نہیں رہا تخلیقی معصومیت کا روشن استعارہ

Irteza Karimجوگندر پال کے انتقال پر قومی کونسل کے ڈائریکٹرپروفیسر ارتضیٰ کریم کا اظہار تعزیت

نئی دہلی: اردو کے ممتازفکشن نگارجوگندر پال کی رحلت پر اپنے گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے قومی اردو کونسل کے ڈائریکٹر پروفیسر ارتضیٰ کریم نے کہا کہ ان کی وفات سے اردو فکشن کے ایک درخشاں باب کا خاتمہ ہوگیا۔ جوگندرپال اردو فکشن میں ایک مضبوط ستون کی حیثیت رکھتے تھے۔ انہوں نے اردو فکشن کو ایک نیا اسلوب اور نیا طرز احساس دیا۔ عام انسانوں کے دکھ درد سے ان کا گہرا سروکار تھا۔ مظلوم اور بے کسوں کے مسائل پر انہوں نے کھل کر لکھا، ان کا وژن آفاقی تھا۔ انہوں نے فکشن میں بہت سے تجربے کیے اور ان تجربوں کو قبولیت بھی حاصل ہوئی۔
پروفیسر ارتضیٰ کریم نے جوگندر پال سے اپنے گہرے مراسم کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کی شخصیت میں بڑی مقناطیسی کشش تھی اور سب سے بڑی بات یہ تھی کہ انہوں نے زندگی کی آخری سانس تک بچپن کی معصومیت کو اپنے باطن میں زندہ رکھا، جس کا عکس ان کی تخلیقات میں بھی نظر آتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جوگندر پال گو کہ انگریزی ادب کے پروفیسر تھے مگر انہوں نے اپنی پوری زندگی اردو کے لیے وقف کر دی تھی، اردو ہی ان کا اوڑھنا بچھونا تھی۔ وہ مکمل طور پر اردو کلچر میں ڈھلے ہوئے تھے۔ ان کے جیسی مثالی اور مشعل شخصیتیں اردو میں خال خال ہیں۔ قومی اردو کونسل کے ڈائریکٹر نے مزید کہا کہ جوگندر پال کی تخلیقی شخصیت کا میرے اوپر اتنا گہرا اثر تھا کہ میں نے ان پر ’جوگندر پال ذکر، فکر، فن‘ کے نام سے ایک کتاب ترتیب دی تھی اور یہ ان کا حق تھا کہ پال یقیناً ایک عظیم فنکار تھے جنہوں نے اردو دنیا کو نادید، پار پرے اور خواب رو جیسے ناول دیے اور افسانے اور افسانچوں کے ذریعے اردو کی افسانوی ثروت میں گراں قدر اضافہ کیا۔ فکشن نگاری کے علاوہ انہیں تنقید سے بھی خاص دلچسپی تھی، ان کی کئی تنقیدی کتابیں بھی منظر عام پر آ چکی ہیں۔ پروفیسر ارتضیٰ کریم نے کہا کہ جوگندر پال سے میرے تعلقات اتنے گہرے تھے کہ براہ راست ان کے گھر جاکر پسماندگان کے دکھ درد میں شریک ہونا چاہتا تھا مگر دورے کی وجہ سے یہ ممکن نہ ہو سکا اس لیے قومی کونسل کے ایک وفد نے ان کے گھر جا کر ان کے پسماندگان سے اظہار تعزیت کیا اور ان کی آخری رسومات میں بھی شرکت کی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *