سوامی اگنی ویش پر جان لیوا حملہ، ہندوستانی تہذیب پر حملہ ہے:نظرعالم


دربھنگہ: (نامہ نگار) آل انڈیا مسلم بیداری کارواں کے قومی صدرنظرعالم نے سماجی کارکن و آریہ سماج کے رہنما سوامی اگنیویش پر پاکڑ جھارکھنڈ میں ہوئے حملے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بھیڑ بناکر جس طرح سے فرقہ پرست اور سماج دُشمن عناصر نے ۸۰ سال کے اس رہنما پر حملہ کردیا اُن کے کپڑے پھاڑ دئیے اور سڑک پر گھسیٹ پر مارا وہ کافی افسوس ناک ہے۔ سوامی پر بھیڑ کے ذریعہ جان لیوا حملہ ہندوستانی تہذیب کو داغدار کرنے جیسا ہے۔ مسٹرنظرعالم نے کہا کہ جس طرح معمرمذہبی رہنما پر جان لیوا حملہ کیا گیا ہے اُسے کھلی ذہنیت رکھنے والوں کے لئے برداشت کرپانا مشکل ہے۔ اگر اسی طرح بھیڑ کے ذریعہ کسی بھی کھلی ذہنیت کے شخص پر حملے کئے جاتے رہے اور مرکز و ریاستی حکومت دہشت گرد جماعت کے لوگوں کو بچاتی رہی تو ہندوستانی تہذیب کو مٹنے میں دیر نہیں لگے گی۔

نظر عالم

مسٹرعالم نے یہ بھی کہا کہ بھیڑ کے ذریعہ سوامی اگنیویش سے پہلے نہ جانے کتنی تعداد میں دہشت گرد جماعت کے غنڈوں نے بے قصور مسلمانوں کو موت کے گھاٹ اُتار دیا اُس کی فہرست بتانا مشکل ہے۔ جس طرح سے مرکزی و ریاستی حکومت دہشت گردوں کے ہاتھوں کا کھلونا بن چکی ہے اُس سے تو یہ ثابت ہوتا ہے کہ ملک ایک بار پھر سے غلامی کی طرف جارہا ہے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ جمہوریت اور آئین کی حفاظت کی دُہائی دینے والوں کے لئے اس طرح کا حادثہ منھ پر طمانچے سے کم نہیں ہے۔ جھوٹی سیکولرزم کی بات کرنے والوں کی خاموشی یہ ثابت کرتی ہے کہ یہ لوگ ملک، آئین، جمہوریت اور عوام کے حق میں نہیں بلکہ سیاسی کرسی حاصل کرنے کی سیاست کرتے ہیں۔ سپریم کورٹ نے بی جے پی حکومت کو متنبہ کیا تھا کہ بھیڑ کے نام پر بے قصوروں کے قتل پرسخت قانون بنائے اور ایسی واردات کو فوری طور پر روکیں اگر ایسا نہیں کیا گیا تو ملک کو برباد ہونے اور ملک کو غلام ہونے سے کوئی نہیں بچا سکتا۔ مسٹرعالم نے کہا کہ ہندو مسلم دونوں طبقہ کے کچھ لوگ اپنے نوجوانوں کو تشدد کی بھٹی میں جھونک رہے ہیں، جس سے آنے والی نسل کو کافی نقصان پہنچے گا۔ اس لئے جتنی جلد ممکن ہو رام مندر، بابری مسجد، تین طلاق اور دیگر مذہبی مدعے کو بند کرکے ملک کے نوجوانوں کو سہی راستے پر چلنے اور تعلیم سے جوڑنے کی کوشش کی جائے ورنہ نوجوان خود آگے بڑھیں گے اور فرقہ پرست جماعتوں کو اقتدار سے اُکھاڑ پھینکنے کی مہم کا آغاز کریں گے۔

 

Share

One thought on “سوامی اگنی ویش پر جان لیوا حملہ، ہندوستانی تہذیب پر حملہ ہے:نظرعالم

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *