ملک ایک خطرناک دور سے گذررہا ہے: پروفیسر پرنے

جے این یو طلبہ یونین کے سابق صدر چندرشیکھر کی بیسویں برسی کے موقع سے منعقد ہوا پروگرام

?

نئی دہلی، ۲؍ اپریل(نامہ نگار)آج جواہرلعل نہرو یونیورسٹی میں جے این یو طلبہ یونین کے سابق صدر چندر شیکھر کے بیسویں یوم شہادت کے موقع سے ایک پروگرام کا انعقاد آزادی چوک پر کیا گیا۔اس میں جے این یو طلبہ یونین کے سابق صدر پروفیسر پرنے شریواستواور بہار کے بھوجپور حلقہ سے رکن اسمبلی نے بطورمہمان شرکت کی۔پروفیسر شریواستوالہ آباد یونیورسٹی میں درس وتدریس کے شعبہ سے وابستہ ہیں اور چندرشیکھر کے قریبی ساتھی رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج ملک بہت نازک موڑ پر کھڑا ہے،اور پارلیمنٹ میں حزب مخالف نہ ہونے کی صورت میں طلبہ اور خاص طور سے جے این یو برادری سڑکوں پر اتر کر حکومت کی غلط پالیسیوں کو لوگوں کے سامنے لا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’بھارت ماں ‘کا جب تصور ذہن میں آتا ہے تو اس میں چندر شیکھر سے لے کر روہت اور کنہیا کی ماں بھی شامل ہیں جو کہ بہادری ، ہمت اور جوش وجذبہ کی نادر مثال ہیں۔انہوں نے جے این یو کی موجودہ صورت پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہاں کے طلبہ مبارک باد کے مستحق ہیں ،کیونکہ آپ نے اس حکومت کو اوقات بتائی ہے جو کہ اکثریت کے نشہ میں چور اپنے آپ کو ہر قسم کے سوال سے بری سمجھ رہی تھی۔
انہوں نے کہا کہ جو کبھی آنجہانی چندو کی ماں کی آواز تھی آج وہی آواز ہر طرف گونج رہی ہے،یہ اور بات ہے کہ اس کی عبارت نئی ہے،مگر دھن اورمعانی تو وہی پرانے ہیں۔اس کے بعد سی پی آئی( مالے) کے لیڈر اور بھوجپور سے ایم ایل اے سداما پرساد نے طلبہ سے خطاب کیا۔ انہوں نے علاقہ میں دلت، مسلم اور دوسری پسماندہ ذاتوں پر ہورے مظالم کا ذکر کرتے ہوئے نتیش کمار کی حکومت پر نشانہ سادھا۔ انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ بہار اسمبلی کے اند ر حکومت تعصب کرتی ہے۔اس موقع پر آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن (آئیسا)کی طرف سے چند رشیکھر پر ہندی زبان میں ایک کتاب کے علاوہ جے این یو طلبہ ذریعہ چلائی جارہی یونیورسٹی بچانے کی تحریک کے بارے میں ’جے این یو اسپیکس‘ کے نام سے ایک کتابچہ کی رونما ئی کی گئی۔

?

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *