صحافت کا آغاز و ارتقا

asri sahafatصحافت کے آغازکی تاریخ تقریباً دوہزارسال سے زیادہ قدیم ہے،جب رومیوں نے اطلاعات کی ترویج کے لیے ایکٹا سینیٹس (Acta Sanatas)نامی اخبار کی بنیاد رکھی تھی۔ پھر سنہ۶۰؍قبل مسیح شہنشاہ گایس جولیس سیزر (Giusjulius Caesar)نے سینٹ کی اطلاعات، ضروری اعلانات اور سیاسی خبروں سے عام شہریوں کو باخبر رکھنے کے لیے روزانہ اطلاعاتی پرچہ جاری کیا جسے ’ایکٹا ڈائیورنا ‘ (Actadiurna) کا نام دیا گیا۔

غلام حیدر نے اپنی کتاب ’اخبارکی کہانی‘ میں نتیجہ اخذکرتے ہوئے لکھاہے:
’’چنانچہ اب تک جتنی معلومات حاصل کی جاچکی ہیں ان کے اعتبار سے روم کا ’ایکٹ اڈائیورنا‘ دنیا کا سب سے پہلا ’عوامی اخبار‘’سرکاری اخبار‘ اور ’دیواری اخبار‘ تھا۔‘‘
(اخبار کی کہانی،صفحہ۲۶)
رومیوں کی خبررسانی کی اس روایت کے بعد ہمیں چین میں تقریباً۱۱؍سوسال تک جاری رہنے والے ’سرکاری اخبار ‘ یا ’درباری اخبار‘کی پختہ روایت ملتی ہے جس کا آغازچین کے ’تانگ‘ خاندان کی حکمرانی کے دوران ہواتھا۔ اطلاعات کی ترسیل کے تعلق سے ایک نئی تحقیق کی بابت دہلی کا معروف روزنامہ ’ہندوستان ایکسپریس‘ لکھتا ہے:
’’۔۔۔حضرت عمر قبول اسلام سے پہلے بھی کُشتی لڑنے کے فن میں بڑی دلچسپی رکھتے تھے اور اسلام لانے کے بعد بھی اس فن سے ان کی یہ دلچسپی باقی رہی۔ وہ مدینہ آنے والے بیرونی مہمانوں سے ان کے علاقوں میں ہونے والے کشتی مقابلوں کی تفصیلات معلوم کرکے اسے لکھ لیاکرتے تھے، بعدازاں وہ اس روداد کو عوامی میلوں میں پڑھ کرسنایابھی کرتے تھے۔ معروف عالمی جریدہ ’فار ایسٹرن اکنامک اینڈپالیٹکل ریویو‘کے الفاظ میں یہ روداد انسانی تاریخ کا پہلا اسپورٹس بلیٹن تھی۔‘‘۱؂
برصغیرمیں غیرمنظم وغیرمطبوعہ صحافت کی ابتدا گوکہ ترسیل اطلاعات کے ’برید‘نظام سے ہوئی، اسے ارباب اقتدار نے اپنی حکمرانی کے نظام میں بہتری کے لیے ایک خاص’حربہ‘کے طور پر اپنایا مگربعد کے دنوں میں ترسیل ابلاغ کی یہی کوشش تدریجی منازل طے کرتی ہوئی اخباری صحافت کے نقطہ آغازکے طورپر متشکل ہوئی۔ پھرحصول اطلاعات کا یہ نظام وقائع نویسی اورخفیہ نویسی کے عمل سے گزرتے ہوئے باضابطہ صحافت کے لیے زمین ہموار کرنے کا باعث بھی بنا۔
ابتدامیں سلاطین دہلی نے برق رفتارگھوڑوں کی مدد سے ترسیل اطلاعات کو رواج دینے کی کوشش کی۔ بقول ڈاکٹرطاہر مسعود:
’برعظیم پاک وہند میں مسلم فاتحین نے خبروں کی ترسیل کے لیے برید کانظام متعارف کرایا۔ اس نظام کے تحت اطلاعات برق رفتارگھوڑوں کے ذریعہ ایک مقام سے دوسرے مقام تک پہنچائی جاتی تھیں۔ اس کی بنیاد سب سے پہلے خاندان غزنوی نے ۹۹۶ء سے۱۱۸۶ء تک غزنی اور لاہور میں حکومت کرتے ہوئے رکھی، جسے تیرہویں صدی عیسوی میں سلطان غیاث الدین بلبن نے عادلانہ نظام حکومت کے قیام کے لیے غیرمعمولی ترقی دی‘۔ ۲؂
برصغیرمیں مطبوعہ صحافت کا آغاز ایسٹ انڈیاکمپنی کی ہندوستان آمد کے بعد ہوا۔ اس کے پیش رو’’ولیم بولٹس‘‘ قرار پاتے ہیں، جنہوں نے غیرمطبوعہ خبروں کے مجموعہ کے طورپراپنی ایک کتاب ’’کنسیڈیریشن آف انڈین افیئرس‘‘(Consideration of Indian Affairs) شائع کی۔ اس میں صاحب کتاب نے ایسٹ انڈیاکمپنی کی تاریخ اور اس کے ہتھکنڈوں کی تفصیلات بیان کیں۔اس سلسلے میں محمدافتخار کھوکھرلکھتے ہیں:
’یہ کتاب اس لحاظ سے اہمیت کی حامل ہے کہ یہ ایسٹ انڈیاکمپنی کی پہلی تاریخ ہے جوجنگ پلاسی کے صرف ۱۷؍برس بعد اس وقت منظرعام پرآئی جب ہندوستان میں انگریزوں کی لوٹ مار عروج پرتھی۔ ایک لحاظ سے اس کتاب کو غیرمطبوعہ خبروں کامجموعہ قرار دیا جاسکتا ہے‘۔ ۳؂
ولیم بولٹس نے یہ ’کارنامہ‘ کیوں انجام دیا؟ اس کی تفصیلات ڈاکٹرطاہر مسعود نے یوں بیان کی ہیں:
’کمپنی کے وہ ملازمین جو غیرقانونی تجارت میں ملوث تھے،ابتدا میں ان کی تعداد محدود تھی لیکن جیسے جیسے ان میں اضافہ ہوتا گیا اور نجی تجارت نے کھلی لوٹ مارکی صورت اختیار کرلی توجن لوگوں کواس بہتی گنگامیں ہاتھ دھونے کاموقع نہ ملا، وہ کمپنی کے مخالف ہوگئے۔جب باہمی اختلافات نے شدت اختیار کی توانگریزی رائے عامہ کوہموار کرنے اور دلوں کابخار نکالنے کے لیے اس محروم طبقے کواخبار کی ضرورت محسوس ہوئی۔ ہندوستان میں اولین اخبار نکالنے کاخیال ان ہی لوگوں کو آیاجنہیں کمپنی سے کچھ شکایتیں تھیں اور جنہوں نے ان شکایتوں کو منظر عام پرلانے کے لیے اپنی ملازمتوں سے استعفے دیے تھے یاجنہیں خودکمپنی نے برطرف کردیا تھا۔ ولیم بولٹس جسے کمپنی نے بالجبر ہندوستان سے رخصت کردیا، نسلاً ولندیزی تھا۔ کمپنی کی ملازمت میں رہتے ہوئے اس نے نجی کاروبار کے ذریعے ۹۰؍ ہزار پونڈ کمالیے تھے، ۱۷۶۶ء میں کورٹ آف ڈائریکٹرزکی نگاہوں میں معتوب ہوکر ملازمت سے مستعفی ہواجس کے بعد اس نے انتقاماً کلکتہ کے کونسل ہاؤس اور دیگر مقامات پرایک اشتہار چسپاں کیاجس میں اس نے اعلان کیاکہ وہ ایک ایسے شخص کی تلاش میں ہے جو خبررسانی کے فن سے واقف ہو اورطباعت کے کام میں دلچسپی رکھتا ہو۔ مسٹربولٹس نے مطلوبہ شخص کو ٹائپ اوردوسرے ضروری سامان فراہم کرانے کی یقین دہانی بھی کرائی تھی جس کا واضح مطلب یہ تھاکہ وہ اخبار نکالنے کے لیے ایک تجربہ کار معاون کی تلاش میں ہے۔ اس اشتہارمیں سب سے زیادہ خطرناک بات یہ تھی کہ مسٹربولٹس نے انکشاف کیاتھاکہ اس کے پاس عوامی مفاد سے متعلق کچھ ایسے مسودات ہیں جنہیں لوگ دیکھنا یانقل کرنا چاہیں تواس کے مکان پر آسکتے ہیں۔مسٹر بولٹس کا اشتہار کمپنی کے لیے خطرے کا الارم ثابت ہوااور یوں اسے ہندوستان سے بہ حسرت ویاس رخصت ہوناپڑا۔‘ ۴؂
ولیم بولٹس کی دلی آرزوبھلے ہی پوری نہ ہوسکی اوروہ سرزمین ہندسے پہلااخبار شائع کرنے کی ناکام آرزولیے وطن واپس چلا گیا لیکن اس نے(Consideration of Indian Affairs) لکھ کربعد کے لوگوں کے لیے اخباری صحافت کی خاطرفکری غذا فراہم کرائی۔ اس طرح مطبوعہ صحافت کا پہلا نمونہ’ہکیزبنگال گزٹ یاکلکتہ جنرل ایڈورٹائزر‘۲۹؍جنوری ۱۷۸۰ء کو منظرعام پرآیا۔ ’ہکیزبنگال گزٹ‘ چارصفحات پر مشتمل ہفت روزہ اخبار تھا۔ ۵؂ یہ ہندوستان کااولین اخبار تھاجسے زبان انگریزی میں جاری کیاگیاتھا۔صحافتی تاریخ مرقوم کرنے والوں نے اس اخبار کی اشاعت کاجومقصد بیان کیاہے، اس سے یہی تاثر ابھرتا ہے کہ ولیم بولٹس کے خواب کو اس کی ملک بدری کے ۱۲؍ برسوں بعدجیمزاگسٹس ہکی نے شرمندۂ تعبیرکیااورکمپنی کی بد اعمالیاں انتقاماً طشت از بام کی گئیں۔ اس کا خمیازہ متحدہ ہندوستان کے اس اخبارکوکچھ یوں بھگتنا پڑا کہ اخباری صحافت کا یہ نوزائیدہ عنفوان شباب پر پہنچنے سے قبل ہی برطانوی جبرواستبداد کا شکار بن گیا۔ نتیجتاًمحض دو برسوں کی مدت گزارنے کے بعد مطبوعہ صحافت کایہ اولین نمونہ تاریخ کاحصہ بن گیا۔
’ہکیزبنگال گزٹ ‘یا’کلکتہ جنرل ایڈورٹائزر‘کی صورت میں سرزمین ہندسے مطبوعہ اخبار کی اشاعت کے سلسلے کاآغاز توہوگیا لیکن ابتداًاخباری صنعت پر ہندئ النسل افرادکا تسلط قائم نہ ہوسکا۔ اس طرح یکے بعد دیگرے شروع ہونے والے بیشتر اخبارات کے مالکانہ حقوق یامدیرانہ امورفرنگیوں کے ماتحت ہی رہے یا پھرہندوستان کو’سونے کی چڑیا‘سمجھنے والے ان غیر ملکیوں نے یہاں اخبار ی صنعت کو فروغ دینے کی کوشش کی۔ یہ اپنی کاروباری ضرورتوں کے باعث ہندوستان میں سکونت پذیر ہوئے اوردونوں ہاتھوں سے یہاں کی دولت بٹورنے میںیقین رکھتے تھے۔ حالانکہ ان میں سے بیشترنہ تو کمپنی نواز تھے اور نہ ہی ایسٹ انڈیاکمپنی کی سرگرمیوں کے قصیدہ خواں، مگرابتدائی عہد کے اخبارات کے حوالے سے سامنے آنے والی تحقیق ہمیں یہ ضرور بتاتی ہے کہ زیادہ تر اخبارات ان ہی لوگوں نے جاری کیے جنہیںیاتو کمپنی سے ذاتی طور پر نقصانات اٹھانے پڑے تھے یاپھرجن کے مفادات کو کمپنی نے عزیز نہیں رکھاتھا۔
ہندوستان میں مطبوعہ اخبارات کی اشاعت کے اولین دورمیں ایسٹ انڈیا کمپنی نے بھی ’جواباًعرض ہے‘کاثبوت دیتے ہوئے نوزائیدہ صحافت کے فروغ میں سرگرم رول نبھایا۔ تحقیق سے یہ حقیقت بھی آشکارہوچکی ہے کہ لعنت وملامت کاجواب دینے کی غرض سے کمپنی نے بھی یا تواخباری صنعت میں دلچسپی لی یا پھر بلاواسطہ کمپنی کے کارپردازوں نے بعض اخبارات کے اجرامیں سرگرم یاقائدانہ کردار ادا کیا۔اس سلسلے میں عتیق صدیقی کی یہ رائے قابل ذکرہے:
’۔۔۔پہلے انگریزی اخبارہکیزگزٹ کاپہلانمبرشائع ہونے کے پورے ۹؍مہینے بعد’انڈیاگزٹ‘کااجراء ہواجو ہندوستان کا دوسراانگریزی اخبار تھا۔ اپنے پیش رو کی طرح یہ بھی ہفتے وار شائع ہوتاتھا دونوں میں فرق صرف یہ تھاکہ ہکی کااخبارکمپنی کادشمن تھااور انڈیا گزٹ کوکمپنی بہادر کی حمایت اور سرپرستی حاصل تھی۔۔۔۔انڈیاگزٹ کااجرا نومبر۱۷۸۰ء میں ہوا ۔یہ اخبار یقینا’ہکیز گزٹ‘ کے جواب میں نکالاگیاتھااور اس کے اجرا کے محرک وہ سب لوگ تھے جن کومسٹر ہکی اپنی دشنام طرازیوں کا ہدف بنایاکرتے تھے۔۔۔ کوئی شریف اور ذی عزت انسان مسٹرہکی جیسے بدزبان اور غیرمہذب آدمی کے منہ لگنے اور اپنے اوپر کیچڑ اچھلوانے کے لیے مشکل ہی سے تیار ہوسکتاتھا۔’انڈیاگزٹ‘ کی زندگی کے ابتدائی دورمیں اس اخبار کابھی وہی رنگ ڈھنگ رہاجو مسٹر ہکی کے اخبار کاتھا۔‘ ۶؂
محولہ بالااقتباس سے جہاں ایک طرف یہ نکتہ پوری طرح واضح ہوجاتاہے کہ کمپنی کے عہدیداروں نے اپنی بداعمالیوں کے منظرعام پر لائے جانے کے بعد دفاعی حکمت عملی کے تحت اخباری صنعت میں دلچسپی دکھانی شروع کی وہیں اس کے بین السطور سے یہ عقدہ بھی کھل جاتاہے کہ ہندوستان میں مطبوعہ صحافت کا آغاز صحافت کے ان اعلیٰ معیارات کو پیش نظر رکھ کرنہیں کیاگیا تھاجس کامقصدترسیل وابلاغ کوعوام دوست روایات سے ہمکنار کرنا ہوتا ہے۔ اس کے برعکس اخباری صنعت اپنے آغاز میں بھی اسی طرح مخصوص طبقے کی حمایت و مخالفت سے عبارت رہی جس نہج پر آج کے دورمیں ذرائع ابلاغ سے منسوب ادارے غیرجانبداری کاڈھونگ رچاکر اپنے مالک صنعت کارگھرانوں کے مفادات کے تحفظ کافریضہ انجام دے رہے ہیں۔فرق صرف یہ تھاکہ عہد حاضر کی طرح صحافتی اصول وضوابط وضع نہیں کیے گئے تھے جس کی وجہ سے دور اول کے اخبارات بے اصولی کی راہ پر بے خطر رواں دواں تھے جبکہ فی زمانہ اخباری صنعت ضابطوں کی تھوڑی بہت پاسداری کرنے پرمجبور ہے۔
(جاری)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *