اردو صحافت میں امکانات کی کمی نہیں ہے: جاوید دانش


نئی دہلی: جاوید دانش کناڈا میں تھیئٹر کی ایک مشہور ہستی ہیں۔ ہندوستان اور کناڈا کے درمیان ثقافتی لین دین (کلچرل ایکسچینج) میں ان کا کردار ایک مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ گذشتہ دنوں انہوں نے دہلی یونیورسٹی میں منعقدہ عالمی اردو کانفرنس میں شرکت کی اور اردو صحافت سے متعلق اپنا ایک تحقیقی مقالہ بھی پیش کیا۔ اس کانفرنس کا انعقاد قومی کونسل برائے فروغِ اردو زبان (این سی پی یو ایل) کی جانب سے کیا گیا تھا۔
اسی پروگرام کے موقع پر “نیوز اِن خبر” کے جوائنٹ ایڈیٹر ڈاکٹر قمر تبریز نے جاوید دانش سے اردو صحافت کے تعلق سے تفصیلی گفتگو کی۔
جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں، موجودہ دور انفارمیشن ٹکنالوجی کا دور ہے۔ صحافت بھی ڈجیٹل دنیا کا حصہ بنتی جا رہی ہے۔ جاوید دانش نے اپنی گفتگو میں بتایا کہ آنے والے دنوں میں اگر اردو صحافت کو بھی ڈجیٹل دنیا اور خاص طور سے ویب جرنلزم سے جوڑ دیا جائے، تو اس کی پہنچ پوری دنیا میں ہو جائے گی اور پھر کوئی یہ نہیں کہے گا کہ اب اردو زبان یا اردو صحافت ختم ہونے والی ہے۔ تاہم، انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہم بھلے ہی کیوں نہ انٹرنیٹ اور موبائل پر خبریں پڑھ لیں، لیکن ہماری پرانی نسلیں یا جو بزرگ حضرات ہمارے درمیان موجود ہیں، انہیں اب بھی چھپے ہوئے اخبار کی ضرورت پڑتی ہے۔ اسی لیے یہ کہنا بھی غلط ہے کہ انٹرنیٹ کے آ جانے سے پرنٹ میڈیا کو کوئی خطرہ لاحق ہے۔
انہوں نے بتایا کہ جدید ٹکنالوجی کے مد نظر پوری دنیا میں صحافت کے میدان میں بھی نئے نئے تجربات کیے جا رہے ہیں، لہٰذا اردو صحافیوں کو بھی چاہیے کہ وہ اپنے تنگ دائرہ کو وسیع کرتے ہوئے انٹرنیٹ کی دنیا میں قدم رکھیں اور دوسروں کی طرح وہ بھی اس میں کچھ نیا کرنے کی کوشش کریں۔ اردو کے مستقبل کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ اردو زبان جب تک ہجرت کی زبان رہے گی، تب تک ختم نہیں ہو سکتی۔
عالمی اردو کانفرنس میں اپنا مقالہ پڑھتے وقت جاوید دانش نے ایک نئی بات یہ بتائی کہ اردو کا سب سے پہلا اخبار کناڈا سے نکلا تھا اور اس اخبار کا نام ‘غدر اخبار’ تھا۔ انٹرویو کے درمیان انہوں نے ڈاکٹر قمر تبریز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ دراصل تھیئٹر کے تعلق سے جب وہ ایک مخصوص موضوع پر ریسرچ کر رہے تھے، تب کناڈا کی تاریخ کی کتابوں میں انہیں ‘غدر اخبار’ کا حوالہ اور اس کا ذکر جابجا دیکھنے کو ملا۔ لہٰذا بعد میں الگ سے انہوں نے اردو کے اس اخبار پر باقاعدہ ریسرچ کی۔ انہوں نے بتایا کہ وہ اس اخبار کے تعلق سے این سی پی یو ایل سے ایک کتاب شائع کروانے کی خواہش رکھتے ہیں اور اس سلسلے میں اردو کونسل کے ڈائریکٹر پروفیسر ارتضی کریم سے رابطے میں ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *