دہشت گرد پہلے اپنے وطن کو برباد کرتے ہیں: مودی

(عالمی صوفی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی، تصویر:یوسف نقوی)
(عالمی صوفی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی، تصویر:یوسف نقوی)

نئی دہلی، ۱۷، مارچ(نامہ نگار): آل انڈیا علماء و مشائخ بورڈ کے بینر تلے منعقدہ چار روزہ عالمی صوفی کانفرنس کا افتتاح کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی نے آج یہاں وگیان بھون میں اسے وقت کی اہم ضرورت قرار دیا ۔ انہوں نے کہا کہ ایک ایسے وقت میں جبکہ پرتشدد تحریکوں کے سبب ہر طرف خوف و ہراس کا عالم ہے، وہ تصوف کو ایک امید کی کرن کے طور پر دیکھتے ہیں۔ وزیر اعظم نے تصوف کو دہشت گردی سے لڑنے کا مؤثر ہتھیار قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اسلام کے اصل پیغام امن کا علمبردار ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گرد سب سے پہلے اپنے وطن کو برباد کرتے ہیں اور ان کی وجہ سے مذہب کا نام خراب ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تصوف نے دنیا بھائی چارگی اور آپسی یکجہتی کا درس دیا ہے اور آج اس پیغام کو عام کرنے کی پہلے سے زیادہ ضرورت ہے۔
وزیر اعظم نے دہشت گردی کا سختی سے مقابلہ کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کسی مذہب کے خلاف لڑائی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ کچھ دہشت گردوں کو کیمپوں میں تربیت دی جاتی جبکہ کچھ انٹرنیٹ سے اس کی ترغیب پاتے ہیں۔
انہوں نے یہاں اپنے ’سب کا ساتھ سب کا وکاس‘ کے نعرے کو بھی دہرایا اور اسے تصوف کے اصول و نظریات سے جوڑنے کی کوشش کی۔ انہوں نے شیخ سعدی شیرازی کے مشہور شعر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہم سب ایک ہی آدم کی اولاہیں، ہم سب ایک خاندان کے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے سب کو امن و شانتی کے لیے کام کرنے کی تلقین کی۔
اس سے پہلے وزیر اعظم کی آمد پر ’بھارت ماتا کی جئے‘ کے نعرے لگاکر ان کا استقبال کیاگیا ۔
قابل ذکر ہے کہ اس کانفرنس کے روح رواں آل انڈیا علماء ومشائخ بورڈ کے بانی صدر مولانا سید اشرف کچھوچھوی ہیں۔ اس تنظیم کے سرپرست اجمیر شریف درگاہ سے وابستہ سید مہدی چشتی ہیں۔ صوفی کانفرنس کومسلمانوں کے درمیان مسلکی بنیاد پر تفریق کی خلیج کو مزید بڑھانے کی سازش کا بھی نام دیا جارہا ہے۔ اس کانفرنس کے مخالفین کا کہنا ہے کہ یہ سب آرایس ایس اور حکمراں جماعت بی جے پی کے ساتھ ہی حکومت کے تعاون سے ہورہا ہے، جو نہایت ہی غلط ہے۔’نیوز ان خبر‘ نے جب ان الزامات کے حوالے سے مولانا سید اشرف سے بات کی تو انہوں نے اسے سرے سے خارج کردیا اور کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی صرف بی جے پی کے لیڈر نہیں بلکہ آئینی طور پر وہ ملک کے وزیر اعظم ہیں اور اس اعتبار سے وہ ہمارے بھی وزیر اعظم ہیں۔

کانفرنس کے افتتاحی اجلاس میں ہندوستان بھر کی مختلف خانقاہوں سے وابستہ افراد کے علاوہ پاکستان، بنگلہ دیش، ایران ، مصر ، یمن ، امریکہ اور برطانیہ سمیت کئی ملکوں کے سفارتکاروں اور مندوبین نے بھی شرکت کی۔
پروگرام کے تحت یہ کانفرنس اگلے دوروز انڈیا اسلامک کلچرل سینٹر میں منعقد ہوگی جہاں تصوف اور موجودہ بحران کے حل کے حوالے سے شرکاء اپنے مقالے پیش کریں گے جبکہ ۲۰؍ مارچ کو رام لیلا میدان میں اجلاس عام ہوگا جس میں ایک اعلامیہ بھی جاری کیا جائے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *