سشما سوراج کی دو دن بعد سرتاج عزیز سے ملاقات ہوگی

Sushma Swaraj with Sartaj Aziz

نئی دہلی، ۱۴ مارچ: ایک دن بعد نیپال کے پوکھرا میں سارک ممالک کی سالانہ کانفرنس ہونے جا رہی ہے۔ ۱۶ اور ۱۷ مارچ کو ہونے والی اس کانفرنس کے موقع پر ہندوستانی وزیر خارجہ سشما سوراج پاکستانی وزیر اعظم کے صلاح کار برائے امورِ خارجہ سرتاج عزیز سے ملاقات کرنے والی ہیں۔

یہ ملاقات ایسے وقت میں ہورہی ہے، جب پٹھان کوٹ حملہ کے بعد ہندوستان اور پاکستان کے درمیان تلخیاں کافی بڑھ گئی تھیں۔ اسی کی وجہ سے گزشتہ جنوری میں دونوں ممالک کے خارجہ سکریٹریوں کے درمیان اسلام آباد میں ہونے والی بات چیت ٹل گئی تھی۔

سارک ممالک کی اگلی سالانہ کانفرنس اگلے سال اسلام آباد میں ہونے والی ہے اور ذرائع کے مطابق سرتاج عزیز اس کانفرنس کے لیے وزیر اعظم نریندر مودی کو نیپال کی اس میٹنگ میں دعوت نامہ پیش کرنے والے ہیں۔

اس کے علاوہ چونکہ اس ماہ کے اخیر میں واشنگٹن، امریکہ میں نیوکلیئر سیکورٹی کی بھی سالانہ کانفرنس ہونے جا رہی ہے، جہاں پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف ہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی سے ملاقات کر سکتے ہیں۔

پٹھان کوٹ دہشت گردانہ حملے کے بعد بھلے ہی دونوں ممالک کے درمیان تلخیاں بڑھی ہوں اور بات چیت کا سلسلہ منقطع ہوگیا ہو، لیکن پہلی بار پاکستان اور خاص کر وزیر اعظم نواز شریف کے ذریعہ دہشت گردوں کے خلاف سخت کارراوئی کرنے کا اشارہ دیا گیا تھا۔ نواز شریف نے پٹھان کوٹ حملے کو جس سنجیدگی سے لیا تھا، اس سے ہندوستان میں بھی راحت کی سانس لی گئی تھی، حالانکہ بعد میں جب یہ پتہ چلا کہ پاکستانی حکومت نے مسعود اظہر کو حراست میں نہیں لیا تھا، بلکہ یہ خبر ہی غلط تھی، تو پھر پاکستان کے خلاف ہندوستان میں آوازیں بلند ہونا شروع ہو گئی تھیں۔

اپوزیشن پارٹیوں نے گزشتہ دنوں وزیر اعظم نریندر مودی کے ذریعہ اچانک پاکستان کا دورہ کرنے اور نواز شریف سے ملاقات کرنے پر کافی تنقید کی تھی۔ کچھ لوگوں نے تو پٹھان کوٹ حملے پر تنقید کرتے ہوئے یہ بھی کہا تھا کہ پاکستان سے دوستی کا صلہ ہمیشہ دہشت گردانہ حملوں کی شکل میں ہی ملتا ہے۔ تاہم زیادہ تر دانشوروں کا یہی ماننا ہے کہ پاکستان کے ساتھ بات چیت کے سلسلے کو کبھی نہیں روکنا چاہیے، کیوں کہ مسائل کو حل کرنے کا واحد راستہ یہی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *