جے این یو میں اے بی وی پی کا پتلا نذر آتش

دہلی یونیورسٹی کے پروفیسر ایس این سائیں بابا پر حملہ کی شدید مذمت
بی جے پی کے لوگ جے این یو میں آکر غنڈہ گردی کر رہے ہیں، ۹؍ فروری کو بھی یہی لوگ آئے تھے: کنہیا

ABVP Effigy
نئی دہلی، ۲؍ مئی (حنیف علیمی) جواہرلال نہرو یونیورسٹی کے ایڈمنسٹریشن بلاک پر آج طلبہ کے ایک گروپ نے بی جے پی کی طلبہ شاخ اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد (اے بی وی پی) کا پتلا نذر آتش کیا۔ اے بی وی پی کے حامی طالب علموں نے اس کی شدید مخالفت کی اور ایک وقت ایسا بھی آیا جب ماحول کے خراب ہونے تک کی نوبت آگئی، لیکن جے این یو ایس یو کے صدر کنہیا کمار کے سمجھانے پر دوسرے گروپ کے طالب علموں نے سمجھداری کا ثبوت پیش کیا اور حالات کو پرامن بنائے رکھنے میں کامیاب رہے۔
اس موقعہ پر کنہیا کمار نے کہا کہ جے این یو کے طلبہ اے بی وی پی کا ساتھ نہیں دے رہے ہیں، اس لیے یہ لوگ باہر کے لوگوں کو لاکر یونیورسٹی کا ماحول خراب کر رہے ہیں، لیکن ہماری پوری کوشش ہے کہ ہم ایسا نہیں ہونے دیں گے۔ ان کا کام صرف دنگے فساد کرانا اور لوگوں کے ساتھ مارپیٹ کرنا ہے تاکہ ہم اصل سوالات کو چھوڑ کر ان کے ساتھ لڑائی میں اتر جائیں۔ یو جی سی معاملے میں بھی ان لوگوں نے بد تمیزی کا پورا ثبوت پیش کیا تھا اور وہاں بھی ہمارے ساتھ مار پیٹ کی تھی۔ آج بھی ان لوگوں نے بھارت ماتا کی جے کے نعرے لگاتے ہوئے کچھ طالبات کے ساتھ بد تمیزی کی ہے۔ یہ ہمیں مار سے نہیں ڈرا سکتے، کیونکہ اس ملک کی آزادی میں ہم انگریزوں سے پٹ چکے ہیں اور آج ملک کو بچانے کے لیے اُن کے پٹھوؤں سے بھی پٹ رہے ہیں۔

واضح ہو کہ کنہیا کمار کے جیل سے رہا ہونے کے بعد ان پر کئی بار حملے ہو چکے ہیں۔ اس وقت جے این یو میں ۱۹؍ طلبہ پچھلے پانچ دنوں سے اپنے ان ساتھیوں کی حمایت میں بھوک ہڑتال پر بیٹھے ہوئے ہیں جن کو انتظامیہ نے ۹؍ فروری کے معاملے میں قصوروار ٹھہراتے ہوئے جرمانہ اور اخراج کا نوٹس دیا ہے۔ طلبہ کا کہنا ہے کہ اس تفتیشی کمیٹی میں سارے لوگ آر ایس ایس اور بی جے پی کے ہیں، اس لیے ہم اس کا بائیکاٹ کرتے ہیں۔ طلبہ نے گذشتہ دنوں انتظامیہ کی طرف سے جاری اس نوٹس کو بھی نذر آتش کیا تھا جس میں انربان بھٹاچاریہ اور عمرخالد سمیت پانچ طالب علموں کو قصوروارٹھہراتے ہوئے سزا کا فرمان سنایا تھا۔ اس موقعہ پر دہلی یونیورسٹی کے پروفیسر ایس این سائیں بابا کی اہلیہ وسنتھا کماری نے بھی تقریر کی۔
JNUSU protests
یاد رہے کہ سائیں بابا کو حال ہی میں بغیر کسی شرط کے جیل سے رہا کیا گیا ہے۔ ان پر نکسلیوں سے تال میل کا الزام تھا اور پچھلے دو سال سے جیل میں تھے۔ وسنتھا نے کہا کہ یہ حکومت ہر اس انسان کے خلاف ہے جو غریبوں، آدیواسیوں ،مزدوروں اور عورتوں کے لیے لڑتا ہے۔ آج آدیواسیوں کو مارا جا رہا ہے، ان کو گھروں میں زندہ جلایا جا رہا ہے اور زبردستی ان کو مجبور کیا جاتا ہے کہ اپنی جنگل اور زمین کی مانگ کو بند کردیں۔ ایسے حالات میں ان سے کوئی یہ نہیں پوچھتا کہ کھانا کتنے وقت مل رہا ہے؟ بلکہ بھارت ماتا کی جے کی مانگ کی جاتی ہے! ان کے کھانے کے لیے ایک وقت کی روٹی نہیں دے سکتی حکومت تو کیسے اچھے دن ہیں یہ؟ وہاں سے جرنلسٹ اور سماجی کارکن کو بھگا دیا گیا۔ اسی یز کو جب سائیں بابا نے یہ سوال عالمی سطح پر اٹھایا تو ان پر غداری کا الزام لگا دیا۔ آج وہ ایک ہاتھ سے معذور ہیں، وہ کھڑے نہیں ہو سکتے، صرف وھیل چیئر پر چل سکتے ہیں۔ پھر بھی حکومت نے ان پر خلل انتظام کا بہانہ بناکر دہلی یونیورسٹی میں داخلہ پر پابندی لگا دی ہے۔ واضح ہو کہ دہلی یونیورسٹی کے رام لال آنند کالج میں اے بی وی پی کے حامی کچھ طلبہ نے پروفیسر سائیں بابا پر حملہ کیا تھا، اسی کی مذمت میں آج جے این یو میں اے بی وی پی کا پتلا نذر آتش کیا گیا۔اس موقہ پر انربان، عمر خالد اور راما ناگا نے بھی طلبہ کے سامنے اپنی بات رکھی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *