وزیر اعظم راحت فنڈ میں اتنا پیسہ کسی نے نہیں دیا

حیدرآباد: وزیر اعظم راحت فنڈ میں ملک کے شہری اکثر عطیہ دیتے رہتے ہیں۔ اس کا استعمال قدرتی آفات یا ناگہانی صورت حال سے نمٹنے کے لیے کیا جاتا ہے۔ اس فنڈ میں ملک کی جنوبی ریاست تلنگانہ کے چندو گوڑ نامی شخص نے اتنا پیسہ عطیہ کیا ہے جو آج تک شاید ہی کسی نے کیا ہو۔ جی ہاں، حیدرآباد سے شائع ہونے والے ایک انگریزی اخبار کے مطابق چندو گوڑ نے سرسیلا ضلع کے کلکٹریٹ دفتر پہنچ کر ۹؍ پیسے وزیر اعظم راحت فنڈ میں دیے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق چندو گوڑ نے ۹؍ پیسے کا چیک کلکٹر کو سونپا ہے۔ چندو گوڑ نے یہ عطیہ احتجاج کے طور پر کیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ لگاتار ۱۶؍ دنوں تک ڈیز ل اور پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ کے بعد پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں محض ۹؍ پیسے کی کمی کی گئی ہے۔ انہوں نے وزیر اعظم راحت فنڈ میں ۹؍ پیسے کا عطیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ مودی حکومت نے پٹرول کی فی لیٹر قیمت میں ۹؍ پیسے کی کمی کی ہے۔ یہی رقم وزیر اعظم راحت فنڈ میں دی گئی ہے ۔ امید ہے اس سے کچھ مقصد حاصل ہوجائے۔ چندو گوڑ نے پیر کو یہ رقم عطیہ کرنے کے بعد کہا کہ اتوار کو انہوں نے ۸۳؍ روپے فی لیٹر کے حساب سے پٹرول خریدا ۔ اسی دن بعد میں اس کی قیمت ۹؍ پیسے کم کی گئی ۔ دوسرے دن پٹرول پمپ پر ۸۲؍ روپے ۹۱؍ پیسے کے حساب سے پٹرول فروخت کیا جا رہا تھا۔ لیکن پمپ کے اسٹاف نے خردہ پیسہ نہیں ہونے کے سبب وہ رقم نہیں لوٹائی۔ اگرچہ حکومت پٹرول کی قیمت میں چند پیسے کی کمی کر رہی ہے تاہم صارفین بہت چھوٹی رقم ہونے کی وجہ سے اس کو واپس نہیں مانگتے ہیں۔ چندوگوڑ نے کہا : میں نے اپنے بچت کھاتہ میں سے ۹؍ پیسے کا چیک کاٹ کر وزیر اعظم فنڈ میں عطیہ دیا ہے۔ سرسیلا ضلع کے کلکٹر کرشنا بھاسکر نے کہا ہے کہ چیک کو وزیر اعظم فنڈ کے متعلقہ دفتر میں بھیج دیا گیا ہے۔ 
Share

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *