بے چہرہ صحافت کا منظرنامہ

حقانی القاسمی

asri sahafatاپنی بات کاآغاز شاہدالاسلام کے مقالہ کی ان آخری سطروں سے کرنازیادہ مناسب ہوگا جن میں خزاں رسیدہ اردو صحافت کو گلشن بہار میں تبدیل نہ کرپانے کی ناکامی کاذکر ہے۔ ان کا دکھ یہ ہے کہ جدید ترین تکنیکی وسائل اورافرادی قوت سے معمور بڑے اردواخبارات بھی ’معیاری صحافت‘ کانمونہ پیش نہیں کرپائے۔
ان کایہ دکھ اردو معاشرے کااجتماعی کرب بن گیا ہے۔
حقیقت یہی ہے کہ جواردو صحافت اپنے آغاز میں ارتقا پذیرتھی، اب ارتقائی دور میں زوال آشنا ہوگئی ہے۔ دورآشوب میں یہ پربہارتھی تو اب عہد نشاط میں خزاں رسیدہ ہے۔۔۔۔۔۔ یہ انقلابات ہیں زمانے کے۔
اردوصحافت کایہ معکوسی سفربہت تشویش ناک ہے۔ اس تشویش کے ازالہ کی کوئی سبیل نہیں نکالی گئی توحالت اوربھی خطرناک ہوسکتی ہے۔
شاہدالاسلام نے اس کتاب میں تغیرات کے ان ہی مناظر سے روبرو کرایاہے۔ ایک طرف ماضی کی معتبر اور معیاری صحافت کامنظر نامہ ہے تو دوسری طرف موجودہ صحافت کے زوال کی تصویریں ۔پستی وبلندی، عروج و زوال کی یہ ’داستان صحافت‘دلچسپ بھی ہے اور عبرت انگیز بھی۔۔۔۔۔۔ یہ ذہن کو جھنجھوڑتی ہے تودل کو مضطرب بھی کرتی ہے۔
موجودہ صحافت کے منظرنامہ نے شاہدالاسلام کے ذہن و دل کوبہت مضطرب کردیاہے۔ یہ مقالہ اسی اضطراب کا عکس اظہار ہے۔
یہ نہ صحافت کی تاریخ پرمبنی مقالہ ہے اورنہ ہی اس نوع کے اردو صحافی کی کوئی کاوش جسے قربان علی جیسے معتبرصحافی ’کنویں کامینڈک‘ کہتے ہیں۔ یہ ایک تجسّس آشنا ذہن کے تحقیقی اور مشاہداتی سفر کی روداد ہے۔
یہ ذہن مفروضوں میں الجھے ہوئے صحافتی حقائق کی تہ تک پہنچتا ہے اور حقائق ومفروضات میں خط امتیاز کھینچ کر ایک نئے رُخ سے آشنا کرتاہے۔
یہ موجودہ صحافت کی بے چہرگی کا سفاک اور دردناک منظرنامہ ہے۔ یہ اس صحافت کا داخلی چہرہ ہے جو لایعنی سمتوں میں سفرکرکے اپنی منزل کھوچکی ہے اور اپنے امتیازی نشانات سے محروم ہوچکی ہے۔
شاہدالاسلام نے صحافت کوتحریک اورتجارت دونوں شکلوں میں دیکھاہے۔ صنعتی اور صارفی معاشرت کاحصہ بننے کا منظران کی آنکھوں میں تازہ ہے۔اخلاقی اقدار سے انسلاک اور انحراف دونوں ہی تصویریں ان کے سامنے ہیں۔ اردو صحافت کے نشیب وفراز سے آگہی نے ہی ایک غیر مشروط ذہن کے ساتھ اردوصحافت کے مسائل ومتعلقات کامبسوط تجزیہ کرنے کی قوت انہیں عطا کی ہے اور اس مقالہ سے اس قوت کاپورا احساس ہوتا ہے۔ عصری صحافت کے جملہ امراض کی تشخیص میں وہ بہت حد تک کامیاب ہیں اوراسی تشخیصی عمل نے اردو صحافت سے متعلق مروجہ آراو افکار سے انحراف پربھی مجبورکیاہے۔ کسی بھی بات کومن وعن تسلیم نہ کرنے کی روش اورخود تفتیشی طریق کار نے ان کے معروضات کواعتبار عطاکیاہے۔
اس کتاب میں شاہدالاسلام کامشاہداتی اور تجربی مطالعہ شامل ہے، اس لیے اس کتاب کے بیشتر مشمولات، مندرجات اور معروضات سے نظریاتی اختلاف رکھتے ہوئے بھی اتفاق کی ایک صورت بہرحال قائم رہتی ہے۔
شاہدالاسلام نے ’جذباتی معروضیت‘ کے ساتھ صحافت کے جملہ عناصروعوامل کا تجزیہ کیا ہے۔ جذباتیت اورمعروضیت کے متضادرشتوں کو بڑی خوبصورتی سے مربوط کردیاہے۔ مسائل کے تجزیے میں جتنی معروضیت ہے، بیان میں اتنی ہی جذباتیت،یہ ہنربہت کم لوگوں کو نصیب ہے ورنہ صحافت سے جڑے ہوئے بیشترافرادجذباتیت میں الجھ کر معروضیت کا دامن چھوڑ دیتے ہیں۔ صحافت کی سماجیات، لسانی مذہبی تعصبات، مالکوں کے منفعت پسندانہ مزاج، ملازمین کا استحصال،اخبارات کے مذہبی جنون، فرقہ وارانہ خطوط پر صحافت کی تقسیم، قاری کی کمی اورصحافت کی اشتعال انگیزی،سر کولیشن اورنظام تقسیم کے حوالے سے لکھتے ہوئے بھی معروضی اور منطقی انداز اختیار کیاہے اور ہر ایک بات دلائل وشواہد کے ساتھ کہی ہے۔
دلیل کی یہی قوت ہے جس کی وجہ سے ان کی اکثر باتوں سے اتفاق کرنے کوجی چاہتا ہے۔ مگر مکمل اتفاق بقول فضیل جعفری فاتحہ خوانی کا دوسرانام ہے ۔ اس لیے تھوڑا بہت اختلاف بھی ضروری ہے۔شاہدالاسلام کی بہت سی باتوں سے مجھے اختلاف ہوسکتا ہے مگر میں ان معروضات کی تائید کیے بنا نہیں رہ سکتا۔
) دہلی کی وادی صحافت میں ایسے درجنوں افراد کی موجودگی دیکھنے کو ملتی ہے جو فی زمانہ فائل کاپیوں کی شکل میں اردوصحافت کی تعمیر و ترقی کے عمل کو فروغ دے رہے ہیں اور نتیجتاً ڈی اے وی پی یا دیگرسرکاری اداروں سے ہونے والی آمدنی ان کی انفرادی زندگی میں انقلابی تبدیلی لانے کا سبب بن رہی ہے۔
) دہلی کے بیشتر اردوروزنامے تواتر کے ساتھ پاکستانی اخبارات کی خبریں اور مضامین سرقہ کرنے کے عادی ہیں۔
) طبقہ اشرافیہ سے تعلق رکھنے والے قارئین نے اردو صحافت کو یکسر نظرانداز کردیاہے۔
تبدیل شدہ حالات میں اب نئی نسل اردو کی جگہ ہندی یاانگریزی سے سروکار بڑھانے میں لگ گئی ہے اورنتیجتاً ان علاقوں کی مسلم آبادی کے درمیان بھی ہندی اورانگریزی اخبارات کی کھپت اردواخبارات سے ۵۰؍گنازیادہ ہوگئی ہے۔
) اردواخبارات کااحتجاجی کردار کار لاحاصل کے سواکچھ نہیں۔
اس نوع کے اور بھی کچھ بیانات ہیں جواردوصحافت کی ایک نئی تصویر یا ایک نیا تصور ذہنوں میں نقش کرتے ہیں۔
شاہدالاسلام کی یہ کتاب کئی ابواب پر مشتمل ہے۔ صحافت کاآغاز وارتقا، دہلی میں اردو صحافت کی ابتدا، جدید ذرائع ابلاغ اوراردو صحافت وغیرہ کوچھوڑبھی دیجیے کہ ان موضوعات پر دوسروں کے خرمن سے خوشہ چینی کرنے والوں نے بھی خامہ فرسائی کی ہے۔ یہ کتاب تو اپنے ان عناوین کی وجہ سے زیادہ متوجہ کرتی ہے جن میں صحافت کے تشکیلی،تکنیکی مسائل و متعلقات پربے لاگ اور حقیقت پسندانہ گفتگوکی گئی ہے۔ جن موضوعات سے لوگ دامن بچا کر گذرجاتے ہیں، شاہد الاسلام نے ان ہی موضوعات میں اپنے دامن کوالجھادیا ہے۔مثلاقارئین کی تشویش ناک حد تک کمی، اخبارات کی سرپرستی کامسئلہ، اردو اخبارات کے محدود وسائل، کمرشیل اشتہارات کی فراہمی، سرکولیشن کامسئلہ وغیرہ وغیرہ۔ ان مسائل اورموضوعات کی تہوں میں اتر کر شاہد الاسلام نے جن حقائق کانکشاف کیاہے، وہ واقعی حیران کن ہیں۔
شاہدالاسلام نے دہلی سے شائع ہونے والے ۸۵؍روزنامہ اردواخبارات کی فہرست تعداد اور مقام اشاعت کے ساتھ دی ہے جن کے بارے میں ان کاکہنا ہے کہ ان۸۵؍روزناموں میں سے ۶؍درجن سے زائد روزناموں کی زیارت کاکبھی اتفاق نہیں ہوا اوران میں بھی سرکولیشن کے اعتبار سے’جدیدان دنوں‘ سب سے زیادہ ہے جو یقیناًحیرت انگیز ہے۔ اس طرح کی اوربھی چونکانے والی باتیں اس کتاب میں درج ہیں۔
شاہدالاسلام ایک حقیقت پسندصحافی ہیں، انہوں نے ہم عصراردواخبارات کا تنقیدی جائزہ لیتے ہوئے ذہنی تعصبات کو راہ نہیں دی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جہاں انہوں نے اردو کے راشٹریہ سہارا اورانقلاب کے معیار اورمزاج پربے لاگ گفتگو کی ہے، وہیں ہندوستان ایکسپریس (جس سے وہ خودبھی وابستہ ہیں) پرسخت تنقید کی ہے۔ اردو کے بڑے اخبارات کی غیرذمہ دارانہ حرکتوں کی نشان دہی کرتے ہوئے وہ ہندوستان ایکسپریس کے بارے میں لکھتے ہیں کہ ’ادارتی صفحہ پر شائع کیے جانے والے مضامین برسوں پاکستانی اخبارات سے سرقہ کی صورت میں حاصل کیے جاتے رہے۔ بین الاقوامی مضامین پرمبنی مضامین نہایت بے شرمی کے ساتھ پاکستانی ویب سائٹ سے چوری کیے جاتے تھے اور انہیں ادارتی صفحہ میں شامل اشاعت کردیاجاتا تھا۔‘ یہ اقتباس ان کی بے باکی کا کھلاثبوت ہے۔
معاصر اخبارات کے تجزیے میں بھی اسی حقیقت پسندی کی راہ اختیار کی ہے۔ مگرکہیں کہیں وہ غچہ کھاگئے ہیں۔ مجھے ان کی اس بات سے تو اتفاق ہوسکتاہے کہ ’روزنامہ راشٹریہ سہارا‘ کے دہلی ایڈیشن کا معیارو مزاج حال کے دنوں میں خاصاسوقیانہ ہوکر رہ گیا ہے، مگراس اخبار کی اسرائیل نوازی اور سابق گروپ ایڈیٹر عزیزبرنی کے تعلق سے جو باتیں لکھی گئی ہیں اس سے اتفاق کرنا مشکل ہے۔ یہاں اس حقیقت کا اظہار ضروری ہے کہ عزیز برنی کی وجہ سے ہی اردو صحافیوں کا معیار اور وقاربلند ہوا اور ان ہی کی وجہ سے کارپوریٹ سیکٹر نے بھی اردوصحافت میں دلچسپی دکھائی ہے ۔ اردوصحافیوں کو جو معقول تنخواہ مل رہی ہے، اس میں عزیزبرنی کا کرداربہت اہم ہے۔ ہاں شاہدالاسلا م نے بڑے اخبارات سے متعلق جو کچھ لکھا ہے اس سے اتفاق کرناپڑے گا کہ ان اخبارات نے بھی اردوصحافت کے معیار اور وقار کو مجروح کیا ہے۔ اسی وجہ سے اردواخبارات کے قارئین کا دائرہ سمٹتاجارہاہے اور حلقہ دانشوراں سے اس طرح کی آوازیں بھی اٹھنی شروع ہوگئی ہیں کہ ’سستی جذباتیت اور خبرونظرمیں معیارووقار کی کمی نے ایسی صورت حال پیدا کردی ہے کہ پڑھے لکھے لوگ اردواخبارات پڑھنا ضروری نہیں سمجھتے۔‘(شفیع مشہدی) مواد کے علاوہ اخبارات میں زبان کی سطح اتنی ناقص ہوگئی ہے کہ ایک مشہورافسانہ نگار محترمہ ذکیہ مشہدی کو لکھناپڑا کہ ’روزناموں کی زبان اتنی ناقص ہے کہ طبیعت متعفن ہوجاتی ہے اور کبھی کبھی مجھے یہ سوچ کر خوشی ہوتی ہے کہ میرے بچے ان اخبارات کو نہیں پڑھتے ورنہ ان کی زبان خراب ہوجاتی۔‘ (بحوالہ سید احمد قادری، اردو صحافت بہار میں)
شاہدالاسلام نے بہت اہم موضوع پر وقیع کتاب لکھی ہے۔یہ کتاب اردوصحافیوں کے لیے ایک آئینہ ہے، اس میں انہیں ٹیڑھے میڑھے چہروں کودیکھ کر ہنسی نہیں آئے گی بلکہ روناآئے گا کہ مولاناابوالکلام کے ’البلاغ‘،’الہلال‘، ظفرعلی خاں کے ’زمیندار‘اورمحمدعلی جوہر کے ’ہمدرد‘ نے اردو صحافت کا جو معیار اور وقارقائم کیاتھااسے قائم رکھنے میں کامیاب نہیں رہے۔ شاہدالاسلام نے ابتدا میں سوالات کے جو سلسلے قائم کیے ہیں ان پر صحافتی برادری کو سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے کیوں کہ خامیوں کی نشان دہی کی گئی ہے، ان کے تدارک کے بغیراردو صحافت کی تصویر اور تقدیر نہیں بدل سکتی۔
بہتر اور پُرمغزمواد کے لیے شاہدالاسلام کو مبارک باد کے ساتھ ان کے ’زورِبیان‘ کی داد بھی دیناچاہوں گا کہ آج کی نئی نسل کے صحافیوں میں اسی ’بیان‘ کی کمی ہے، جس کی وجہ سے ہم عصر اردو صحافت غیرمعیاری اوربے معنی ہوتی جارہی ہے۔
Cell : 9891726444
haqqanialqasmi@gmail.com

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *