ذاکر نائک کا جرم اعلانیہ لوگوں کو اسلام قبول کرانا ہے

اعظم شہاب
ممبئی: اسلامک ریسرچ فاؤنڈیشن کے سربراہ اورمعروف مبلغ ذاکر نائک کے خلاف حکومت کا گھیرا تنگ ہوچکا ہے اور وطن واپسی کے بعد ان کی کسی بھی وقت گرفتاری ہوسکتی ہے۔ وہ فی الوقت ہندوستان کے باہر کسی افریقی ملک میں ہیں، جہاں ان کے دفتر کے بقول وہ پہلے سے طے شدہ پروگراموں کے سلسلے میں تشریف لے گئے ہیں۔ واپسی کب ہوگی؟ اس کے بارے میں ہنوز غیریقینی کیفیت ہے۔ یکم جولائی ۲۰۱۶ء کی شب میں بنگلادیش کی راجدھانی ڈھاکہ کے ایک ریسٹورنٹ میں ہوئے دہشت گردانہ حملے کے سلسلے میں ڈھاکہ پولیس نے ۴؍ اگست ۲۰۱۶ء کو دو نوجوانوں کو گرفتار کیا تھا، جن کے تعلق سے یہ خبر ہمارے ہندوستانی میڈیا میں آئی کہ یہ دونوں ڈاکٹر ذاکر نائک کی تقاریر سے متاثر تھے۔ بس پھر کیا تھا؟ دیش کا پورا میڈیا ذاکر نائک کو دہشت گرد قرار دینے کے ساتھ ہی

ذاکر نائک
ذاکر نائک

ان کی گرفتاری کی مانگ کرنے لگا۔
جس وقت ذاکر نائک کے خلاف پورے ملک میں بھونچال آیا ہوا تھا، اس وقت وہ سعودی عرب میں تھے۔ وہ رمضان کا مہینہ تھا۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام اہلِ ملک کے لیے بھیجا تھا جس میں انہوں نے اپنے اوپر حکومت اور خاص طور سے میڈیا کے ذریعے لگائے جانے والے الزامات کی تردید کی تھی۔ لیکن جس وقت وہ مکہ میں عمرہ کی ادائیگی کررہے تھے، عین اسی وقت یہاں ہمارے ملک میں ان کے خلاف میڈیا میں ایک مہم جاری تھی جو انہیں دہشت گرد ثابت کرنے میں اپنے اپنے طور پر بازی لے جانا چاہتے تھے۔ اس وقت میڈیا میں ذاکر نائک کے خلاف کس طرح ٹرائل چل رہا تھا، اس کا اندازہ عید کے دن ایک ہندی نیوز چینل پرہلہ بول نامی پروگرام سے لگایا جاسکتا ہے، جس میں پروگرام کی میزبان انجنا اوم کشیپ نے انہیں آتنک دوت، آتنک وادیوں کا گرو، آتنکی بنانے کی چلتی پھرتی فیکٹری، نفرت کے بیج بونے والا، نوجوانوں کو اکسانے والا، زہرپھیلانے والا اور جاہل قرار دینے کی کوشش کی تھی۔
یہ ہلہ بول پروگرام ایک مباحثے پر مشتمل تھا اور محترمہ انجنا اس پروگرام کی میزبان تھیں۔ میزبان ہونے کی بناء پر ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ وہ مباحثے کو تعمیری رخ دیتے ہوئے اس میں توازن رکھنے کی کوشش کرتیں اور دلائل کی بنیاد پر کوئی منطقی نتیجہ سامنے لاتیں، کیونکہ یہی ایماندارانہ صحافت کا تقاضا ہے، لیکن ہوا اس کے بالکل برعکس۔ نہ مباحثے کو تعمیری رخ دیا گیا، نہ دلائل کی بنیاد پر شرکاء کے دعووں کو پرکھا گیا اور نہ ہی کوئی معیاری بات سامنے لائی گئی۔ پورا پروگرام ذاکر نائک کو مارو، پکڑو، گرفتار کرو کی چیخ وپکار اور محترمہ انجنا اوم کشیپ کی ان چیخ وپکار کرنے والوں کی کھلی حمایت سے عبارت تھا۔ مذکورہ پروگرام یہ ثابت کرنے کے لیے کافی تھا کہ ملک کا فوجداری قانون بھلے ہی ثبوت وشواہد کا متقاضی ہو، مگر ہماری جمہوریت کے چوتھے ستون کو اس کی چنداں ضرورت نہیں ہے۔
جن دوبنیادوں پر ذاکر نائک کو موردِ الزام ٹھہرانے کی کوشش ہورہی ہے، اگر ان کا جائزہ لیا جائے توان دونوں کا ربط کسی طور پر ایک دوسرے سے نہیں ملتا ہے۔ پہلی بنیاد یہ بتائی جارہی ہے کہ ڈھاکہ بم دھماکے میں ملوث ایک دہشت گرد نے ذاکر نائک کے خیالات کو فیس بک پر شیئر کیا تھا۔ یہ خبر بنگلہ دیش کے ‘دی ڈیلی اسٹار’ نامی اخبار میں شائع ہوئی تھی اور جسے بغیر کسی تفتیش کے ہمارے قومی میڈیا نے اچک لیا اور ذاکر نائک کوآتنک دوت قرار دے دیا۔ حالانکہ مذکورہ بنگلادیشی اخبار نے دوسرے دن ہی اس خبر کی صحت سے انکار کیا۔ اگر اس کو کلیہ قرار دے دیا جائے تو غالباً فیس بک کا ہر یوزر کسی نہ کسی معاملے میں مجرم قرار پائے گا، کیونکہ ہر یوزر کسی نہ کسی سے متاثر ضرور ہوتا ہے اور وہ جس سے متاثر ہوتا ہے اس کے کسی پوسٹ یا کسی قول کو وہ اپنے حلقے میں شیئر کرتا ہے اور جس کے پوسٹ شیئر یا جسے فالو کیا جارہا ہے، وہ اس بات سے قطعی لاعلم ہوتا ہے کہ اس کا فالور کون ہے۔
دوسری بات اسامہ بن لادن کے معاملے میں کہی جارہی ہے کہ ذاکر نائک ہر مسلمان کو اسامہ کی طرح بننے کی بات کہتے ہیں۔ میں نے بھی یہ ویڈیو دیکھی ہے جس میں وہ امریکہ کی دہشت گردی کا تذکرہ کرنے کے دوران اسامہ بن لادن کی اس معاملے میں ستائش کرتے ہیں کہ وہ امریکہ کو دہشت میں مبتلا کیے ہوئے ہے۔ لیکن اسی ویڈیو میں وہ یہ بات بھی کہتے ہیں کہ اسامہ اگر حق پر ہوگا تو جنت میں جائے گا اور اگر حق پر نہیں ہوگا تو جہنم میں، نیزآگے وہ واللہ اعلم بھی کہتے ہیں۔ یہ ویڈیو اس وقت کا ہے جب اسامہ بن لادن زندہ تھا اورایک سوال کے جواب میں ذاکر نائک نے یہ بات کہی تھی۔ اس کو دہشت گردی کو پروموٹ کرنے کے زمرے میں نہیں لیا جاسکتا۔ اگر ایسا ہوتا تو جو لوگ حافظ سعید سے پاکستان جاکر ملاقات کرتے ہیں اور بم دھماکوں کے الزام میں قید سادھوی پرگیہ سنگھ ٹھاکر یا سوامی اسیمانند کی حمایت کرتے ہیں اور ان کی تصویریں سوشل میڈیا پر گردش کررہی ہیں، وہ بھی صریح طور پر دہشت گردی کے پروموٹر قرار پائیں گے۔ یوں بھی ملک میں دہشت گردی کا سب سے بڑا فائدہ اسی ٹولے کا ہوا ہے جو دہشت گردی کو ملک کی ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ قرار دیتا ہے۔
ممبئی کے سابق پولیس کمشنر اور باغبت لوک سبھا حلقہ سے بی جے پی کے موجودہ رکن پارلیمنٹ ستیہ پال سنگھ نے اسی دوران جب ذاکر نائک کا معاملہ چھایا ہوا تھا، یہ کہا تھا کہ ۲۰۰۸ء میں میرے پاس ذاکر نائک کے خلاف کافی ثبوت جمع تھے، جسے میں نے مرکزی حکومت کو دے دیا تھا۔ یہاں مرکزی حکومت سے ان کی مراد کانگریس کی حکومت تھی۔ اس کے باوجود اس کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔ اس کے علاوہ انہیں دنوں ذاکر نائک کے معاملے میں مسلمانوں دو حصوں میں تقسیم ہوگئے تھے۔ ایک طبقہ ذاکر نائک کی حمایت میں اتر آیا تھا۔ اس کا موقف یہ تھا کہ اس کے ذریعے حکومت مسلمانوں کو دہشت زدہ کرناچاہتی ہے اور یہ کہ آج ذاکر نائک کی تو کل کسی اور کی باری ہوگی، اس لیے وہ ذاکر نائک کی حمایت میں کھل کر آگئے تھے۔ یہاں تک کہ کانگریس سے رکن پارلیمنٹ غلام نبی آزاد نے پارلیمنٹ میں ذاکر نائک کے معاملے میں تقریر بھی کی تھی، جس میں انہوں نے میڈیا ٹرائل پر اپنا غصہ اتارا تھا اور بغیر ثبوت کے انہیں موردِ الزام ٹھہرانے پر تنقید کی تھی۔ دوسرا طبقہ ذاکر نائک پر پابندی عائد کرنے نیز انہیں گرفتار کرنے کا مطالبہ کرتا رہا تھا، جس میں شیعہ حضرات کے ساتھ ساتھ بریلوی حضرات بھی پیش پیش تھے۔ ممبئی کی رضا اکیڈمی کے سربراہ سعید نوری نے تو ذاکر نائک کے خلاف احتجاج بھی کیا تھا اور ان کی گرفتاری کے مطالبے کی بنیاد پر پولیس کو میمورنڈم دیا تھا۔ یہ دونوں طبقے ذاکر نائک کی مخالفت محض مسلک کی بنیاد پر کررہے تھے نہ کہ الزام کے حقائق کی بنیاد پر۔ شیعہ حضرات نائک کی مخالفت اس لیے کررہے تھے کہ انہوں نے یزید کو رحمۃ اللہ علیہ کہا تھا، جب کہ بریلوی حضرات ڈاکٹر نائک کے اہلِ حدیث مسلک سے تعلق رکھنے کی بنیاد پر۔ گویا ایسے نازک وقت پر کہ ذاکر نائک کے حوالے سے پوری مسلم کمیونیٹی کو دہشت زدہ کرنے کی کوشش شروع تھی، یہ طبقے مسالک کی بنیاد پر دیگر مسلمانوں سے علیحدہ موقف کا اعلان کررہے تھے۔
اب آئیے اس مسئلے کی جانب کہ آخر کیا وجہ تھی کہ اچانک مرکز سے لے کر ریاستی حکومت تک اور قومی میڈیا سے لے کر مسلمانوں کے ایک خاص طبقے تک سب ذاکر نائک کے دشمن ہوگئے؟ تو اس کا سرا صاف طور سے ذاکر نائک کے ان پروگراموں سے ملتا ہے جن میں کچھ غیرمسلم حضرات اسلام قبول کرتے ہیں۔ یہ قبولِ اسلام اعلانیہ ہوا کرتا تھا، جو ہماری حکومتوں اور خاص طور سے ناگپوری نظریات سے وابستہ پولیس افسران کو قطعی برداشت نہیں ہوتا تھا۔ مثال کے طور پر ستیہ پال سنگھ کی اس رپورٹ کو دیکھا جاسکتا ہے جس میں انہوں نے ذاکر نائک کی تقاریر کو ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان دوری پیدا کرنے والا بتاتے ہوئے مرکز ی حکومت سے ان کے خلاف کارروائی کرنے کا حکم دینے کے لیے کہا تھا۔ ذاکر نائک کے پروگراموں میں غیرمسلم حضرات کے اعلانیہ قبول اسلام کو سنگھی نظریات کے حامل لوگ قطعی برداشت نہیں کرپارہے تھے، جس کی بناء پر ان کے خلاف منفی رپورٹ اور کارروائی کرنے کے لیے موقع کی تلاش میں تھے۔ یہی وجہ تھی کہ ذاکر نائک کی تنظیم آئی آر ایف کے پروگراموں کو ممبئی کے سومیا گراؤنڈ میں منعقد کرانے کی اجازت دینے سے منع کردیا گیا۔
ڈھاکہ ریسٹورنٹ حملہ کے ملزمین کا مبینہ طور پر ذاکر نائک سے متاثر ہونے کی بنگلہ اخبار کی خبر کے بعد ہندوستان کی مرکزی حکومت اور سنگھی نظریات کے حامل قومی میڈیا کے ہاتھ ایک ہتھیار آ گیا جس سے ذاکر نائک کو پوری دنیا میں بدنام کرنے کی مہم شروع ہوگئی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ مہم ایسے وقت شروع ہوئی تھی جب ذاکر نائک کے خلاف کسی تفتیشی ایجنسی نے براہِ راست کوئی الزام نہیں لگایا تھا اور حکومت نے محض تفتیش کا حکم دیا تھا۔ اس کے باوجود ذاکر نائک کو ملک کے سامنے اس طرح پیش کیا گیا کہ گویا آئی آر ایف دہشت گردی کا ٹرینگ کیمپ ہو۔ اس کے بعد ممبئی پولیس ذاکر نائک اور آئی آر ایف کی تفتیش میں جٹ گئی اوراس نے ان کی تقاریر کی چھان بین کرکے ۹؍ اگست ۲۰۱۶ء کو اپنی رپورٹ میں کہا کہ ذاکرنائک غیرقانونی سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔ اس کے بعد ان کے پیس ٹی وی پر باقاعدہ پابندی عائد کردی گئی۔
یہاں یہ بات واضح رہے کہ ممبئی پولیس اور اے ٹی ایس و دیگر ایجنسیوں کے نزدیک مسلمانوں کا سلفی گروپ، جس کے ذاکر نائک پیروکار ہیں، ایک خطرناک گروہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب پولیس کسی مسلم نوجوان کو دہشت گردی یا کسی معلوم ونامعلوم ممنوعہ تنظیم سے تعلق کے الزام میں گرفتار کرتی ہے تو گرفتاری کے فورا بعد اسے نماز پڑھنے کا موقع دیا جاتا ہے اور افسران اس کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھتے رہتے ہیں۔ نماز کے دوران اگر وہ رفع یدین کرتا ہے تووہ اپنے بارے میں پولیس کی کسی نرمی کا حق نہیں رکھ سکتا ہے۔ یوں بھی ممبئی پولیس اہلِ حدیث مسلک سے وابستہ لوگوں پر خاص نظر رکھتی ہے۔ اس بناء پر ذاکر نائک اور ان کے آئی آر ایف سے منسلک لوگ بھی پولیس کی رڈار پر تھے اور پولیس موقع کی تلاش میں تھی۔ اسی دوران داعش کے الزام میں مہاراشٹر سے مسلم نوجوانوں کی گرفتاری کا سلسلہ شروع ہوگیا ۔ جنوری ۲۰۱۶ء میں اے ٹی ایس نے ۱۸؍ لوگوں کو گرفتار کیا جس میں ۸؍ لوگوں کو بعد میں چھوڑ دیا گیا اور ۱۰؍ لوگوں کو داعش سے تعلق کے الزام میں یو اے پی اے کے تحت مقدمہ درج کرکے جیل میں ڈال دیا گیا۔ پھر جولائی ۲۰۱۶ء میں ۱۶؍ مسلم نوجوانوں کو گرفتار کیا گیا جس میں سے ۱۲؍ کو چھوڑ دیا گیا اور ۴؍ کو قید کرلیا گیا۔
اس کے بعد ذاکر نائک پر شکنجہ کسنے کی تیاری شروع ہوگئی اور پولیس نے قانونی ماہرین سے صلاح ومشورہ کرنے کے بعد ایک خاکہ تیار کرلیا۔ اب ضرورت تھی ذاکر نائک کے خلاف کسی شکایت کی۔ پہلی شکایت کیرل میں عرشی قریشی کے خلاف کی گئی۔ عرشی قریشی ۱۵؍ سال امریکہ میں رہ چکے ہیں، ۲۰۱۰ء میں وہ ہندوستان منتقل ہوئے۔ پولیس کا الزام ہے کہ عرشی قریشی آئی آر ایف سے وابستہ ہوگئے۔ ان کے خلاف کیرل کے ایک عیسائی شخص نے شکایت درج کرائی کہ عرشی قریشی نے اس کی بہن کو بہکا کر اسلام قبول کروایا اور وہ اپنے شوہر کے ساتھ کہیں لاپتہ ہوگئی ہے۔ اس بنیاد پر پولیس نے عرشی قریشی کو گرفتار کرلیا۔ عرشی قریشی کے خلاف پہلے کیرل پولیس نے ایف آئی آر درج کی، اس کے بعد ممبئی اے ٹی ایس نے دوسری ایف آئی آر درج کی۔ فی الوقت یہ کیس ممبئی کرائم برانچ کو ریفر کردیا گیا ہے۔ عرشی قریشی کو گرفتار کرنے کے بعد مہاراشٹر اے ٹی ایس نے ممبئی کے قریب کلیان نامی مقام سے رضوان خان نامی نوجوان کو گرفتار کیا جس پر الزام ہے کہ مذکورہ خاتون کے نکاح میں گواہ بنا اور عرشی قریشی کے ساتھ مل کر اس نے اس کی ذہن سازی کی اور پھر اسے اور اس کے شوہر کو آئی ایس آئی ایس میں بھرتی ہونے کے لیے ملک کے باہر بھیج دیا۔
کیرل پولیس کے مطابق کیرل کے ۲۱؍ لوگوں نے آئی ایس آئی ایس جوائن کیا تھا، جس میں سے زیادہ ترلوگوں کی ذہن سازی آئی آر ایف میں ہوئی تھی۔ عرشی قریشی اور رضوان کی گرفتاری کے بعد کیرل پولیس کی مدد سے ممبئی پولیس نے پنور سے محمد حنیف کو گرفتار کیا۔ محمد حنیف پر کیرل سے غائب ۲۱؍ لوگوں میں سے ۱۱؍ کی ذہن سازی کا الزام ہے۔ ان تمام غائب شدگان پر پولیس نے آئی ایس آئی ایس جوائن کرنے کا شک ظاہر کیا ہے۔ محمد حنیف پنور کی ایک مسجد میں امام تھے۔ پولیس کے مطابق تمام گرفتار شدگان محمد حنیف کے رابطہ میں تھے اور محمد حنیف آئی آر ایف کے رابطہ میں تھے، جہاں سے ذہن سازی کے لیے اسے فنڈ دیا گیا تھا۔
دوسری ایف آئی آر ممبئی کے ناگپاڑہ پولیس اسٹیشن میں درج کی گئی جہاں محمد اشفاق نامی نوجوان کے والد عبدالمجید نے محمد حنیف، عرشی قریشی، رضوان خان اور ایک دیگر کے خلاف شکایت کی کہ ان لوگوں نے آئی ایس آئی ایس میں شامل ہونے کے لیے اس بیٹے کا برین واش کیا ہے اور وہ لاپتہ ہوگیا ہے۔ اشفاق کے والد اور اس کے رشتہ داروں نے پولیس کو بتایا تھا کہ اشفاق اور حنیف کو اکثر وہ ساتھ دیکھا کرتے تھے۔ محمد حنیف کے ساتھ عرشی قریشی اور رضوان خان پر ناگپاڑہ پولیس تھانے میں مقدمہ درج کیا گیا ہے، یہ دونوں پہلے کیرل پولیس کی حراست میں تھے۔ ان گرفتاریوں کے بعد ظاہر ہے کہ ذاکر نائک اور آئی آر ایف کے خلاف کارروائی کرنے کے لیے پولیس کے پاس کئی جواز موجود تھے، سو کارروائی ہورہی ہے۔

aazam.shahaab@gmail.com
(بشکریہ ملی گزٹ)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *