خواب سے بڑی ہے جشن ریختہ کی تعبیر: سنجیو صراف

نئی دہلی، ۱۴؍ فروری (نامہ نگار) : مرحوم سابق صدر جمہوریہ اے پی جے عبدالکلام اکثر خواب دیکھنے کے لیے لوگوں کو تحریک دلایا کرتے تھے۔ ان کا ماننا تھا کہ خواب دیکھنے ہی سے حقیقت میں اس کی تعبیر کا امکان ہوتا ہے، ریختہ فاؤنڈیشن کے بانی سنجیو صراف نے بھی ایک خواب دیکھا تھا، اردوتہذیب کا جشن منانے کا۔ سنجیو صراف کہتے ہیں کہ انہوں نے جو خواب دیکھا تھا، حقیقت اس سے بھی کہیں زیادہ حسین اور خوشگوار ہے۔ جشن ریختہ کے تیسرے اور آخری دن ’نیوز ان خبر‘ سے بات کرتے ہوئے انہوں نے مسکراتے ہوئے کہا کہ فی الحال وہ جس حقیقت کا سامنا کررہے ہیں، وہ خواب جیسا لگ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں نے جس جوش وجذبے کے ساتھ اردو کے اس منفرد جشن میں حصہ لیا، وہ ان کے خواب وخیال سے زیادہ ہے اور اس لیے ابھی وہ اس کا بھرپور لطف اٹھارہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ جہاں تک اردو زبان انہیں لے جائے گی وہ وہاں تک جائیں گے۔ یہ سفر اب تک نہایت کامیاب رہاہے اور آگے بھی وہ اردو کے ساتھ بڑھتے رہیں گے۔

جشن ریختہ کے اہتمام کے لیے نوجوان ادیبوں اور شاعروں نے بھی پرجوش انداز میں ریختہ فاؤنڈیشن اور اس کے بانی سنجیو صراف کے ساتھ ہی پوری ٹیم کی تعریف کی۔ ’نیوز ان خبر‘ سے بات کرتے ہوئے انگریزی، ہندی اور اردو کے معروف شاعر یسین انور نے کہا کہ اس جشن کے ذریعے ریختہ نے اردو زبان وادب کے ساتھ ہی اردو تہذیب کو بھی ایک بلند مقام پر پہنچا دیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اردو زبان کو ، اس کے ادب کو اور اس کی تہذیب کو ایک طرح سے لوگ بھولتے جا رہے تھے ، لیکن جشن ریختہ نے عام لوگوں کو اردو زبان وادب کے ساتھ ہی اردو تہذیب سے روبرو کرانے کا کام کیا ہے جو ظاہر ہے بہت بڑا کام ہے۔ اس کے لیے سنجیو صراف اور ان کی پوری ٹیم لائق مبارکبا د ہے۔ یسین انور نے کہا کہ جشن ریختہ اردو کے حوالے سے اتنا بڑا نام ہوگیا اور اس نے اتنا بڑا کام کیا ہے کہ اب جشن ریختہ کا ریکارڈ جشن ریختہ ہی توڑ سکتا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ریختہ پوری آب وتاب کے ساتھ اپنا یہ شاندار سفر آئندہ بھی جاری رکھے گا۔
اردو کے مختلف رنگ وآہنگ سے سجا جشن ریختہ آج اختتام پذیر ہوگیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *