دوسری برسی پر یاد کئے گئے سید شہاب الدین

علی گڑھ:(نمائندہ) سابق ممبر پارلیمنٹ ،مسلم لیڈر اور اے ایم یو کے سابق کورٹ ممبر و آئی ایف ایس افسر سید شہاب الدین کی دوسری برسی پر ان کو خراج عقیدت پیش کیا۔مزمل کامپلیکس میں فورم فار مسلم اسٹڈیز اینڈ اینالیسس کے تحت پروفیسر رضا اللہ کی صدارت میں ایک پروگرام کا اہتمام کر کے سید شہاب الدین کی خدمات کا ذکر کیا گیا ۔پروفیسر رضا اللہ خان نے کہا کہ سید شہاب الدین کی زندگی کو سماج کی تعمیر کے لئے وقف ہونے کی صورت میں یاد رکھا جائے گا۔

فورم کے ڈائریکٹر ڈاکٹر جسیم محمد نے سید شہاب الدین سے اپنی ملاقات کو یاد کرتے پوئے کہا کہ اگر وہ زندہ ہوتے تو شہاب بابری مسجد کا تنازعہ حل ہو چکا ہوتا اور جو لوگ آج لیڈر بنے ہوئے ہیں یہ بھی نہ ہوتے۔سید شہاب الدین کی سیاست مسلمانون کی تعمیر و ترقی کے لئے تھی ،وہ مسلمانوں میں پھیلی برائی اور تعلیم کے اندھیرے کو ختم کرنا چاہتے تھے۔وہ مسلم انڈیا نامی رسالے کے مدیر بھی تھے۔جو آج کے تناظر میں نہایت اہم مانا جاتا ہے۔انہوں نے بتایا کہ سید شہاب الدین نے سرکار میں رہتے ہوئے ہاشم پورہ اور ملیانہ میں ہوئی نسل کشی کے خلاف پارلیمنٹ میں آواز بلند کی اور کانگریس سرکار کو کارروائی کرنی پڑی تھی۔

اے ایم یو کورٹ ممبر پروفیسر ہمایوں مراد نے کہا کہ سید شہاب الدین اے ایم یو کے کورٹ ممبر رہ چکے ہیں۔ان کے دم پر بہت سے لوگوں نے فائدہ اٹھایا لیکن آج کوئی ان کا نام لینے والا نہیں ہے جو نہایت افسوس کی بات ہے۔سماجی کارکن نکہت پروین نے نے اعلان کیا کہ مسلم فورم جلد ہی سید شہاب الدین کے نام پر اسکالر شپ دے گی۔جامعہ اردو کے او ایس ڈی فرحٹ علی خاں نے کہا سید شہاب الدین جیسے لوگ صدیو میں پیدا ہوتے ہیں۔ہمیں ان کے نقش قدم پر چل کر زندگی کو کامیاب بنا نا چاہئے۔اس موقع پر داکٹر دولت رام،دیبا ابرار،جمال انصاری،دلشاد،محمد صابر،کپل کمار اور نسیم اشرف وغیرہ موجود تھے۔

Facebook Comments
Spread the love
  • 6
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
    6
    Shares

Leave a Reply