دہشت گرد گروہ اسلام کو نقصان پہنچا رہے ہیں:امام حرم شیخ صالح

مسلمانوں کے تمام طبقات کو دہشت گردی کے خلاف کھڑا ہوجانا چاہیے، انڈیا اسلامک کلچرل سینٹرمیں خصوصی خطاب

امام حرام شیخ صالح بن ابراہیم کا استقبال کرتے ہوئے انڈیا اسلامک کلچرل سینٹر کے صدر سراج الدین قریشی
امام حرام شیخ صالح بن ابراہیم کا استقبال کرتے ہوئے انڈیا اسلامک کلچرل سینٹر کے صدر سراج الدین قریشی

نئی دہلی، ۴؍اپریل:
امام حرم شیخ صالح بن محمد ابراہیم آل طالب نے کہا ہے کہ دہشت گردی برپا کرنے والے گروہ خود اسلام کو نقصان پہنچارہے ہیں اور ان کے خلاف مسلمانوں کے تمام طبقات کو کھڑا ہوجانا چاہیے۔وہ آج یہاں سراج الدین قریشی کے ذریعہ انڈیا اسلامک کلچرل سینٹر میں دیے گئے اپنے استقبالیہ میں خصوصی خطاب کر رہے تھے۔انہوں نے کہا کہ جو کچھ دہشت گرد کر رہے ہیں اس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ دہشت گرد گروہ بے گناہ مسلمانوں کو ہلاک کر رہے ہیں جبکہ اسلام تو قصور وارغیر مسلموں کو بھی اس طرح ہلاک کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔انہوں نے کہا کہ مذہب اسلام تمام انسانوں کے درمیان محبت واخوت کا سب سے بڑا دعویدار ہے اور اللہ کے رسول ﷺ نے اس پر باقاعدہ عمل کرکے دکھادیا ہے۔
شیخ صالح بن محمد ابراہیم نے کہا پیغمبر اسلام کے عمل کے برخلاف کیا جانے والاکوئی بھی کام غیر اسلامی ہے اور دہشت گرد یہی کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ مسلمانوں کو قتل اور مسجدوں کو منہدم کر رہے ہیں وہ کیسے مسلمان ہوسکتے ہیں اور کیسے ان کا تعلق اسلام سے ہوسکتا ہے۔انہوں نے انڈیا اسلامک کلچرل سینٹر کے ہال میں موجود سیکڑوں لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ یہاں خادم الحرمین الشریفین کا سلام اور پیغام امن لے کر آئے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ اسلام نے صاف کر دیا ہے کہ زمین پر فساد برپا کرنے والے اللہ کے غضب کے مستحق ہیں ۔امام حرم نے زور دے کر کہا کہ اسلام خود دین کے معاملہ میں جبرواکراہ سے منع کرتا ہے ۔
اس سے قبل سراج الدین قریشی سے ایک خصوصی میٹنگ میں شیخ صالح نے اس دعوت کا شکریہ ادا کر تے ہوئے کہا کہ میری خواہش تھی کہ ہندوستان میں اپنے قیام کے سارے ایام انہی کی ر ہنمائی اور معیت میں گذاروں لیکن پروگرام میں تبدیلی کے سبب یہ ممکن نہیں ہوسکا۔ واضح رہے کہ پچھلے سال عمرہ کے دوران سراج الدین قریشی نے امام حرم کو ہندوستان آنے کی دعوت دی تھی جسے انہوں نے قبول کر لیا تھا۔ ہندوستان واپس آنے کے بعد سراج الدین قریشی نے انہیں ایک خصوصی دعوت نامہ بھی ارسال کیا تھا۔
اپنی خیر مقدمی تقریر میں سراج الدین قریشی نے امام حرم کا استقبال کرتے ہوئے کہا کہ آپ جیسی عظیم شخصیت کواپنے درمیان پاکریہاں موجود ہر فرد خود کو خوش قسمت تصورکرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ سرزمین ہند اس کرۂ ارض پرایک ایسی سرزمین ہے جس نے دنیا کے تقریباً تمام اہم مذاہب کے پیروکاروں کو نہ صرف خوش آمدیدکہا بلکہ انہیں گلے لگاکرخوب پھلنے پھولنے کا موقع بھی دیا۔انہوں نے امام حرم کو مخطاب کرتے ہوئے کہا کہ آپ تودنیا کے نقشہ پرموجودتمام مسلمانوں کے امام ہیں اور آپ کی عزت وحرمت کعبہ شریف کے سبب اور بھی زیادہ ہے۔ ہم برصغیر کے مسلمان اور خاص طورپرہندوستان کے مسلمان اپنے ائمہ کو بڑی قدر ومنزلت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔منصب امامت ہمارے نزدیک بہت ہی مقدس منصب ہے۔اسلام نے بھی اسے بڑی اہمیت دی ہے۔اس اعتبار سے ہندوستان کے مسلمان حرم شریف سے آنے والے کسی بھی امام کو دل وجان سے خوش آمدید کہتے ہیں اور اس کی ایک جھلک پانے کے متمنی رہتے ہیں۔انہوں نے یاد دلایاکہ ۲۷؍مارچ۲۰۱۱ء کو امام حرم جناب عبدالرحمن السدیس ہندوستان تشریف لائے تو پورے ملک نے ان کاصمیم قلب کے ساتھ استقبال کیاتھا۔انہوں نے کہا کہ ہندوستان میں آپ کی آمد ہندوستان کے عوام کے لیے امن وسکون اور ترقی وخوشحالی کا باعث بنے گی اور ہم سب آپ کی خصوصی دعاؤں کے نتیجہ میں دین ودنیا میں سرخرو اور کامران ہوں گے۔
سراج الدین قریشی نے امام حرم کو بتایاکہ انڈیا اسلامک کلچرل سینٹراس ملک کے نوجوانوں کے لیے بھی ایک کامیاب تربیت گاہ میں تبدیل ہوگیا ہے۔یہاں ہر سال نوجوانوں کی اخلاقی،علمی اور سماجی تربیت کے مختلف پروگرام منعقد کیے جاتے ہیں جن سے اب تک دس ہزار سے زائد نوجوان فیض پاچکے ہیں۔ہم نوجوانوں کی شخصیت سازی کے لیے ہر سال ایک ۴۰؍ روزہ ورکشاپ منعقد کرتے ہیں۔واضح رہے کہ اس ورکشاپ کے قابل اور ہونہار استاذمحمد منور زماں مکہ شریف میں رہ کرخودامام حرم کے اہل خانہ کو بھی ایک مہینہ تک شخصیت سازی کی تربیت دے کر آئے ہیں۔
سراج الدین قریشی نے امام حرم کا تعارف کراتے ہوئے بتایاکہ آپ کی تلاوتِ قرآنِ کریم ’’ حدر‘ ‘،’’ تجوید‘‘ و ’’ترتیل ‘‘ کے ساتھ پوری دنیا میں مشہورہے ۔ آپ اپنی سادگی، پاکیزہ اور فعال طرزِ زندگی کے لیے جانے جاتے ہیں۔ حرم کے دوسرے اماموں کی طرح آپ بھی حرم میں رمضان المبارک کے دوران نماز تراویح ادا کراتے ہیں۔ آپ پچھلے آٹھ سالوں سے حرم میں امامت کی سعادت حاصل کر رہے ہیں۔واضح رہے کہ شیخ صالح بنو تمیم کی پاک نسل سے ہیں۔وہ مکہ مکرمہ کی ہائی کورٹ کے جج بھی ہیں۔انہوں نے بہت کم عمری میں ہی قرآن پاک حفظ کرلیا تھا۔شیخ صالح کے موقر اساتذہ میں شیخ عبدالعزیز بن بازجیسے جید علماء کرام کا نام بھی شامل ہے۔
سراج الدین قریشی نے ہند۔عرب تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ملکوں کے رشتے تاریخی ہیں اور اسلامی تعلیمات نے انہیں اور مضبوط کردیا ہے۔انہوں نے حال ہی میں وزیر اعظم نریندر مودی کے دورۂ سعودی عرب کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ شاہی حکومت نے وزیر اعظم کواعلیٰ ترین سول ایوارڈ دے کر تمام ہندوستانیوں کو اعزاز سے نوازا ہے۔
اس سے پہلے انڈیا اسلامک کلچرل سینٹر کے بورڈ آف ٹرسٹیزاور ایگزیکٹو کمیٹی کے ممبران ایس ایم خان،ابراراحمد،سید قمر احمد،شرافت اللہ اورجمشید زیدی نے بھی امام حرم کو گلدستے پیش کرکے ان کا استقبال کیا۔سراج الدین قریشی نے امام حرم کو شال اور ایک یادگاری تمغہ پیش کیا۔پروگرام کی نظامت معروف صحافی ایم ودودساجد نے کی اور ترجمانی کے فرائض جامعہ ملیہ اسلامیہ کے پروفیسر حبیب اللہ خان نے انجام دیے۔امام حرم کے ساتھ جن دوسری شخصیات نے انڈیا اسلامک کلچرل سینٹر کا دورہ کیا ان میں پرنس خالدالجربہ، فہد طحطانی،احمد الرومی اور محمد علی صدیق شامل ہیں۔اس تقریب میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے وابستہ بہت سی ممتاز شخصیات سمیت پانچ سو سے زائد افراد نے شرکت کی۔بعد میں امام حرم نے ظہر کی نماز کی امامت کی اور ہندوستان اور اس کے عوام کی خوشحالی وترقی کے لیے خصوصی دعا کرائی۔امام حرم نے سراج الدین قریشی اور ان کے رفقاء کے ساتھ دوپہر کا کھانا بھی تناول کیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *