سپریم کورٹ کا رام جنم بھومی کے حق میں فیصلہ

بابری مسجدحق اراضی ملکیت سے مسلمان بے دخل۔مسجد کے لیے ایودھیامیں کسی دوسری جگہ پانچ ایکڑزمین فراہم کی جائے گی۔


سہرسہ(جعفرامام قاسمی)ہندوستان کی تاریخ کے سب سے قدیم اوربڑے مقدمہ پرطویل انتظارکے بعدسپریم کورٹ کافیصلہ آچکاہے۔جس میں “بابری مسجد-رام مندرتنازع” پررام جنم بھومی نیاس کے حق میں فیصلہ سناکر مسلمانوں کی ملکیت کادعوی خارج کردیاگیاہے۔ چیف جسٹس رنجن گگوئی نے فیصلہ پڑھتے ہوئے کہاکہ متنازع اراضی “رام جنم بھومی نیاس”کودی جاتی ہے’سرکارٹرسٹ بناکروہاں مندرتعمیرکرے۔دلیل پیش کرتے ہوئےانہوں نے کہا کہ مسلمان اپنی ملکیت کادعوی ثابت کرنے میں ناکام رہے’دوسری دلیل کےطورپرانہوں نے ایس آئی کی رپورٹ کاحوالہ دیاجس میں اس بات کاثبوت پیش کیاگیاہے کہ بابری مسجدکی تعمیرخالی جگہ پرنہیں ہوئی تھی وہیں دوسری طرف انہوں نے اس بات کابھی ذکرکیاکہ اے ایس آئی کی رپورٹ میں صاف طورپریہ مذکورنہیں ہے کہ مندرتوڑکرمسجد کی تعمیرہوئی ہے۔تاہم چیف جسٹس نے فیصلہ پڑھتے ہوئے اس بات کاذکرکیاکہ 1949تک بابری مسجد میں نمازہوتی رہی ہے۔اس لیے حکومت مسلمانوں کومسجد کے لیےتین ماہ کے اندرایودھیاہی میں 5ایکڑ زمین فراہم کرے۔

واضح رہے کہ سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ پرمشتمل ججوں کے اس مشترکہ تاریخی فیصلے کو صبح کے ساڑھے دس بجے چیف جسٹس رنجن گگوئی نے پڑھناشروع کیا۔انہوں نے سب سے پہلے متنازع اراضی سے شیعہ وقف بورڈ کی حق ملکیت کادعوی خارج کیا۔اس کے بعد انہوں نے دوسرے فریق نرموہی اکھاڑاکی حق ملکیت کابھی دعوی خارج کردیا۔

بعدازاں متنازع ساری اراضی پررام جنم بھومی نیاس کی ملکیت ثابت کرکے متنازع اراضی رام جنم بھومی نیاس کے حوالے کرنے کاحکم دیا اورمسلمانوں کومسجد کے لیے اس سے الگ ایودھیاہی میں کسی دوسری جگہ 5ایکڑ زمین فراہم کرنےکی ذمہ داری حکومت کودی۔غورطلب رہے کہ رام مندر تنازع پر دیئے گئے سپریم کورٹ کے فیصلہ پر آل انڈیا مسلم پرسنل لاءبورڈ نے عد م اطمینان کا اظہار کیاہے ۔ ہنگامی پریس کانفرنس منعقد کرکے بورڈ کے سینئر وکیل ایڈوکیٹ ظفر یاب جیلانی نے کہاکہ سپریم کورٹ نے مسجد سے متعلق تمام ثبوتوں اور دلیلوں کا اعتراف کیاہے ۔ انہوں نے تسلیم کیاہے کہ 1528 میں میر باقی نے مسجد کی تعمیر کی تھی ۔ یہ بھی ماناہے کہ 22/23دسمبر1949 تک وہاں مسلسل نماز ہوتی رہی ۔ انہوں نے یہ بھی خارج کیا کہ رام مندر توڑ کر مسجد کی تعمیر کا کوئی ذکر نہیں ملتاہے ۔ ظفریاب جیلانی نے اے ایس آئی کی رپوٹ پرتبصرہ کرتے ہوئے کہاکہ اس میں جو کچھ مذکورہے وہ صاف نہیں ہے اور نہ ہی اس سے ہندﺅوں کے دعوی کی تصدیق ہوتی ہے ۔ سپریم کورٹ کا یہ کہناکہ 18ویں صدی تک نماز کا ذکر نہیں ملتاہے یہ بے بنیاد ہے کیوں کہ جب آپ وہاں مسجد کا اعتراف کررہے ہیں تو اس کامطلب ہے کہ وہاں نماز ہی ہوگی ، علاوہ ازیں انہوں نے پوجا کا بھی ذکر نہیں کیا ہے ۔

ظفر یاب جیلانی نے کہاکہ ججوں نے تمام دلائل کو تسلم کیاہے اس کے باوجود انہوں نے زمین دوسرے فریق کو دے دی ۔ ا س لئے اس فیصلے سے ہمیں اتفاق نہیں ہے ۔ انہوں نے کہاکہ ہم نے سپریم کورٹ کا ہمیشہ احترام کیاہے اب بھی کررہے ہیں لیکن فیصلہ سے مطمئن نہیں ہیں ۔ انہوں نے نظر ثانی کی درخواست دائر کرنے کے سلسلے میں کہاکہ اس بابت ہم عاملہ کے ساتھ غور وفکر کریں گے اور سینئر وکیل راجیود ھون کے ساتھ بھی بات چیت کریں گے ۔
ظفر یاب جیلانی نے ایک سوال کے جواب میں کہاکہ اسلام میں مسجد کا کوئی بد ل نہیں ہوتاہے ۔ مسجد جگہ پر تعمیر ہوجاتی ہے وہاں ہمیشہ رہتی ہے ۔ مسجد کسی کی ملکیت نہیں ہوتی ہے کہ اسے جہاں چاہے منتقل کردیا جائے اس لئے دوسری جگہ پانچ ایکڑ دیئے جانے کا کوئی سوال نہیں بنتاہے اور نہ ہی یہ فیصلہ کا حصہ ہے۔واضح رہے کہ آج کے اس تاریخی فیصلےپراطمینان کااظہار کرتے ہوۓکھگڑیاپارلیمانی حلقہ کےممبرپارلیمنٹ چودھری محبوب علی قیصرنے کہاکہ ملک کی سب سے بڑی عدالت نے یہ فیصلہ سنایاہے۔سبھوں کواس فیصلے کا احترام کرتے ہوئے اس موقع پر اتحادواتفاق اوربھائی چارگی کامظاہرہ کرناچاہیےاورمعمول کے مطابق اپنے روزمرہ کے کاموں میں مصروف ہوجاناچاہیے۔مدھےپورہ کےممبرپارلیمنٹ دنیش چندریادونےکہاکہ عدالت عظمیٰ کا آج کافیصلہ ایک ایسا تاریخی فیصلہ ھےجو ہندوستان کی تاریخ میں سدایادکیاجاۓگاکہ جتنےبڑےپیمانےپرعوام وخواص میں نقض امن سے متعلق خدشات تھےوہ بالکل غلط ثابت ہوۓ اورلوگ اس موقع پرصبروتحمل
مظاہرہ کررہے ہیں۔ان کایہ عمل قابل مبارک باد ہے۔اسی طرح چھاتاپور حلقہ کےایم ایل اےنیرج کمارببلو،سمری بختیارپور اسمبلی حلقہ کےایم ایل اے ظفرعالم اورکوسی کمشنری کی ایم ایل سی محترمہ نوتن کماری نے کہاکہ بابری مسجد۔رام مندرتنازع کولے کر آئے دن جوبے جابیان بازیاں اورنفرت کی سیاست ہورہی تھی اس پرآج قدغن لگ گیاہے۔ہماری لوگوں سے اپیل ہے کہ اس تاریخی فیصلے کااحترام کرتے ہوئے ملک کی گنگاجمنی تہذیب کوبرقراررکھنے میں دانشمندی کاثبوت دیں۔

Facebook Comments
Spread the love
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply