سورج کنڈ میلہ: پھر ملیں گے!

نکہت پروینNikhat Parween
اندر جانے کے کئی راستے اور ہر راستے میں ملنے والی کچی دیواروں پہ بنی ہوئی پکی پینٹنگ کو دیکھ کر ہی احساس ہو جاتا ہے کہ اندر کس خوبصورتی کا دیدار ہونے والا ہے ۔قدم بڑھنے کے ساتھ ہی لوگوں کی بھیڑ بھی بڑھتی جاتی ہے اور وقتاََ فوقتاََ لاؤڈ اسپیکر سے ہونے والے اعلان کی تیزآواز کے بیچ ایک خاص آواز لوگوں کی نظریں اور توجہ اپنی جانب کھینچتی ہے ۔ذرا سی نظراٹھا کر دیکھنے پر چاروں طرف تیز رفتار سے گول گول چکر لگاتا ایک شاندار ہیلی کاپٹر نظر آتا ہے۔ ان تمام نظاروں کو دیکھ کر اندر جانے کی خواہش اور بڑھنے لگتی ہے ۔جی ہاں، یہ نظارا ہے ریاست ہریانہ کے ضلع فریدآباد کے سورج کنڈ گاؤں کے ۴۰؍ایکڑ زمین میں یکم تا ۱۵؍ فروری لگنے والے تیسویں بین الاقوامی سورج کنڈ میلے کا جس میں اس بار کل۲۳؍ملکوں نے حصہ لیا۔
pic1a1
اس میلے کی ابتداء سنہ ۱۹۸۷ء میں ہوئی ،اور۲۰۱۳ء میں اسے بین الاقوامی میلے کا درجہ دیاگیا۔اس میلے کو ہندوستان کے پانچوں موسم یعنے سردی،گرمی،برسات،بہار،اور خزاں کے حساب سے پانچ زون میں تقسیم کیا گیا ہے ۔اس کی وجہ سے میلے کی خوبصورتی دیکھتے ہی بنتی ہے۔ روزانہ لاکھوں لوگوں کو اپنی جانب متوجہ کرنے والا یہ میلہ اب ختم ہو چکا ہے ، لیکن کیا اس گاؤں نما میلے کی کشش بھی لوگوں کے دل و دماغ سے میلے کے بعد ختم ہو جائے گی ؟اس بارے میں جب میں نے میلے کے گیارہویں دن کچھ لوگوں سے بات کی تو خوبصورت ریاست جموں کشمیر سے آئے محمد رفیق نے بتایا :میں اس میلے میں پہلی مرتبہ ضرور آیا ہوں لیکن یہاں

pic4a

آنے کے بعد محسوس ہی نہیں ہوا کہ یہ جگہ میرے لیے نئی ہے۔ یہاں سے بہت کچھ سیکھ کر اور ڈھیر ساری یادیں لے کر جا رہا ہوں۔ انشاء اللہ اگلی مرتبہ آنے کی پوری کوشش کروں گا۔مغربی بنگال سے آئیں نرگس جنہوں نے میلے میں کھادی اور تانت سے بنے کپڑوں کی دکان لگائی تھی ،کہتی ہیں: جتنا سوچ کر آئی تھی اتنا مال فروخت تو نہیں ہو پایا لیکن آنے والے تمام ملکی اورغیرملکی گاہک اتنی اچھی طرح ملتے ہیں کہ ان سے ایک رشتہ سا بن گیا ہے۔ کئی غیر ملکی خواتین نے تو اس کام کے بارے مجھ سے ڈھیر ساری جانکاری لی اور رابطہ کرنے کے لیے میرا فون نمبر بھی لیا ہے ، پیسوں کا تو پتا نہیں لیکن اس میلے کی وجہ سے مجھے کئی غیر ملکی دوست مل گئے ہیں جس کے لیے میں اس میلے کی ہمیشہ شکر گذار رہوں گی ۔ بہار کے مدھوبنی ضلع سے آئیں جوالامکھی دیوی نے اپنے چھوٹے بھائی دنیش کے ساتھ مدھوبنی پینٹنگ کی دکان لگائی تھی ۔وہ میلے کے بارے میں بتاتی ہیں : مدھوبنی پینٹنگ بہار کی الگ پہچان تو ہے ہی لیکن میلے میں جگہ ملنے کی وجہ سے آرٹسٹ کے طور پر ہمیں بھی پہچان مل رہی ہے جس سے ہمارا حوصلہ اور بلند ہوا ہے ، روز کی بکری اچھی ہو جاتی ہے۔ میلے کا وقت اگرپندرہ دنوں سے کچھ اور ذیادہ ہوتا تو اچھا ہوتا۔ ویسے یہاں کا تجربہ ہمیشہ یاد رہے گا۔ اگلے سال آنے والے میلے کا انتظار ہے ۔اپنی اپنی بکری کولے کر کچھ دکاندار مطمئن تو کچھ غیر مطمئن دکھائی دیے ۔

pic2
میلے میں صاف صفائی کا ذمہ اٹھانے والے ملازموں کی بھی ایک بڑی ٹیم ہے۔اس میں سے ایک مدھون ہیں جو فریدآ باد ضلع کی رہنے والی ہیں۔ جب ان سے میلے کے تجربہ کے بارے پوچھاتو انہوں نے بتایا : مجھے میری نند نے یہاں کام دلوایا ہے۔ پندرہ دن صفائی کرنے کے اچھے خاصے پیسے مل جائیں گے۔ صبح ساڑھے دس بجے سے لے کر رات کے ساڑھے آٹھ بجے تک یہ میلہ چلتا ہے۔ ہم اپنے سپروائزرکے حکم سے تھوڑے تھوڑے وقفے پہ اپنے اپنے زون میں چکر لگاتے ہیں اور صفائی کا کام پورا کرتے ہیں ۔ اس کے باوجودتھکاوٹ کا احساس ذرا بھی نہیں ہوتاکیونکہ یہاں ہر روز کسی نہ کسی اسکول کے بچے گھومنے آتے ہیں۔ میلے میں انہیں ہنستا مسکراتا دیکھ میری ساری تھکان دور ہوجاتی ہے۔ ہم جیسے لوگوں کو بھی اس میلے نے روز گار دیا ہے ،یہ بڑی بات ہے ۔
میلے میں آئے کچھ بچوں نے بتایا :ہمارے لیے یہ بہت ہی نایاب تجربہ ہے۔ میلے کو گاؤں کی جو شکل و صورت دی گئی ہے، وہ بہت ہی دلچسپ ہے ۔ہاں ٹوائلٹ زیادہ صاف نہیں ہے ۔ کھانے پینے کی کئی چیزوں میں ہمیں کیسر کلفی بہت لذیز لگی۔ہم نے بائی اسکوپ کا بھی مزہ لیا۔ اگلی بار بھی گروپ میں مستی کرنے آئیں گے۔ تب تک کے لیے بائے بائے سو رج کنڈ میلہ۔
pic1a1b
ضلع فریدآباد سے ہی اپنی امی کے ساتھ آئی ویریندری کہتی ہیں : میں گذشتہ کئی سالوں سے اس میلے میں آ رہی ہوں اور ہر سال اس کا بے صبری سے انتظار کرتی ہوں۔ یہاں گھر اور خود کو سجانے کے لیے کئی نایاب چیزیں مل جاتی ہیں جنہیں خریدنا مجھے پسند ہے۔ گڑگاؤں سے آئے ماریو نرونا کہتے ہیں : میں پہلی بار اس میلے میں آیا ہوں، کوئی خریداری نہیں کی کیونکہ ساری چیزیں کافی مہنگی لگیں ،ہاں دوردراز علاقوں سے آئے ہوئے کئی آرٹسٹوں سے خوب باتیں کیں اور ان کے کام کے بارے میں جانا۔ کئی غیر ملکی لوگوں سے بھی ملا قات کرنے کا موقع ملا۔شہر کی بھیڑبھاڑ سے دور آج یہاں آکر کا احساس ہوا کہ ہمارے ملک کی پہچان گاؤں میں ہی رچی بسی ہے اور گاؤں نما اس میلے سے جانے کو دل نہیں کر رہا۔ شاہین باغ کی یاسمین کہتی ہیں : میلے کو اوپر سے دیکھنے کے لیے ہیلی کاپٹ
pic3

ر کا انتظام کیا گیا ہے ، لیکن پانچ منٹ کے سفر کے لیے ڈھائی ہزار روپے ادا کرنے ہوں گے ،اگر یہ تھوڑا سستا ہوتا تو شاید ہم بھی اس کا مزہ لے پاتے۔
میلے کے میڈیا منیجر راجیش جوون نے بتایا : ہر سال جون کے مہینے سے ہم میلے کی تیاریوں میں جٹ جاتے ہیں کیونکہ اس بار میلے میں بڑی تعدا د میں لوگوں نے شرکت کی، اس لیے اگلی بار ہم بیٹھنے کے لیے بنچ اور لوگوں کی سہولت کے لیے ٹوائلٹ کی تعداد میں بھی اضافہ کرنے والے ہیں تا کہ ہمارے مہمانوں کو کسی طرح کی کوئی پریشانی نہ ہو۔

راجیش جوون اور دوسرے لوگوں کی باتوں سے صاف جھلک رہا ہے کہ اس میلے نے گذشتہ پندرہ دنوں تک کیا بچے کیا بڑے،کیا بوڑھے،کیا جوان،کیا ملکی،کیا غیر ملکی، اپنے سبھی مہمانوں کا خوب دل لبھایا ہے ،جس کے سبب ہر کوئی اس میلے سے نہ چاہتے ہوئے بھی لمبے وقت تک لگاؤ محسوس کرے گا اور اگلے سورج کنڈ میلے کا انتظار بھی ۔ افرا تفری کے اس دور میں جس طرح سورج کنڈ میلے نے لوگوں میں ایک نیا جوش بھر دیا ہے اس کے لیے ہم سب کی جانب سے اس میلے کو دل کی گہراےؤں سے شکریہ اور الوداع سورج کنڈ میلہ !

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *