مہاراشٹر میں مسلم پولس انسپکٹر پر حملہ

abdul-rehman-patni-shakir-

مسلم پولس افسر کے ساتھ شیو سینا کی دہشت گردی یہ ثابت کرتی ہے کہ مہاراشٹر میں عام آدمی کی سلامتی خطرے میں ہے : عبد الرحمن شاکر پٹنی

ممبئی، ۲۲ فروری (پریس ریلیز) :ممبئی مجلس اتحادالمسلمین کے صدر عبد الرحمن شاکر پٹنی نے اپنے ایک اخباری بیان میں لاتور کے پان گاؤں تعلقہ میں مسلم پولس سب انسپکٹر شیخ یونس پاشاہ میاں کے ساتھ شیو سینکوں کی دہشت گردی کی کھلے لفظوں میں مذمت کی اور کہا کہ اس طرح کی حرکتیں یہ ثابت کرتی ہیں کہ ریاست مہاراشٹر میں جب سے بی جے پی کی حکومت آئی ہے ہندو دہشت گردوں کے حوصلے بلند ہو گئے ہیں اور بی جے پی بھی کانگریس کی سابقہ حکومت کی ہی راہوں پر چل رہی ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ جس وقت شیخ یونس پاشاہ میاں کے ساتھ یہ کھلی دہشت گردی کی جارہی تھی اورپولس تھانہ میں گھس کر شیو سینا کے دہشت گرد عناصر بزدلانہ حرکت انجام دے رہے تھے تب پولس کا دیگر عملہ کیا کررہا تھا؟ دوسرے افسران کیوں نہیں حرکت میں آئے؟ ایسا تو نہیں جس طرح دہلی میں عدالت کے احاطے میں بی جے پی کے حمایت یافتہ وکلاء قانون کی دھجیاں اڑاتے ہوئے جے این یو کے اساتذہ اور پریس اور ٹی وی چینل کے نمائندے کو ’اوپر ‘کے حکم سے پیٹ رہے تھے، ایسا کچھ یہاں بھی اوپر سے آرڈر تو نہیں تھا کہ مسلمانوں کو دہشت زدہ کیا جاسکے کہ جب ایک مسلم پولس افسر کی یہ حیثیت ہے تو عام مسلمانوں کے ساتھ کس طرح کا سلوک ہو سکتا ہے۔ جب ایک پولس افسر کو اس طرح تھانہ میں گھس کر جان سے مارنے کی حد تک زدو کوب کیا جاسکتا ہے تو عام آدمی کی سلامتی کس طرح ممکن ہے۔ یہ بلا تفریق عوام کو غور کرنے کی ضرورت ہے۔ موجودہ ریاستی حکومت بھی صرف نعروں کی حکومت بن کر رہ گئی اور عوام غنڈہ اور دہشت گرد عناصر کے رحم و کرم پر ہیں۔ انہوں کہا کہ ’لیکن مجلس نہ صرف ایسے کسی دہشت گردانہ اور بزدلانہ عمل کی مذمت کرتی ہے بلکہ وہ اس سلسلے میں ضروری دستوری کارروائی بھی کرے گی۔ ان کہنا ہے کہ مجلس ہندوستان میں مسلمانوں اور پسماندہ طبقات کو ان کے آئینی حقوق دلانے کی جد جہد کے لئے ہمیشہ سینہ سپر رہے گی اور مسلمانوں سمیت سبھی پسماندہ طبقات کو حقوق کی بازیابی تک یہ تحریک جاری رہے گی ۔عبد الرحمن شاکر پٹنی نے کہا کہ شر پسند اور بھگوا دہشت گرد مجلس کے بڑھتے قدم اور مسلمانوں اور دیگر پسماندہ طبقات میں اس کے بڑھتے اثر و نفوذ کی وجہ سے بوکھلاہٹ کا شکار ہیں۔

قابل ذکر ہے کہ ہفتہ کے روز اسسٹنٹ سب انسپکٹر یونس شیخ کو دایاں محاذ کے چند انتہا پسندوں نے بھگوا جھنڈا لے کر پورے گاؤں میں پریڈ کرنے پر مجبور کیا تھا اور ان کی پٹائی بھی کی تھی۔ یونس کا کہنا ہے کہ واقعہ کی اطلاع دینے کے باوجود ان کے دیگر پولس ساتھی انھیں ان شرپسندوں سے بچانے کے لیے نہیں آئے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *