ہندوپاکستان کا اصل دشمن ’آتنک واد‘ ہے: طاہرالقادری

ملک میں تصوف کے فروغ میں حکومت تعاون کرے: سید محمد اشرف
بین الاقوامی صوفی کانفرنس کے آخری دن اجمیر شریف میں غریب نواز کے نام سے یونیورسٹی قائم کرنے کے مطالبہ کے ساتھ ہی جامعہ ملیہ اسلامیہ اور اے ایم یو کے اقلیتی کردار کو بھی بحال رکھنے پر زور

(بین الاقوامی صوفی کانفرنس کے آخری اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا سید اشرف میں کچھوچھوی)
(بین الاقوامی صوفی کانفرنس کے آخری اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا سید اشرف میں کچھوچھوی)

نئی دہلی، ۲۰؍ مارچ (نامہ نگار) ہندوستان اور پاکستان نے تقسیم کے بعد سے اب تک چار جنگیں لڑلی ہیں، اب دونوں ملکوں کی حکومتوں کو یہ فیصلہ کرلینا چاہیے کہ انہیں آپس میں دوست بن کر رہنا ہے یا پھر ہمیشہ ایک دوسرے کا دشمن ہی بنے رہنا ہے۔ اس کے ساتھ ہی دونوں ملکوں کے رہنماؤں کو معلوم ہونا چاہیے کہ دونوں کا دشمن ایک ہی ہے اور وہ ’آتنک واد ’ ہے ،وہ ’دہشت گردی ‘ ہے۔ ان خیالات کا اظہار آج نئی دہلی کے رام لیلا میدان میں پاکستان کے عالمی شہرت یافتہ محقق علامہ طاہر القادری نے چار روزہ بین الاقوامی صوفی کانفرنس کے آخری اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

علامہ طاہرالقادری نے معاشرے میں پرامن بقائے باہم، ہم آہنگی، رواداری، برداشت و تحمل اور اتحاد کی روایت کو پھیلانے اور مضبوط کرنے میں صوفیائے کرام کے رول کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ ان کی تعلیمات کا اندازہ ہندوستان کو دیکھ کر لگایا جاسکتا ہے ۔ انہو ں نے کہا کہ اہل تصوف و عرفان نے لوگوں کی پریشانیوں کا خیال رکھا، ان کے عیبوں کو چھپایا ، ہر طرح کے بھید بھاؤ کو ختم کرنے کی عملی کوشش کی، اس کا ایک نتیجہ ہم ہندوستان کی شکل میں دیکھتے ہیں۔ ہندوستان دنیا میں سب سے زیادہ مذہبوں، ثقافتوں، تہذیبوں ، زبانوں اور جہتوں والا ملک ہونے کے باوجود محبت کی ایک لڑی میں پرویا ہوا ہے۔ ہندوستان کا جو سماجی تانا بانا ہے ، اس مضبوط و مستحکم بنانے میں صوفیائے کرام کے کلیدی رول سے کوئی انکار نہیں کرسکتا ہے۔ انہوں نے دنیا کو موجودہ بحران سے نکالنے کے راستوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ صوفیا عملی طور پر پیار، تواضع، غمگساری، بھائی چارگی، شفقت ومحبت اور سخاوت و انسانیت کا درس دیتے ہیں، جس کی ظاہر ہے آج کے دور میں بھی بڑی معنویت اور ضرورت ہے۔

علامہ طاہرالقادری نے عالمی سطح پر اسلام کے نام پر بڑھتی انتہاپسندی پھیلانے والے داعش کو اس دور کا سب سے بدترین خوارجی بتاتے ہوئے ان کے خروج کو احادیث کریمہ کی روشنی میں ثابت کیا۔انہوں نے کہاکہ احادیث میں داعش کے خروج،اس کے حرکات،اس کے علم اوراس کے دین وایمان کے بارے میں بھی حضور نے فرمایاہے ۔انہوں نے کہاکہ پچھلی دوصدیوں میں سیاسی مفاد کے حصول کے لیے اسلام کے نام پر دہشت گردی ،انتہاپسندی اورتشدد کا کھیل کھیلاگیا اورآج عالمی پالیسی کا رخ بھی یہی ہے۔عالم اسلام کے کچھ ممالک واضح طور سے اسلامی فکر کے فروغ کے نام پر مذہبی انتہاپسندی،تشدد،فرقہ واریت اورتنگ نظری کو فروغ دے رہے ہیں،یہی تنگ نظری انتہاپسندی پیداکرتی ہے اورتکفیری نظریے کو جنم دیتی ہے۔
ڈاکٹرطاہر القادری نے کہا کہ ہندوپاک کے باشندوں کے ایک دوسرے سے محبت کرنے کے باوجود دونوں ملکوں کے درمیان تناؤ ابھی بھی برقرار ہے۔لیکن دونوں ملکوں کو یہ سمجھنا چاہیے کہ ان کا مشترکہ اور سب سے بڑادشمن دہشت گردی ہے اوردونوں کو اس کے خلاف ایک ساتھ مل کر لڑنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی دہشت گردی اور خاص طور سے ہندوپاک کے میں ہونے والی دہشت گردی کی ایک بڑی وجہ غریبی بھی ہے،جن کے گھروں میں چولہے نہیں جلتے ،وہ مجبور ہوکر خود کو دہشت گردی کی آگ میں جھونک دیتے ہیں۔تصوف اسی غریبی،عدم مساوات،بھید بھاؤ،برتریت اورخودپسندی کو ختم کرنے کانام ہے۔دہشت گردی کو ختم کرنے کے لیے ہمیں صوفیائے کرام کے طریقے پر عمل پیراہونے کی ضرورت ہے۔انہوں نے اس بات پر بھی زور دیاکہ اخلاقیات، تصوف، رواداری، پرامن بقائے باہم جیسے موضوعات کو ہمارے درسی نصاب کا حصہ ہوناچاہیے۔

اس موقع پر ڈاکٹرطاہر القادری نے سلوک اورتصوف کے ۹؍مراحل بھی بیان کیے جن میں تزکیہ،تصفیہ،تخلیہ،تحلیہ،تجلیہ،تدنی،تدلی،تلقی اورتولی شامل ہیں۔انہوں نے ان تمام مدارج کو تفصیلی طور سے بیان کیا۔انہوں نے تصوف کے مشتملات بیان کرتے ہوئے کہاکہ شریعت زندگی،طریقت زندگی سے دور اورحقیقت اللہ سے مل جانے کا نام ہے اورصوفی اس پر پوری طرح گامزن ہوتاہے۔انہوں نے کہاکہ آج کے اس ترقی یافتہ مادہ پرستی کے دور میں جب ہر کوئی ذہنی سکون کی تلاش میں سرگرداں ہے،تصوف کو فروغ دینے کی بہت ضرورت ہے تاکہ تمام انسان ایک دوسرے کے غمخوار ہوجائیں۔
اس سے قبل آل انڈیاعلماء ومشا ئخ بورڈ کے صدر اورصوفی کانفرنس کے روح رواں سید محمد اشرف کچھوچھوی نے کہاکہ تمام ترسازشوں کے باوجود نفرت اورحسد کے ماحول میں اہل تصوف نے امن ومحبت کی قندیلیں روشن کی ہیں۔ہندوستان کے تمام صوفیہ اگر اس قندیل کو جلائے رکھیں تو پورے ملک میں خانقاہوں کا نظام پھر سے مستحکم ہوگااورگنگاجمنی تہذیب کو نئی جہت ملے گی۔آج علماء ومشائخ بورڈ پورے ہندوستانی مسلمانوں کی نمائندہ تنظیم بن چکی ہے اوراس کی نمائندگی میں پورے مسلمان ہمیشہ متحدہ رہیں گے۔اس پلیٹ فارم کے ذریعے ہندوستانی مسلمانوں کو ایک نیاوجود ملے گا۔اس کے ذریعے حضور اکرم ﷺکے چاہنے والوں کے ان کے حقوق دلائے جائیں گے ۔

اس کے ساتھ ہی انہوں نے عالمی صوفی کانفرنس کو دنیاکے دوسرے ملکوں میں بھی منعقد کرانے کا اعلان کیا۔انہوں نے عالمی صوفی کانفرنس کااعلامیہ پیش کرتے ہوئے کہاکہ انسانیت کے حوالے سے اسلام کی تعلیمات،صوفیہ کے ارشادات اورآئین ہند کا ہم پورے طور پر احترام کرتے ہیں۔ہم ہندوستان کی سالمیت کے تحفظ کے لیے متحدہ قومیت کی تائیدوتوثیق کرتے ہوئے ہر طرح کی فرقہ وارانہ قوت کی مذمت کرتے ہیں اوراس معاملے میں ہر سازش سے اپنی برأ ت کا اظہار کرتے ہیں۔طالبان،القاعدہ،داعش جیسی دہشت گرد تنظیموں کے تکفیری، فسادی اورانسانیت دشمن افکار اوران کی تباہ کاریوں کی مذمت کرتے ہیں۔عام شہریوں کا قتل عام،جائیدادواملاک کی تباہی،حکومتوں سے بغاوت،عام مسلمانوں کی تکفیر،مزارات کا انہدام اورداخلی وخارجی سطح پر نفرت کا کاروبار یہ سارے امور دہشت گردی کے دائرے میںآتے ہیں،ہم کھلے لفظوں میں اس کی مذمت کرتے ہیں،خواہ وہ فکری،نظریاتی،سیاسی ،اقتصادی یاجنگی اورخونیں دہشت گردی ہو۔

سید محمداشرف نے کہاکہ ہندوستان کی تمام بڑی خانقاہوں اورتصوف کے عالمی نمائندوں کی موجودگی میں عالمی امن وامان کے قیام کے لیے ہم احیائے تصوف کی ضرورت واہمیت کا اقرار کرتے ہیں،احیائے تصوف کے بغیر موجودہ عہد میں عالمی بھائی چارہ ،انسانی ہمدردی ورواداری اورقومی وبین الاقوامی ہم آہنگی ممکن نہیں ہے اورنہ ہی اس کے بغیر مسلمانوں میں معتدل فکر پروان چڑھ سکتی ہے اورانتہاپسندانہ افکار کا توڑ ہوسکتی ہے۔ہم دنیاکی تمام حکومتوں بالخصوص حکومت ہند سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ احیائے تصوف اورفروغ تصوف کے لیے ہر ممکن تعاون دے۔انہوں نے مطالبہ کیاکہ خانقاہوں کو مین اسٹریم سے جوڑاجائے ،اس کے لیے کئی چیزیں ضروری ہیں۔پہلایہ کہ صوفی سرکٹ قائم کیاجائے جس کے تحت تمام خانقاہوں کو بجلی، سڑک اوررین بسیراکی سہولت مہیاکی جائے۔ملک کے مختلف اہم شہروں میں صوفی سینٹر کا قیام ہو،صوفی لٹریچر،کلچراورمیوزک کو فروغ دیا جائے ۔صوفی کوریڈور بناکر تمام خانقاہوں کو ایک دوسرے سے جوڑاجائے۔

مولانا سید محمداشرف نے مطالبہ کیاکہ خواجہ غریب نواز کے نام پر اجمیر میں ایک مستقل یونیورسٹی بنام’غریب نوازیونیورسٹی‘ قائم کی جائے اور اس کے ساتھ ہی سبھی بڑی یونیورسٹیوں میں صوفی تعلیمات کے شعبے بنائے جائیں اورساتھ ہی پرائمری سے یونیورسٹی سطح تک نصاب میں تصوف کو شامل کیاجائے ۔اردواورفارسی زبان وادب کو فروغ دیتے ہوئے سول سروسیزسمیت تمام مقابلہ جاتی امتحانات میں اردواورفارسی کو بھی شامل کیاجائے ۔انہوں نے کہاکہ حکومت فرقہ وارانہ فسادات پر قدغن لگائے اور اب تک جو چھوٹے بڑے فسادات ہوئے ہیں،ان کے بارے میں وزارت داخلہ بیان جاری کرے کہ اب تک کیاکیاکارروائیاں کی گئی ہیں۔انہوں نے ڈکلیئریشن پیش کرتے ہوئے کہاکہ مسلمانوں کی گنجان آبادی والے علاقوں میں تعلیم کے مراکز کے ساتھ تکنیکی اورپیشہ ورانہ تعلیم کا بھی انتظام کیاجائے ۔آل انڈیاعلماء ومشائخ بورڈ کی پیش کردہ ترمیمات کو سامنے رکھ کر سینٹرل مدرسہ بورڈ بل پارلیمنٹ میں پیش کرتے ہوئے اسے جلد سے جلد منظور کیاجائے۔صوفی روایات میںیقین رکھنے والے افرادکو بورڈ اورکمیشنوں میں شامل کیاجائے ۔انہوں نے مطالبہ کیاکہ وقف ترمیمی بل ۔۲۰۱۳؍اورنواڈ ہمیں منظور نہیں ،اس پر نظر ثانی کی جائے۔اقلیتی امور کی وزارت میں الگ سے ایک درگاہ منیجمنٹ بورڈ بنایاجائے اوراس بورڈ کا مکمل انتظام وقف بورڈکی بجائے خانقاہوں کے سپرد کیاجائے۔اس موقع پر انہوں نے جامعہ ملیہ اسلامیہ،اے ایم یو اوردوسرے اقلیتی اداروں کا اقلیتی کردار بحال رکھے جانے کی بھی اپیل کی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *