طلاق ثلاثہ بل کے خلاف خواتین کے احتجاج کو اب روک دینی چاہیے… مولانا محمد ولی رحمانی


نئی دہلی:۲؍اپریل (پریس ریلیز) گذشتہ دو ماہ سے آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈکی آواز پر پورے ملک میں مرکزی حکومت کے مجوزہ طلاق ثلاثہ بل پر ہماری بہنوں اور بیٹیوںنے جس سرگرمی کے ساتھ تحفظ شریعت کی خاطر شرعی دائرے میں رہ کر پرامن اور خاموش طریقہ پر اپنے گھروں سے نکلیں اور سراپا احتجاجی جلوس کی شکل میں پیدل چل کر سرکاری آفسوں تک پہونچیں اور شریعت پر مضبوطی کے ساتھ عمل پیرا ہونے کا عہد لیا، اور شریعت میں حکومت کو مداخلت سے دور رہنے کے سلسلہ میں اپنی عرضداشت پیش کی ہے وہ قابل مبارک باد ہے اور ان کے اس اقدام اور دین متین کی حفاظت و سربلندی کے اس جذبہ کی جس قدر تحسین کی جائے وہ کم ہے میں دل کی گہرائیوں سے تمام بہنوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں ۔ خواتین کے مظاہرہ کا یہ سلسلہ اب روکا جاتا ہے یہ سلسلہ ۴؍اپریل ۲۰۱۸ء تک رہے گا۔ ان خیالات کا اظہار آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے جنرل سکریٹری حضرت مولانا محمد ولی رحمانی صاحب نے اپنے ایک بیان میں کیا، انہوں نے مزید فرمایا کہ خواتین کی طرف سے پورے ملک میں جس پیمانے پر اس احتجاجی جلوس کو منظم کیا گیا یہ آزاد ہندوستان کی تاریخ میں ایک نئے باب کا اضافہ کرتا ہے۔ ہم اپنی بہنوں اور بیٹیوں سے کہنا چاہتے ہیں کہ اس موقع پر ہر علاقہ میں جو خواتین سرگرم رہیں ہیں ان پر مشتمل ایک تحفظ شریعت کمیٹی کی تشکیل دیکر اصلاح معاشرہ کا کام کیا جائے اورجس طرح خواتین نے حوصلہ، جذبہ ہمت اور دین سے وابستگی کے ساتھ احتجاجی مظاہرہ میں سرگرم حصہ لیا اسی حوصلہ کے ساتھ علاقائی سطح پر بھی تحفظ شریعت کمیٹی کی تشکیل کرکے کام کیا جائے۔اس سلسلہ میں آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈکی خواتین ونگ کی سربراہ ڈاکٹر اسماء زہرا صاحبہ حیدرآباد سے رابطہ کرکے خواتین اصلاحی کاموں کو مؤثر طریقہ پر آگے بڑھاسکتی ہیں ۔حضرت مولانا محمد ولی رحمانی صاحبجنرل سکریٹری بورڈ نے فرمایا کہ ۴؍اپریل ۲۰۱۸ء کو دہلی میں خواتین کا مظاہرہ ہے اور اسے کامیاب بنانا ہم سب کی ایمانی اور اخلاقی ذمہ داری ہے اور دہلی و قرب و جوار کے تمام بہی خواہان ملت سے بھی ہمدردانہ درخواست کی ہے کہ اپنے اپنے محلوں کی خواتین کو اس مظاہرہ میں زیادہ سے زیادہ تعداد میں شریک کرانے کی کوشش کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *