آرایس ایس کا بھارت

عمر فراہی

جواہر لعل نہرو یونیورسٹی طلبہ کی نعرے بازی، احتجاج اور گرفتاری کے تناظر میں آرایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت نے اپنے ایک خطاب میں کہا کہ ہمیں اپنی نئی نسل کو بھارت ماتا کی جئے بولنا سکھانا چاہیے تاکہ ان کے اندر دیش کے سے وفاداری کا جذبہ پیدا ہو- اسی کے ساتھ انہوں نے غالباً یہ جملہ بھی ادا کیا کہ جو نہیں بولیں گے انہیں ہم سکھاںُیں گے- جیسا کہ دوبارہ اسی لہجے کا استعمال بابا رام دیو اور مہاراشٹرا کے وزیراعلیٰ فڈنویس نے بھی کیا ہے- اسدالدین اویسی نے موہن بھاگوت کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ہم بھارت ماتا کی جئے نہیں کہہ سکتے چاہے ہماری گردن پر چھری ہی کیوں نہ رکھ دی جائے- موہن بھاگوت کے اپنے لہجے کے جواب میں یہ بھی اویسی صاحب کا اپنا مخصوص لہجہ تھا مگر الیکٹرانک میڈیا نے اسے رائی کا پہاڑ بنا دیا- شکر ہے کہ جب پرنٹ میڈیا نے کسی حد تک موہن بھاگوت کے نظریے کو غیرمنطقی قرار دینا شروع کیا تو انہوں نے بہت ہی چالاکی کے ساتھ اپنے سابقہ بیان کو بدل کر یہ کہا کہ ہم کسی کو بھارت ماتا کی جئے کہنے کے لیے مجبور نہیں کریں گے بلکہ ہمیں بھارت کو ترقی اور بلندی کے مقام پر لاکر کھڑا کرنا ہوگا تاکہ بھارت پوری دنیا کے لیے آئیڈیل بن جائے اور لوگ خود بھارت ماتا کی جئے کہنے کے لیے مجبور ہوں-

آرایس ایس اپنے طور پر بھارت کو اس مقام پر لا پاتی ہے یا نہیں لیکن اس کا جو نصب العین تھا کہ وہ اقتدار پر قبضہ کرکے ملک کو مکمل ہندو راشٹر میں تبدیل کردےگی- ۲۰۱۴ء 45454کے لوک سبھا الیکشن میں کامیابی کے بعد بھی وہ اپنے اس مقصد میں ناکام ہوتے ہوئے نظر آرہی ہے- ایسا لگتا ہے کہ آرایس ایس مسلسل اپنے مقصد میں ناکامی کی وجہ سے بوکھلائی ہوئی ہے- اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ آرایس ایس جس کے بارے میں لوگوں کا گمان تھا کہ اس تنظیم میں ملک کی قیادت کے لیے باصلاحیت لوگ موجود ہیں، ۲۰۱۴ء کے الیکشن میں بی جے پی کی کامیابی کے بعد حکومت سازی کے لیے جو افراد سامنے آئے اس سے عوام کی نظر میں آرایس ایس کے تعلق سے وہ بھرم بھی ٹوٹ چکا ہے- دیکھا یہ بھی جارہا ہے کہ ابھی تک بی جے پی کی مرکزی حکومت نے ملک کی ترقی اور فلاح وبہبود کے کاموں میں ابتدائی اقدامات بھی نہیں کیے ہیں تو اس لیے کہ موجودہ حکومت کا سر سے لے کر پیر تک پورا ڈھانچہ ہی نااہل اور غیر تجربہ کار افراد پر مشتمل ہے- بالخصوص انسانی وسائل اور ترقی کا شعبہ جو کسی بھی ملک کی افرادی قوت اور صلاحیت کی ترقی کے لیے اہم ہوتا ہے، یہ وزارت ایک بارہویں فیل خاتون کے حوالے کر دی گئی ہے-

اسی طرح وزیر خارجہ جیسی اہم وزارت بھی جو کسی آئی ایف ایس کے طالب علم کو سونپی جانی چاہیے تھی محترمہ سثما سوراج کے سپرد تو ضرور ہے مگر سارا کام محترم وزیراعظم سنبھال رہے ہیں- سوال یہ ہے کہ اکیلے مودی جی جن کے بارے میں ان کے اپنے لوگوں کا خیال ہے کہ وہ میدان کے مجاہد ہیں، ہم یہ کہتے ہیں کہ ہو سکتا ہے انہوں نے کسی سبجیکٹ پر غائبانہ پی ایچ ڈی ہی کیوں نہ کی ہو تو بھی ملک کی ہر وزارت کو وہ اکیلے کیسے سنبھال سکتے ہیں جبکہ بی جے پی مخالف ذہنیت کا خیال ہے کہ کیا آرایس ایس نے پچھلے ستر اسی سالوں میں ایسے ہی باصلاحیت افراد تیار کیے ہیں اور اسے ملک کی سب سے اعلیٰ قیادت کے لیے مودی جی کے علاوہ کوئی دوسرا شخص نہیں مل سکا- یہ ایک سوال ہے جو آرایس ایس کی ناکامی کا کھلا ثبوت ہے کہ اس کے پاس ملک کی ترقی کے لیے سوائے فرقہ وارانہ سیاست اور مسلم دشمنی کے کوئی ٹھوس نظریہ اور منصوبہ نہیں ہے جو بھارت کو لوگوں کا آئیڈیل بنا دے اور دنیا کے کولمبس خود بخود سونے کی اس چڑیا کا دیدار کرنے کے لیے بے قرار ہوں- اس کا مطلب موہن بھاگوت یا تو بہت بھولے ہیں یا بہت ہی عیار یا پھر یہ بھی ہوسکتا ہے کہ مسلم دشمنی کے جنون میں آرایس ایس کے تمام سربراہ کسی مثبت نتیجے پر پہنچنے سے قاصرہی ہیں ورنہ وہ ملک کی آبادی کو فرقہ وارانہ رنگ میں رنگنے کی بجائے ملک کے معاشی اور معاشرتی ڈھانچے کو سدھارنے کی کوشش اور تدبیر ضرور کرتے اور اگر وہ اپنے باصلاحیت افراد کے ذریعے ایسا کرنے میں کامیاب ہو جاتے تو ہم یقین کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ آرایس ایس کو اس کے اپنے ایجنڈے میں کامیاب ہونے سے کوئی نہیں روک سکتا تھا-

آرایس ایس کو یہ بات بھی یقیناً پتہ ہے کہ سیاست سے لے کر تجارت اور معاشرت سب بدعنوانی اور فحاشی کے دلدل میں قید ہے اور بھارت اپنی سیاسی، معاشرتی اور تہذیبی زوال کے ڈھلان پر تیزی کے ساتھ گامزن ہے، جسے واپس عروج تک پہنچانا تو دور کی بات، ابھی تک ملک کی اس خستہ حال زوال پذیر صورتحال کو روکنے کی تدبیر بھی نہیں کی گئی ہے- سیاسی بدعنوانی کے خلاف لوک پال کی تحریک چھیڑ کر انا ہزارے نے تو بہت کچھ بھارت کا چہرہ واضح کر دیا ہے کہ بیرونی بینکوں میں ہمارے سیاستدانوں نے کتنا مال چھپا رکھا ہے جسے واپس لانے کا وعدہ نریندر مودی جی بھی کرچکے ہیں- ملک کی معاشی بدعنوانی پر سے ماضی میں ہرشد مہتا، آئی ٹی انڈسٹری کے وجئے متل، سہارا کے سبرت رائے اور اب وجئے مالیا نے پورا پردہ اٹھا دیا ہے اور اب میڈیا میں پنامہ پیپر کے نام سے معاشی بدعنوانی کا ایک اور اسکینڈل زیر بحث ہے جس کے اندر تقریباً پانچ سو صنعتکار اور فلم انڈسٹری کی مشہور شخصیات کے نام شامل ہونے کا چرچا پے- کہا جاتا ہے کہ ان لوگوں نے بیرونی ملکوں میں اپنے سرمائے کو منتقل کرنے کے لیے پنامہ پیپر کے نام سے جعلی کمپنی بنائی ہوئی تھی- اس کے علاوہ جائز طریقے سے امبانی برادران اور بہت ساری کارپوریٹ کمپنیوں کے مالکان جس طرح ملک کو لوٹ رہے ہیں یہ بات بھی آرایس ایس اور بی جے پی کے لوگوں سے مخفی نہیں ہے- اب آئیے ہم آپ کی توجہ ملک کی دوسری تصویر کی طرف مرکوز کراتے ہیں جسے آج تک کسی میڈیا یا غیرسرکاری تنظیم نے اس لیے کبھی نہیں دکھایا کہ یہ ادارے خود بدعنوان ہیں اور اگر کبھی انہوں نے کسی بدعنوان تاجر اور سیاستداں کے خلاف انکشاف کیا بھی تو اس لیے کہ انہیں خاموش رہنے کی بھی موٹی رقم ملنے کی لالچ ہوتی ہے-
ایک بار کا واقعہ ہے کہ ہمیں ایک کمپنی میں جس کی مشینوں کے پارٹس کا کام ہم پچھلے بیس سالوں سے کررہے ہیں، اس کمپنی کے منیجر کے کہنے پر مشین آپریٹر سے رابطہ کرنے کے لیے کہا گیا تاکہ ہم اس کی شکایت کو دور کرسکیں- میں دو بجے پہنچا تو آپریٹر کہتا ہے عمر صاحب تھوڑا اور پہلے آنا چاہیے تھا ابھی تو میرے جانے کا وقت ہو گیا ہے- میں نے کہا تمہاری شفٹ تو تین بجے ختم ہوتی ہے ابھی تو ایک گھنٹہ باقی ہے- اس نے کہا ہم لوگ ہاتھ منھ دھونے کے لیے ایک گھنٹہ پہلے ہی مشین چھوڑ دیتے ہیں- میں نے کہا کبھی کمپنی کے کام سے دس منٹ زیادہ بھی ہوگیا تو کیا فرق پڑتا ہے- آخر اسی کمپنی سے تمہیں روزگار حاصل ہوا ہے، کیا اس کے لیے تم دس منٹ قربان نہیں کر سکتے- اس نے کہا کمپنی گئی بھاڑ میں، میں اپنے معمول سے زیادہ کمپنی کو وقت نہیں دے سکتا- میں نے مشین چالو کروانے کے ایک ہفتے بعد جب اسی آپریٹر سے پوچھا کہ مشین کیسی چل رہی ہے تو اس نے کہا ٹھیک ہے لیکن ابھی مجھے دو سال ریٹائر ہونے کو ہے، اس سے پہلے مشین کی واٹ لگا دونگا تاکہ میرے جانے کے بعد کوئی اس مشین پر دوبارہ کام نہ کرسکے-

میں یہ بات اس لیے لکھ رہا ہوں کہ یہ ہے ہمارا ملک جہاں نوے فیصد سیاستدانوں سے لے کر صنعتکار مزدور اور کنٹریکٹروں تکک کی ذہنیت ہی اپنے مالک اور ہمدرد کے تعلق سے صاف نہیں ہے اور وہ صرف اپنے فائدے کے بارے میں سوچتا ہے- ایسے میں کیا اسے بھارت ماتا کی جئے سکھا دینے سے وہ بھارت کا وفادار ہو جائے گا …؟ جبکہ بھارت کی نسبت یوروپ کا یہ تینوں طبقہ ہم سے کہیں زیادہ باصلاحیت، ایماندار اور اصول کا پابند ہے- اور یہی اس کی ترقی کا راز بھی ہے- اس کے باوجود بھاگوت کو وہم ہے کہ ایک دن ساری دنیا بھارت ماتا کی جئے بولنے کے لیے مجبور ہوگی- ہماری بھی شبھ کامنائیں بھارت اور موہن بھاگوت کے ساتھ ہیں مگر بھاگوت جی کو کوئی بتائے کہ آزادی کے ۶۵ سالوں میں آج تک ہم صرف ایک کوکن ریلوے کے سوا دوسری لائن نہیں بچھا سکے اور جہاں تک تعمیراتی شعبے میں کامیابی کی بات ہے کولکاتا میں پل گرنے کا حادثہ ہمارے سامنے ہے اور ایسے چھوٹے موٹے حادثے روز ہوتے ہیں جسے بحث میں بھی نہیں آنے دیا جاتا- سچ کہوں تو اگر مغلوں نے ہمیں تاج محل اور لال قلعہ جیسی خوبصرت عمارتوں کا تحفہ نہ دیا ہوتا تو آج بھارت اور بھی ویران نظر آتا-

آرایس ایس کے لوگوں کو اصل میں شہنشاہ اورنگزیب کا بھی شکر گذار ہونا چاہیے کہ آج انہیں جس بھارت ماتا پر فخر ہے وہ بہت ہی چھوٹی چھوٹی ریاستوں میں بٹا ہوا تھا- اسے اسدالدین اویسی کے آباواجداد نے ہی ایک متحدہ ہندوستان یعنی اکھنڈ بھارت میں تبدیل کیا تھا- پھر بھی بابا رام دیو اور فڈنویس کے جارحانہ لہجے سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ ملک اویسی کا نہیں آریس ایس کا ہے….!

umarfarrahi@gmail.com

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *