’ی‘ کی کہانی، اسی کی اپنی زبانی

Ahmed Nisarاحمد نثارؔ

یہ کہاوت تو مشہور ہے کہ کتابیں انسان کی اچھی دوست ہوا کرتی ہیں۔
یہ بھی سچ ہے کہ کتابوں میں پائے جانے والے کردار بھی قاری کے اچھے دوست بن جاتے ہیں۔ شرط یہ ہے کہ ایک دوسرے کا تعارف اچھا ہوا ہو۔
پھر سے وہی ترکیب، کتابوں کے شیلف سے لغت نکالی،
حرفوں سے گفت و شنید کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے آگے بڑھا۔
’ی ‘ کی طرف خیال گیا۔
سوچا کہ چلو اب ’ی ‘ سے بات کریں۔ لغت ٹٹولی،
جیسے ہی ’ ی ‘ کو دیکھا تو
یوں لگا کہ انٹرویو کے لیے کوئی باوقار شخصیت کرسی پر بیٹھی ہے۔
میں نے پوچھا:
بی خالہ ’ی ‘، آپ کے مزاج کیسے ہیں؟
’ی‘ نے جیسے ہی میری آواز سنی، بڑے ہی ناز و ادا سے گفتگو کی تار چھیڑدی۔
ی : کیا ہے برخوردار، بالکل ٹھیک ہوں۔ تم کیسے ہو؟ سنا کہ تم حال ہی میں الف صاحب سے ملے ، گفتگو کی اور ان کا انٹرویو بھی لیا؟
وہ بڑے مسرور نظر آرہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ چلو کوئی تو آیا پرسانِ حالِ ’’ا ب ج د ‘‘۔
مجھے بھی حیرت ہوئی! یہ اچانک ہم پہ نظرِ کرم کیسے؟
کہیں ریسرچ کے نام پر اسکالرشپ کے لیے تو نہیں لکھ رہے ہو؟
میں: (ذرا سہما بھی اور لڑکھڑایا بھی۔ اس بات پر کہ ’ی ‘ خالہ نے یہ کیسی بات کہہ دی؟ میں نے ذرا دفاعی انداز ہی میں کہا) ’’ نہیں ی خالہ، ایسا نہیں ‘‘ ، میری لسانی دلچسپی نے آپ سے ملنے اور گفت و شنید کرنے پر اُکسایا بھی اور للچایا بھی، اس کے سوا کوئی دوسری بات نہ تھی۔
ی : مسکرا کر، چلو اچھا ہوا ۔ بغیر کسی اسکیم اور سکالرشپ کے اردو کے حق میں کام بھی کرنے والے موجود ہیں۔ یہ اچھی ہی خبر ہے۔
بتاؤکیا کام ہے ہم سے؟ اور کیا پوچھنا چاہتے ہو؟
میں: (دل ہی دل میں، یہ اردو والوں کے احوال، لغت میں چھپے ی خالہ تک بھی پہنچ گئے! خیر مجھے کیا لینا دینا، چلو میں اپنا کام کرتا ہوں) کیا میں آپ کو ’ی‘ خالہ پکار سکتا ہوں؟
ی: مجھے کوئی اعتراض نہیں مگر۔۔۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ دنیا والے یہ سمجھیں کہ تمہاری گفتگو الیکٹرانک خالہ سے ہورہی ہے؟
میں: (مسکراتے ہوئے) شکریہ، ذرا ادباً خالہ جان بھی پکار لوں گا۔ کیاآپ کو الیکٹرانک دنیا سے بھی واقفیت ہے؟
ی: (ہنستے ہوئے) کیوں نہیں، کیا صرف تم ہی اس انفارمیشن کے حقدار ہو؟
میں: جی نہیں، میں صرف پوچھ رہا تھا۔ خیر، کیا میں آپ سے چند سوالات کر سکتا ہوں؟
ی : ضرورپوچھ سکتے ہو۔
میں: جی، آپ اپنا تعارف کروائیں۔
ی : کیوں نہیں۔ سنو!
میرا جنس مونث ہے۔
اور تلفظ یے
فارسی میں یائے۔
اردو کا پینتیسواں
عربی کا اٹھائیسواں
فارسی کا بتیسواں حرف اور
ناگری (دیوناگری) رسم الخط کا چھبیسواں وینجن ہوں۔
مجھے یائے حطی یا مثناتِ تحتانی بھی کہتے ہیں۔
میں حروف علت میں سے تیسرا حرف ہوں۔
ابجد میں میری قدر دس عدد فرض کی گئی ہے۔
جنتری میں سیارہ مشتری کو ظاہر کرتی ہوں اور برج’ ولو‘ کا نشان ہوں۔
میں: اچھا۔ آپ اپنے اقسام بھی بتاتی چلیں۔
ی: میری تین قسمیں ہیں؛
۱۔ یائے معروف: جیسے ’ کھِیر‘ میں ’ی ‘۔ دیگر باتیں یائے معروف مفصلہ کی تفصیلات میں بتاؤں گی۔
۲۔ یائے مجہول : جیسے ’میرا ‘میں ’ی ‘ جو ’ ے ‘ کی آواز کی مشابہت ہے۔
۳۔ یائے موقوف: ان افعال و اسما کے آخر میں آتی ہوں جن میں قبل اس کے الف یا واؤمجہول ہو ۔ جیسے آئے، جائے، روئے، دھوئے وغیرہ۔
میں: خالہ جان یہ یائے معروف مفصلہ کیا ہے؟ اور ان کے اقسام بھی بتاتی چلیں۔
ی : اوہ ! بہت خوب۔ تمہارے سوالوں کا قافلہ ٹھیک راستے پر چل رہا ہے۔سنو!
یائے معروف مفصلہ کے معنی، یائے معروف کی تفصیل بیانی۔ یائے معروف کے اقسام، اُن کے نام، ان کے استعمالات اور دیگر تفصیلات۔
یائے معروف مفصلہ ذیل کے معانی میں استعمال ہوتی ہے، جیسے؛
(الف) نسبتی : جیسے، گلابی، دھانی، سنہری، مکی، دہلوی وغیرہ۔
(ب) مصدری: جیسے، برائی، بھلائی، چوڑائی، لمبائی، دانائی، وغیرہ۔
(ج) یائے فاعلیت : جیسے، کسبی، تیلی، دھوبی، درزی وغیرہ۔
(د) یائے مفعولیت : جیسے، مہری، سندی، وغیرہ۔
(ر) فارسی الفاظ میں یائے خطاب تو کے معنوں میں، جیسے، ہستی تو ہے۔
(س) یائے لیاقت جو مصدر کے آخر میںآتی ہے جیسے کشتنی، خوردنی، وغیرہ۔
(ط) ہندی الفاظ میں کبھی اسما و افعال کے آخیر میں آکر تانیث کی علامت ہے جیسے گھوڑی، اندھی، کہی سنی وغیرہ۔
میں:بہت خوب خالہ جان۔ یہ تفصیلات نہایت کار آمد ہیں۔ اور یہ بھی بتائیں کہ یائے مجہول کیا ہے؟
ی: یائے مجہول میری دوسری قسم ہے۔مجہول مفعول ہے۔ جس کے معنی غیر معروف کے ہیں۔ سست، نکما اور آرام طلب کے بھی ہیں۔ اس کی شکل ’ے ‘ ہے۔یہ بھی بتاتی چلوں کہ یہ کیسے اور کہاں استعمال کی جاتی ہے۔
(الف) ان اسما و مصادر کے ساتھ آکر جن کے آخر میں الف ہو علامت احالہ ہوتی ہے جیسے گھوڑے کی زین۔ کتے کی جھول۔ آنے کا وقت۔ جانے کا محل، وغیرہ۔
(ب) امر حاضر کے آخر میں آکر صیغہ امر غائب بنا دیتی ہے۔ جیسے، وہ اٹھے، وہ بیٹھے، وغیرہ۔
(ج) کبھی ان اسما اور افعال واحد ماضی مذکر کے بعد جن کے آخر میں الف ہو آکر جمع اسم و جمع فاعل و مفعول کی علامت بن جاتی ہے۔ جیسے تماشا سے تماشے۔ کوٹھا سے کوٹھے۔ اٹھا سے اُٹھے۔ اٹھایا گیا سے اٹھائے گئے۔
(د) کبھی نون کے ساتھ ان اسمائے مونث کے جن کے آخر میں یائے معروف نہ ہو جمع کے لے آتی ہوں۔ جیسے رسم سے رسمیں۔ بات سے باتیں۔
(ر) کبھی ان اسمائے مذکر کی جمع کے لیے بھی لائی جاتی ہوں، جن کے آخر میں لفظ ’واں‘ ہو جیسے جھانواں سے جھانویں۔ کنواں سے کنویں، وغیرہ۔
میں: بہت اچھے خالہ جان۔ ہم میں سے بعض لوگ یہ سمجھ رہے تھے کہ ’ے ‘ آپ کے خاوند یعنی ہمارے خالو ہیں (مسکراکر)۔
ی : (میری مسکراہٹ پر ہنستے ہوئے) تم اردو والے گرافیم اور فونیم کی طرف جاتے ہی نہیں۔ مگر رشتے ضرور تلاش لیتے ہو۔ جہاں ماہر لسانیات کا کام ہو وہاں میریج بیورو یا مشاطہ کا کام کرتے ہو۔ ’ی‘ اور ’ے‘ دونوں میری ہی شکلیں ہیں، اور دونوں کا جنس مونث۔(کچھ زور سے ہنستے ہوئے کہنے لگیں، ان کی ہنسی میرے طوطے اور فاختے دونوں اڑا لے گئی)۔ آؤ اب بتاتی ہوں کہ یہ حرف ہندی میں کیا فعل انجام دیتے ہیں۔
ہندی الفاظ میں یہ حرف بعض وقت دوسرے الفاظ کے ساتھ مخلوط ہوکر بولاجاتا ہے اور درمیان میں آتا ہے، جیسے بیاہ، پیار، دھیان، وغیرہ۔
میں: (کچھ سنبھلتے ہوئے) خالہ جان کیا آپ کی ایسی بھی صورتیں ہیں جو آج مروج یا مستعمل نہیں ہیں اور خارج ہیں؟
ی: یہ کچھ ہنر کی بات کی تم نے۔لو سنو!
یائے زائد جیسے ؛ جائے، پائے، یہ اب متروک ہے مستعمل سے خارج ہے۔
میں: کیا ان الفاظ کو پھر سے مروج کیا جاسکتا ہے؟
ی : تمہاری مرضی، چاہے تو رائج کرلو۔ (طنزیہ طور پر) مگر جو مروج ہے ان کو تو ڈھنگ سے استعمال میں لاؤ۔
(میں متعجب ہوا، کیا حرف بھی اتنی طنزیہ باتیں کرتے ہیں؟ان حروف پر فخر بھی محسوس ہوا اور تھوڑا رشک بھی۔ پھر ذرا سنبھل کر سوالات جاری رکھا۔)
میں: اچھا اور خصوصیات کیا ہیں آپ کی؟
ی: ویسے اہل زبان مجھے استعمال کرکے اسمائے عام کے تذکیر کو تانیث بنا لیتے ہیں۔ جیسے الف نکالو اور ’ی ‘ لگاؤ۔ لڑکا سے لڑکی، مکڑا سے مکڑی، بکرا سے بکری وغیرہ۔
مگر یہاں یہ نہیں سمجھنا کہ میں جس اسم عام کے آخر میں رہوں وہ تانیث ہے۔ چند ایسی بھی مثا لیں ہیں جس میں میرے ہونے سے وہ لفظ مذکر ہی ہے نا کہ مؤنث۔ مثال کے طور پر، ہاتھی، پانی، مذکر تو ہیں مگر ان کے آخر میں ’ ی ‘ ہوتی ہے۔
میں: بہت ہی خوب خالہ جان۔ نہایت ممنون ہوں آپ کا۔ آپ سلامت رہیں۔
ی: سلامت! میری سلامتی کا چھوڑو میں تو رہوں گی ہی۔ مگر یہ دیکھو کہ تمہارے پاس زباندانی سلامت ہے کہ نہیں؟ سمجھے؟
میں: جی، خالہ جان ایسا ہی کروں گا۔ آپ کی اس بات کو ضرور یاد رکھوں گا۔
ی : جاتے جاتے اُس ’ ہ ‘ سے بھی ملتے جاؤ! بے چارہ بیتاب و بے قرار ہے۔ اس کی شکایت ہے کہ تم لوگ اسے ٹھیک پہچان ہی نہیں پائے اور اس کا غلط استعمال کرتے چلے جارہے ہو۔ خاص طور پر حال کے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا والے؟
میں: جی بالکل، اگلی بار اُس سے ضرور ملوں گا۔ خدا حافظ!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *