بہار میں  لگاتار معصوم بچوں کی ہورہی  موت اُردو کے سوداگر منارہے جشن

بہار میں  لگاتار معصوم بچوں کی ہورہی  موت
 اُردو کے سوداگر منارہے جشن، شرم تم کو مگر نہیں آتی: نظرعالم
پٹنہ: (نمائندہ) ایک طرف جہاں بہار میں لگاتارمعصوم بچوں کی موت ہورہی ہے وہیں دوسری جانب ریاست بہار کے محکمہ اُردو ڈائرکٹوریٹ کے سکریٹری امتیازکریمی ۲۲ اور ۳۲ جون کو جشن اُردومنانے جارہے ہیں۔ حد تو یہ ہے کہ اُردو کے نام پر جس جشن کو یہ صاحب مناتے ہیں اُس کا افتتاح وزیراعلیٰ نتیش کمار ہی کرتے ہیں ۔بہار کے اقلیتی طبقہ کے لئے کل کا دن غم کا رہا۔ کل  بہار ریاستی فوڈ کارپوریشن کے چیئرمین اورباوقار شخصیت کے مالک محمدسلام صاحب انتقال فرماگئے ہیں۔  ایسے میں اس جشن کو منانا حکومت اور اُردو ڈائرکٹوریٹ کے لئے کہاں تک درست ہے۔ کیا اس محکمے سے اقلیتی طبقہ کا کوئی لینا دینا نہیں ہے؟یہ فرضی محکمہ ہے جہاں صرف روپیہ اُگاہی کے سوا کچھ بھی نہیں ہوتا۔ بہار کے اسکولوں، کالجوں میں نہ تو اُردو کی ڈھنگ سے کتابیں دستیاب ہیں اور نہ ہی اساتذہ۔ پھر یہ فرضی جشن اُردو کیوں؟امتیازکریمی جیسے لوگ حکومت کے دلال اور اُردو کے سوداگرتو ہیں ہی اِنہیں بہار کے معصوم بچوں کی موت کا کوئی ملال بھی نہیں لگتا۔ بے شرمی کی انتہا ہے جناب جشن اُردو کے موقع سے مشاعرہ بھی کرارہے ہیں۔ جشن اُردو پر اپنی برہمی کا اظہار کرتے ہوئے آل انڈیا مسلم بیداری کارواں کے صدرنظرعالم نے کہا کہ محکمہ کے سکریٹری جتنی جلد ہو اس جشن کو رد کرے۔ اگر ایسا نہیں ہوا تو حکومت کے مکھیا نتیش کمار سے اس جشن کو رد کرنا کا مطالبہ کیا جائے گا۔مسٹرعالم نے آگے کہا کہ اُردو کے نام پر جس ضلع میں بھی اُردو مترجم بحال تھے سبھوں کو ضلع سے اٹھاکر اُردو مافیا اور سرکار کے پیسے کا غلط استعمال کرنے والے دلال سوداگر امتیازکریمی نے پٹنہ اپنے دفتر میں اُن سبھی اُردوملازمین سے اپنا کام نکلوارہے ہیں۔ ضلع میں اُردو کے فروغ کی جگہ اُردو بدحالی کا شکارہوتی جارہی ہے۔ کسی بھی ضلع میں اُردو مترجم نہیں دکھے گا یہ مافیا امتیازکریمی سبھی اسٹاف کو اپنا غلام بناکر اُردو کے نام پر سرکار کے پیسوں سے اپنی دُکانداری چلارہے ہیں اور اس میں اس کا ساتھ بہار کے اُردو اخبار جن کا سب کچھ صرف اور صرف روپیہ کمانا مقصد ہے وہ  دے رہے ہیں جس خبر کو شائع کرنا چاہئے اس کے لئے اخباروں میں جگہ نہیں رہتی لیکن اُردو کے مافیا کی خبرچھاپنے کے لئے نصف صفحہ سے لیکر پورا پورا صفحہ دیا جاتا ہے۔ سب ڈھونگی ہیں اُردواخبارات بھی دلالی تک محدود ہوگیا ہے جس اخبار میں جس کی رسائی ہے جتنی بڑی خبر چھپوا لو، یہی معیار ہے کچھ نام نہاد اُردو اخبار والوں کا۔بچوں کی موت پر اُردو کا جشن کیا ملک کے دوسرے بھائیوں کے غم کا مذاق اُڑانا نہیں۔ ایک طرف سیکولر بننے کا ڈھونگ دوسری طرف موت  پر جشن۔ حکومت بہار اس فرضی جشن اردو کو فوری  رد کرے اور حکومت بہار اُردو کے نام پرسرکاری پیسوں کا بندربانٹ کرنے والے سوداگر مافیاؤں پر لگام کسے تبھی عوام کا بھروسہ حکومت پر قائم رہ پائے گا۔
Facebook Comments
Spread the love
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply