تصوف لباس یا حلیہ نہیں بلکہ عمل کا نام ہے: پروفیسرغلام یحیی انجم

شعبۂ فارسی، جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی کی جانب سے پانچویں توسیعی خطبہ کا انعقاد

(بائیں سے دائیں پریس ڈاکٹر سید کلیم اصغر، پروفیسر غلام یحیی انجم، پروفیسر سید محمد عزیز الدین، پروفیسر عراق رضا زیدی اور پروفیسرعبد الحلیم)
(بائیں سے دائیں ڈاکٹر سید کلیم اصغر، پروفیسر غلام یحیی انجم، پروفیسر سید محمد عزیز الدین، پروفیسر عراق رضا زیدی اور پروفیسرعبد الحلیم)

نئی دہلی، ۲۲؍ مارچ (پریس ریلیز) شعبۂ فارسی، جامعہ ملیہ اسلامیہ کی جانب سے شعبہ کے سمینارہال میں پانچویں توسیعی خطبہ کا انعقاد ’’تصوف اور اس کی معنویت‘‘ کے عنوان سے ہوا۔یہ خطبہ جامعہ ہمدرد کے شعبۂ اسلامک اسٹڈیز کے صدر پروفیسر غلام یحیی انجم دیا۔ انہوں نے اپنے خطاب کے دوران کہا کہ تصوف صرف لباس یا حلیہ بنا لینے کا نام نہیں بلکہ عمل کا نام ہے۔انہوں نے تصوف کو چارمراحل میں تقسیم کیا۔۱ول: شریعت و علم دینی یعنی دین کی سمجھ، دوم: طریقت یعنی احکام دین کی پیروی، سوم: معرفت یعنی تزکیہ نفس و تزکیہ قلب، چہارم: حقیقت یعنی ان تینوں مراحل سے گذرنے کے بعد انسان کوذات خدا کی حقیقت معلوم ہوتی ہے۔

اس توسیعی خطبہ میں مہمان خصوصی کے طور پرشریک پروفیسر سید محمد عزیز الدین ،شعبۂ تاریخ و ثقافت، جامعہ ملیہ اسلامیہ،نے کہا کہ میرے اعتبار سے تصوف کے حوالے سے خطبات منعقد کرانے کاشعبۂ فارسی زیادہ مستحق ہے، اس لیے کہ اکثر صوفی ادب فارسی کے ذریعہ ہم تک پہنچا ہے وہ چاہے بصورت نظم ہو یا بشکل نثر۔اس کے ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ۱ ۲؍ ویں صدی میں تصوف پر عمل آوری مشکل ضرور ہے لیکن نا ممکن نہیں۔انہوں نے حضرت علی ؑ کے خطبہ کا حوالہ دے کر کہا کہ جتنی سخت زندگی میں گذار رہا ہوں تم نہیں گذار سکتے، لوگوں کو چاہیے کچھ تو میرا اتباع کریں۔
توسیعی خطبہ کی صدارت کررہے شعبۂ فارسی، جامعہ ملیہ اسلامیہ کے صدر، پروفیسر عراق رضا زیدی نے اپنے صدارتی کلمات میں کہا کہ کشف المحجوب کے باب اول میں علم کے حوالے سے بحث کی گئی ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ تصوف میں علم و عمل پر زور دیا گیا ہے اور ہمارے طلباء کو چاہیے کہ علم کے ساتھ ساتھ عملی زندگی بسر کریں۔آخر میں پروفیسرعبد الحلیم نے مہمانوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ آج کا یہ خطبہ اس دور کی ضروریات کو پیش نظررکھتے ہوئے ہمارے طلاب کے لیے نہایت مفید ہے ۔ہم پروفیسر انجم کے نہایت شکرگذار ہیں۔ساتھ ہی انہوں نے طالب علموں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ تصوف کے ذریعہ شخصیت کی تعمیر ہوتی ہے اور انسانیت و اخوت پیدا ہوتی ہے، لہذاانہیں چاہیے کہ اپنی زندگی میں تصوف کو جگہ دیں۔

شعبۂ فارسی، جامعہ ملیہ اسلامیہ کے زیر اہتمام منعقدہ اس پانچویں توسیعی خطبہ کا آغاز بی اے کے طالب علم محمد ضیاء اللہ کی تلاوت کلام پاک سے ہواجبکہ نظامت کے فرائض ڈاکٹر سید کلیم اصغر،کو آرڈینیٹرتوسیعی خطبات نے بحسن و خوبی انجام دیے۔ پروگرام میں ڈاکٹر سرفراز احمد، ڈاکٹر اورنگ زیب عالمگیر، ڈاکٹر زہرہ خاتون، ڈاکٹر حسین الزماں، ڈاکٹر احمد حسن، ڈاکٹر وہاج اشرف، ڈاکٹر فضل الرحمان تمنا، علی ظہیر نقوی، یاسر عباس غازی اورمغیث احمد نے شرکت کی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *