کاش وہ نظرآئے جو ہوتا ہے!

ممتاز میر
اب یہ بات زبان زد خاص و عام ہو چکی ہے کہ جو نظر آتا ہے وہ ہوتا نہیں اور جو ہوتا ہے وہ نظر نہیں آتا۔عوام تک سچ پہنچانے کو کوئی تیار نہیں،نہ حکومت نہ اس کے کارندے اور نہ میڈیا۔میڈیا کا تو کام ہی یہ ہوتا ہے کہ جو سچ حکومت اور اس کے کارندے چھپائیں وہ اسے عوام تک پہنچائے۔مگر ہمارے عہد تک آتے آتے میڈیا بھی پیڈاورایمبیڈیڈ ہو گیا ہے اور وہ ہمیں وہ دکھاتا ہے جو ہوتا نہیں ۔

وطن عزیز میں اس کی سب سے بڑی مثال انڈین مجاہدین نامی گروہ ہے۔یہ تنظیم کہیں نظر نہیں آتی،نہ گھر ہے نہ دفتر۔نہ لٹریچر ہے نہ کارکن،مگر برسوں سے اس کے نام پر بہت کچھ ہو رہا ہے۔اور یہ صرف ہندوستان کی حالت نہیں ہے،مغرب میں بھی ایسا ہی سب کچھ ہے ۔جتنے بے خبر عوام ہمارے یہاں ہیں اتنے ہی بے خبر عوام مغرب کے سرخیل امریکہ کے بھی ہیں۔نصف صدی گذر چکی ہے مگر آج تک کسی نے یہ جاننے کی کوشش نہیں کی کہ ان کے سب سے ہر دلعزیزاور مشہور صدر جان ایف کنیڈی کے قتل کی سازش کس نے کی تھی ۔ہندوستان کے کم و بیش سارے بڑے صحافیوں کو یہ بات معلوم ہے مگر نہیں معلوم تو امریکیوں کو۔۱۱؍۹ حملوں کا ذمہ دار کون تھا؟ مسلمانوں کے ملوث ہونے والی باتوں کی دھجیاں تو خود امریکی محققین اڑا چکے ہیں۔پھر ابتدا میں جہاز اڑا نے والے جن سعودیوں کے نام لیے گئے تھے وہ بعد میں زندہ ثابت ہوئے۔یہ بھی طے ہے کہ یہودیوں کو پہلے ہی سے ان حملوں کا علم تھا۔مگر آج تک کسی نے یہ نکتہ نہیں اٹھایا کہ ان کو قبل از وقت کیسے علم تھا؟ اس پر کبھی کہیں کوئی جلسہ جلوس ریلی احتجاج نہیں ہوا،’’کینڈل نہیں جلیں ‘‘کہ امریکی حکومت نے تفتیشی ایجنسیوں کے کام کو نا ممکن بنا دیا تھا۔ٹوئن ٹاورس کی تعمیر میں استعمال ہونے والا فولاد فوراً ریپروسیس کرکے ملک سے باہر کیوں بھیج دیا گیا؟یہی حال وطن عزیز کا بھی ہے ۔ پارلیمنٹ حملہ اورممبئی کا ۲۶؍۱۱گورنمنٹ اسپانسرڈ ہونے کی بات خود اندر کا آدمی قبول کر چکا ہے۔مہاراشٹر کے سابق آئی جی جناب ایس ایم مشرف اور’گوڈسے کی اولاد‘ کے مصنف سبھاش گتاڈے بھی اپنی کتابوں میں حکومتی کہانیوں کی دھجیاں اڑا چکے ہیں۔ اکشر دھام حملے کے ملزمین کو بھی عدالت رہا کر چکی ہے۔

ان حالات میں فرانس میں جو کچھ ہو رہا ہے اس پرمیڈیا اور حکومت کی کہانیوں پر یقین کرنا مشکل ہے۔ہم یہ تو نہیں کہتے کہ داعش یا القاعدہ ایسا کر نہیں سکتیں مگر ان کا نام لے کر مسلمانوں کو کارنر کرنا فائدہ مند ثابت نہیں ہوگا۔دنیا میں اس سے پہلے ایسے واقعات بہت ہوئے ہیں جن کا ذکر ہم آئندہ سطور میں کریں گے۔ہم سمجھتے ہیں کہ صرف مسلمان ہی اللہ سے یہ دعا مانگتے ہونگے کہ بار الٰہا!ہمیں چیزوں کو ویسی ہی دکھا جیسی کہ وہ فی الواقع ہیں۔
اس کے باوجود کوئی دعویٰ نہیں کیا جاسکتا۔خامی تو ہم میں ہو ہی سکتی ہے۔تلبیس حق و باطل کی یہ بیماری کوئی نئی نہیں ہے۔پہلے بھی ایسا ہوتا رہا ہے ۔ہر طاقتور نے کمزور کو دبانے کے لیے یہی کچھ کیا ہے۔ذیل میں ہم چند اور واقعات کا ذکر کرتے ہیں۔اس میں وہی قومیں ملوث ہیں جو آج اپنے آپ کو مہذب کہتی ہیں ۔جو کہتی ہیں کہ ہم تہذیب یافتہ قوم ہیں اور مسلمان ہماری تہذیب سے خوفزدہ ہیں۔

(۱)سوویت یونین کے مشہور لیڈر نکیتا خرشیف نے تحریراً اس بات کا اعتراف کیا تھا کہ سوویت فوج نے ۱۹۳۹ میں روسی دیہات پر خود بمباری کی تھی تاکہ فن لینڈ پر الزام لگا کر اس کے خلاف فوج کشی کی جا سکے۔(۲)۱۹۳۱ میں جاپانی دستوں نے اپنے ہی ملک میں ٹرین ٹریک پر دھماکہ کر کے الزام چین پر لگایا اور اس پر حملہ کر دیا۔ بعد ازاں انکشاف ہوا کہ یہ کام جاپانی فوج کا تھا۔(۳)اسی طرح ہٹلر کے دور حکومت میں یہی تیکنک نازی بھی اپناتے تھے ۔وہ یہ کام کبھی پولینڈ پر قبضہ کے لیے کرتے تھے کبھی کمیونسٹوں کو بدنام (جیسے آج مسلمانوں کو کیا جا رہا ہے) کرنے کے لیے ۔ایسے ہی بیسیوں واقعات انٹرنیٹ پر تلاش کیے جا سکتے ہیں۔(۴)برطانوی حکومت اس بات کا اعتراف کر چکی ہے کہ ۴۸۔۱۹۴۶ کے درمیان اس نے یہودیوں سے بھرے پانچ جہاز بمباری کر کے ڈبو دیے تھے ۔یہ یہودی یورپ سے موت کے خوف سے فرار ہو کر فلسطین جا رہے تھے۔اس بمباری کی ذمہ داری برطانیہ ہی کے قائم کردہ ایک جعلی جہادی گروپ ڈیفینڈر آف عرب فلسطین نے فوراً قبول کرلی تھی ۔اس واقعہ کا تذکرہ حال ہی میں شائع ممتاز برطانوی مؤرخ کیتھ جیفرے کی کتاب میں موجود ہے۔پیرس واقعہ سے اس کی مشابہت پر توجہ کیجیے۔

پیو ریسرچ سینٹرکے ۲۰۱۰ کے اعداد و شمار کے مطابق یورپی ممالک جرمنی میں ۴۱؍ لاکھ اور فرانس میں ۳۶؍ لاکھ مسلمانوں کی آبادی ہے۔کچھ حضرات یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ مسلم آبادیاں اس سے کہیں زیادہ ہیں جتنی بتائی جاتی ہے۔پھر چند برسوں میں یورپ میں ایک طرف یہودیوں سے نفرت یا ناراضگی میں اضافہ ہوا ہے تو دوسری طرف فلسطینیوں سے ہمدردی میں۔بات اسرائیل کے مخصوص علاقوں میں بنی اشیاء کے بائیکاٹ تک پہنچ چکی ہے۔اسرائیلی حکومت ،فوج اور ایجنسیا ں ان یورپی اقدامات پر انتہائی برافروختہ ہیں اور ہر سطح پر اس کا اظہار کر رہی ہیں۔فرانس میں یہودیوں کے خلاف مظاہرے بھی ہوئے ہیں۔کیا ایسا نہیں ہو سکتا کہ پیرس میں ہونے والے پے در پے حملے یہودی حکمت عملی کا حصہ ہوں۔اس طرح وہ مسلمانوں کے خلاف ماحول بنا کریہودی ہمدردی میں اضافہ نہ سہی فلسطینی ہمدردی میں کمی کرنا چاہتا ہو ۔

اب داعش کو لے لیجیے۔آج تک بحیثیت مجموعی مسلمانوں نے داعش کو اپنا نہیں سمجھا۔سب یہ سمجھتے ہیں کہ یہ امریکہ کی کھڑی کی ہوئی کٹھ پتلی ہے جیسے کہ ڈیفینڈر آف عرب فلسطین تھے،اور کثیرالمقاصد کام انجام دے رہی ہے۔ان کی ابتدا اور طالبان کی ابتدا میں کوئی فرق نہیں ہے۔ طالبان کو جب کھڑا کیا گیا تھا تو وہ بھی افغانستان میں بڑی آسانی سے فتوحات حاصل کرتے چلے گئے تھے۔مگر بعد کے حالات سے پتہ چلا کہ وہ خود استعمال نہیں ہوئے تھے انہوں نے اپنے مقاصد کے لیے امریکہ کو استعمال کیا۔طالبان نے جو سبق دیا تھا، لگتا ہے وہ داعش کی منصوبہ بندی کرتے وقت ذہن میں رکھا گیا۔اس لیے اب داعش کو ہر اس مسلم گروہ کے خلاف استعمال کیا جا رہا ہے جو مسلمانوں کے لیے مفید ثابت ہو سکتا ہے ورنہ طالبان اور ترکی پر حملے مسلمانوں اور اسلام کی خدمت تو نہیں ہو سکتی ۔سعودی عرب جیسے کمزور اور ’’شریف ‘‘ ملک کو دھمکیوں کی کیا وجہ ہو سکتی ہے ؟ اسی تناظر میں پیرس حملے سے داعش کے تعلق کو دیکھا جا نا چاہیے۔

ایک اور پہلو ہے کہ جس پر سوچ سوچ کر بہت حیرت ہوتی ہے ۔وہ ہے ہر اس طرح کے حملے کے وقت متعلقہ ملک کی سراغ رساں ایجنسیوں کا فیل ہوجانا۔یہ ہر جگہ ہوتا ہے ،ہندوستان ہو یا امریکہ،فرانس ہو یا برطانیہ ۔اور اس پر گنے چنے لوگوں کے سوا کوئی سوالات کھڑے نہیں کرتا ۔ حکومت کارویہ تو ایسا ہوتا ہے جیسے یہ ایجنسیوں کے فرائض کا تقاضہ ہو اور میڈیا اور عوام ٹک ٹک دیدم دم نہ کشیدم کی تصویر بنے رہتے ہیں،بلکہ اکثر میڈیا ایجنسیوں کی ہاں میں ہاں ملاتا ہے۔امریکہ تو پہاڑوں پر رینگنے والی چیونٹی کو بھی دیکھنے کا دعویدار ہے ۔کم و بیش یہی حال یورپی ایجنسیوں کا بھی ہے ۔امریکہ مختلف ممالک کے تعلق سے الرٹ بھی جاری کرتا رہتا ہے ۔وہ سیاحوں کو یہ بتانا بھی اپنا فرض سمجھتا ہے کہ کہاں کا سفر کیا جائے اور کہاں کا نہیں۔خود فرانس کی خفیہ سروسز کے تعلق سے ہم حسن ظن رکھتے تھے۔دوران تعلیم ایک ناول پڑھ لیا تھا دی ڈے آف جیکل جو جنرل چارلس ڈیگال کے قتل کی سازش پر مبنی تھا اور اس میں فرنچ خفیہ سروسز کی کارکردگی کو بہت ہائی لائٹ کیا گیا تھا۔مگر اس قسم کے معاملات میں حفاظتی دستوں کے فلاپ ہو جانے کے باوجود ان کی جواب دہی طے نہیں کی جاتی۔ اپنے خلاف ان تمام سازشوں کے جواب میں مسلمان تو صرف یہی کہہ سکتے ہیں کہ ’ومکروا مکراللہ واللہ خیرا لماکرین‘۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *