حمایت کی امید کے ساتھ ہندوستان میں ہیں شام کے وزیر خارجہ

Foreign Ministers of India and Syria

نئی دہلی، ۱۲؍ جنوری(نامہ نگار):ملک شام کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ ولید المعلم نے منگل کو وزیر خارجہ سشما سوراج سے نئی دہلی میں ملاقات کی۔ دونوں رہنماؤں نے باہمی دلچسپی کے مختلف امور پر بات چیت کے علاوہ شام کے موجودہ حالات کے بارے میں جہاں روس نے داعش کے خلاف ہوائی حملے تیز کردیاہے، تبادلۂ خیال کیا۔

ولید معلم کا یہ دورہ آئندہ ۲۵؍جنوری کو جنیوا میں ہونے والے امن مذاکرات کے پیش نظر بہت اہم مانا جارہا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق شام کے وزیر خارجہ کے ہندوستان دورے کا مقصد جنیوا مذاکرات سے قبل بشارالاسد کے حق میں ہندوستان کی حمایت حاصل کرنا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ ہندوستان میں شام کے سفیر ڈاکٹر ریاض کامل عباس کئی بار یہ بات کہہ چکے ہیں کہ شام کے تعلق سے نئی دہلی کی پالیسی بہت بہتر ہے۔ انہوں نے یہاں تک کہا ہے کہ اگر ہندوستان کی پالیسی پر عمل کیا جائے تو شام کا مسئلہ بہت جلد حل ہوجائے گا۔

دوسری جانب ہندوستان نے شام میں کسی بھی طرح کی فوجی مداخلت سے صاف انکار کیا ہے، البتہ اس نے روس کی کارروائی کی حمایت کی ہے۔ ہندوستان کے لیے شام کے حوالے سے اپنی پالیسی کا طے کرنا اس لیے بھی ایک مشکل بھرا کام ہے کیونکہ ایک طرف کم وبیش سبھی عرب ملکوں کے علاوہ ترکی، یورپی ممالک اور امریکہ شام میں بشار الاسد کو اقتدار سے بے دخل کرنا چاہتے ہیں جبکہ ایران ، روس اورچین اس کے خلاف ہیں۔
ہندوستان سمیت بہت سے ممالک بات چیت کے ذریعے شام کے مسئلہ کا حل چاہتے ہیں لیکن ایک بڑی مشکل یہ ہے کہ بشارالاسد کے حامی ان مخالف گروپوں کو اس سے دور رکھنا چاہتے ہیں، جنہیں وہ دہشت گرد قرار دیتے ہیں۔

یاد رہے کہ ۲۰۱۴ میں جنیوا میں منعقدہ امن مذاکرات ناکام ہوگئے تھے لیکن اس بار ایک آس بندھی کیونکہ امریکہ سمیت مغربی ملکوں کے مؤقف میں قدرے تبدیلی آئی ہے اور اس دوران روس اپنی فوجی طاقت کے ساتھ بشارالاسد کی حمایت میں آگے آکر داعش اور دوسرے مخالف گروہوں کو نشانہ بنارہا ہے۔
واضح ہوکہ شام میں گذشتہ چار برسوں سے جاری خانہ جنگی کے سبب تین لاکھ سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں جبکہ کم وبیش ۷۰؍لاکھ لوگ اپنے گھروں کو چھوڑ کر دوسرے بیرون ملک پناہ لینے پر مجبور ہوئے ہیں۔

جہاں تک ہندوستان اور شام کے باہمی تعلقات کی بات ہے تو یہ دوستانہ رہے ہیں۔ ہندوستان ایک طرف فلسطین کا حامی رہا ہے تو دوسری جانب اس نے ہمیشہ اسرائیل کے زیر قبضہ گولان پہاڑی کو شام کو واپس کیے جانے کی حمایت کی ہے۔ صدر بشارالاسد نے جون ۲۰۰۸ میں ہندوستان کا دورہ کیا تھا جبکہ صدرمحترمہ پرتبھا پاٹل نومبر ۲۰۱۰ میں شام کے دورہ پر گئی تھیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *