حکومت عازمین حج کے ساتھ نا انصافی کر رہی ہے… ممتاز رحمانی

وجیہ احمد تصور ✍

سہرسہ…  ایک طرف مرکزی حکومت اور اقلیتی امور کے وزیر مختار عباس نقوی کا دعوٰی ہے کہ حج سبسڈی کرنے کے باوجود حج سستا ہوا ہے لیکن آنکڑے ان کے دعوے کی پول کھول رہے ہیں. گذشتہ سال 2017 کے مقابلے 2018 میں گرین کٹیگری کے عازمین حج کو 47658 اور عزیزیہ کٹیگری کے لئے 46308 روپے زیادہ ادا کرنا پڑا ہے. اس پر طرہ یہ ہے کہ عازمین حج کے ذریعہ رقم جمع کرنے کا عمل مکمل ہونے کے بعد اچانک تیسری قسط کے طور پر اضافی رقم جمع کرنے کا حکم صادر کر دیا گیا ہے اور اس پر بھی مزید ستم یہ کہ پورے ملک میں صرف بہار کے عازمین حج سے ایئرپورٹ سروس چارج 1600 الگ سے جمع کر نے کا حکم دیا ہے.

اس سلسلے میں ریاستی حج کمیٹی کے ماسٹر ٹرینر اور تنظیم آئمہ مساجد سہرسہ  کے صدر حافظ محمد ممتاز رحمانی نے سنٹرل حج کمیٹی کے چیئرمین چودھری محبوب علی قیصر سے اضافی رقومات کے سلسلے میں جانکاری طلب کی تو انہوں نے بتایا کہ سعودی حکومت نے بس، ہوٹل وغیرہ کے کرایہ میں اچانک اضافہ کر دیا ہے اس لئے 7000 طلب کیا گیا ہے اور یہ حکم سعودی حکومت کا ہے اسلئے اس میں چوں چراں بھی نہیں کر سکتے ہیں. انہوں نے بہار کے عازمین حج پر الگ سے 1600 روپے اضافی چارج لگانے پر اپنی لا علمی کا اظہار کرتے ہوئے حیرت ظاہر کیا اور اس سلسلے میں جانکاری حاصل کر ہی کوئی بھی  اگلا قدم سنٹرل حج کمیٹی اٹھائے گی.
ادھر ریاستی حج کمیٹی کے ماسٹر ٹرینر حافظ محمد ممتاز رحمانی نے بہار کے  عازمین حج سے مزید 1600 روپے اضافی چارج وصولنے کی مخالفت کرتے ہوئے اسے واپس لینے کی اپیل کی ہے کیونکہ اس طرح کے اقدام کر کے حکومت  عازمین حج کے ساتھ نا انصافی اور مالی استحصال کر رہی ہے.
Share

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *