکہ ان کی پچھلی دو سالہ کارکردگی تو صفر ہے۔ اس کے حوالے سے تو وہ ووٹ مانگ ہی نہیں سکتے۔کانگریس کی بھی لمبی تاریخ ہے کہ اس نے ملک میں کس طرح فرقہ وارانہ ماحول کو بڑھاوا دیا، بی جے پی یا زعفرانی پریوار کی کس طرح ہمت افزائی کرتی رہی۔کرپشن میں بھی وہ اور بی جے پی برابر کے لت پت ہیں۔کانگریس کا مغربی بنگال میں قدم جمانا اس بات کا اشارہ بھی ہوگا کہ اب اس ریاست میں بھی فرقہ پرستی بڑھے گی اور سنگھ پریوار کے لیے راستے صاف کیے جائیں گے۔کمیونسٹ لاکھ غیر فرقہ پرست سہی مگر عملاً انہوں نے بھی مسلمانوں کو پسماندہ ہی بنا کر رکھا۔ ایسے میں ممتا لاکھ نا قابل اعتبار سہی ان کے پیروں میں ہزار چکر سہی وہ یوپی اے اوراین ڈی اے کے درمیان فٹبال سہی مگر وہ فرقہ پرست ہیں نہ مسلم دشمن اور نہ کرپٹ۔وہ آج بھی انتہائی سادہ کپڑے پہنتی ہیں اور رہتی بھی سادگی سے ہیں۔اور ہمارے نزدیک فی الوقت مسلم ووٹوں کی سب سے زیادہ حقدار بھی وہی ہیں۔مسلمانوں کو کانگریس اور بی جے پی کو چھوڑ کر جس کے بھی حق میں ووٹنگ کرنا ہے، کریں مگر مکمل یکطرفہ طور پر کریں۔ان کی منتشر ووٹنگ مغربی بنگال کی بھی قسمت بدل دے گی اور خود ان کی بھی ۔
تلبیس حق وباطل کے اس دور میں حقائق تک پہنچنا بڑا مشکل ہو گیا ہے ۔نیتوں کا حال اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔سب کچھ ہونے کے باوجود آج بھی کچھ لوگ داعش کو اسلامی گروپ ہی سمجھتے ہیں۔یہی حال وطن عزیز کی سیاسی پارٹیوں کا بھی ہے۔قطعیت کے ساتھ کسی کے تعلق سے کچھ کہنا مشکل ہے ۔بس دعا کرتے رہتے ہیں کہ اللہ چیزوں کو ویسی دکھا جیسی کہ وہ فی الواقع ہیں۔
(مضمون نگار سے رابطہ: 07697376137)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *