ایک کروڑ سے زیادہ آمدنی پر سرچارج ٹیکس بڑھا

وزیر خزانہ ارون جیٹلی پارلیمنٹ جاتے ہوئے
وزیر خزانہ ارون جیٹلی پارلیمنٹ جاتے ہوئے

نئی دہلی، ۲۹/ فروری: لوک سبھا میں آج ۱۷-۲۰۱۶ کا عام بجٹ پیش کرتے ہوئے مرکزی وزیر خزانہ جناب ارون جیٹلی نے کہاکہ تمام سرمایہ کاروں کا منافع تقسیم ٹیکس (ڈی ڈی ٹی) کے یکساں نفاذ سے ٹیکسوں کی غیر جانبداری اور اس کی ترقی پسندانہ نوعیت کی صورت مسخ ہو تی ہے۔ لہذا انہوں نے یہ تجویز رکھی کہ کمپنیوں کے ذریعے ادا کیے جانے والے ڈی ڈی ٹی کے علاوہ مجموعی منافع کی رقم پر دس فیصد شرح سے ٹیکس دس لاکھ سے زیادہ سالانہ منافع حاصل کرنے والے افراد، ایچ یو ایف اور فرموں پر قابل ادا ہوگا۔

ایک کروڑ روپے سے زیادہ آمدنی والے افراد پر سرچارج ۱۲ فیصد سے بڑھا کر ۱۵ فیصد کردیا گیا تھا۔ متبادلات کی صورت میں سکیورٹیز ٹرانزکشن ٹیکس کی شرح ۰ء۰۱۷ سے بڑھا کر ۰ء۰۵فیصد کردی گئی تھی۔ ہندوستان سے منافع کمانے والی غیر ملکی ای-کامرس کمپنیوں پر ٹیکس لگانے کےلئے یہ تجویز پیش کی گئ کہ ایسا شخص ، جو کسی ایسے غیر مقیم کو، جس کا کوئی مستقل ادارہ نہیں ہے، ایک سال میں مجموعی طور پر ایک لاکھ روپے سے زیادہ ادا کرتاہے، تو اس پر ادا کی جانے والی مجموعی رقم کا چھ فیصد بطور ٹیکس وصول کیا جائے گا۔ اس ٹیکس کا نفاذ کاروباری لین دین پر ہوگا۔ یہ تجویز بھی پیش کی گئی ہے کہ دس لاکھ سے زیادہ کی لگژری کار کی خرید اور دو لاکھ سے زیادہ کے سامان اور خدمات کی نقد خرید پر سورس رقم پر ایک فیصد کی شرح سے ٹیکس وصول کیا جائےگا۔

جناب ارون جیٹلی نے سبھی قابل ٹیکس خدمات پر ۰ء۵ فیصد کی شرح سے کرشی کلیان سیس لگانے کی تجویز رکھی۔ اس سے حاصل ہونے والی رقم صرف زراعت اور کسانوں کی بہبود سے متعلق کاموں میں مالی تعاون کے لئے کیا جائے گا۔ اس کا نفاذ یکم جون ۲۰۱۶ سے ہوگا۔ ملک میں آلودگی اور ٹریفک کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے مرکزی وزیر خزانہ نے چھوٹی پٹرول، ایل پی جی، سی این جی کاروں پر ایک فیصد ، مخصوص صلاحیت والی ڈیژل کاروں پر 2.5 فیصد اور اعلیٰ معیارکے انجن والی گاڑیوں اور ایس یو وی پر چار فیصد انفراسٹرکچر سیس کی تجویز رکھی۔ کوئلہ، لگنائٹ اور پیٹ پر لگائے جانے والے کلین انرجی سیس کا نام بدل کر کلین انوائرنمنٹ سیس کرنے کی تجویز پیش کی گئی۔ اس کی شرح میں اضافہ کر کے اسے ۲۰۰ روپے فی ٹن سے بڑھا کر ۴۰۰ روپے فی ٹن کیا گیا ہے۔ تمباکو اور تمباکو مصنوعات کے استعمال کی حوصلہ شکنی کے لئے بیڑی کو چھوڑ کر متعدد تمباکو مصنوعات پر ایکسائز ڈیوٹی میں ۱۰ سے ۱۵ فیصد تک کے اضافےکی تجویز رکھی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *