کچھ تو ہماری بھی ذمہ داری ہوگی!

asfarاسفر فریدی

وطن عزیز میں ان دنوں مختلف وجوہ سے حالات کشیدہ ہیں۔ اس کے سبب زیادہ تر لوگ فکر مند ہیں۔ وہ اس صورت حال سے نکلنے کے جتن کر رہے ہیں۔ لیکن ایک بڑا مسئلہ یہ ہے کہ بیشتر مسائل کو سیاسی اور عصبیت کے عینک سے دیکھنے اور ان کا حل تلاش کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اس عمل میں یہ بھلا دیا جاتا ہے کہ کچھ تو ایسے بھی مسائل ہونگے جو سماجی نوعیت کے ہونگے اور ان کا حل سیاسی گلیاروں سے نہیں بلکہ سماجی سطح پر اقدامات کیے جانے سے ہوگا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ بہت سے ایسے مسائل جو بظاہر سیاسی نظر آتے ہیں، ان کی بنیاد میں بھی سماجی برائیوں کا عمل دخل ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر انتخابات کے دوران رائے دہندوں کو اپنے حق میں کرنے کے لیے جس طرح وعدوں کی جھڑی لگائی جاتی ہے، اور انہیں پورا نہیں کیا جاتا ہے، اس کے پس پشت بھی جھوٹ بولنے اور سامنے والے کو دھوکہ دینے کی سوچ اور عادت ہوتی ہے۔ اس کے لیے وہ سماج بھی ذمہ دار ہے جو جھوٹ بولنے والوں کو مختلف بہانوں سے بار بار نہ صرف معاف کرتا رہتا ہے بلکہ اس کی رہبری بھی قبول کرتا رہتا ہے۔ ہندوستان کے تناظر میں دیکھیں تو شاید ہی کوئی ایسی سیاسی پارٹی ہوگی جس کے لیڈران عوام سے کیے گئے وعدوں کو پورا کرنے کی نیت رکھتے ہیں، اور بالفرض اگر کسی کی نیت بھی صاف ہوگئی تو اقتدار میں آنے کے بعد اس کے سامنے سو سو رکاوٹیں کھڑی ہوجاتی ہیں۔ ان میں کچھ تو خارجی ہوتی ہیں، لیکن اکثر داخلی نوعیت کی ہوتی ہیں۔ سیاسی لیڈروں اور پارٹیوں کا یہ رویہ صرف اعلیٰ سطح پر ہوتا تو یہ کہنا حق بجانب ہوتا کہ ان کا سماج کی اکثریت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ لیکن پنچایتی سطح کے انتخابی عمل میں جو کچھ ہوتا ہے اور ان دنوں بہار میں دیکھنے سننے کو مل رہا ہے، وہ یہ بتانے اور سمجھانے کے لیے کافی ہونگے کہ سیاسی اعتبار سے ہماری بدحالی کی اصلی وجہ سماجی سطح پر ہماری تنزلی ہے۔

واضح ہوکہ ان دنوں جہاں آسام، مغربی بنگال، کیرل، تمل ناڈو اور پوڈوچیری میں اسمبلی انتخابات کی گہماگہمی ہے وہیں بہار میں پنچایت الیکشن کے سبب گاؤں گاؤں میں سیاسی سرگرمیاں تیز ہیں۔ اس کا اندازہ اس سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ مکھیا، سرپنچ اور سمیتی رکن کے لیے انتخابی مہم اب سوشل میڈیا کے ذریعہ بھی چلائی جارہی ہے۔ اس پر باضابطہ بحث و مباحثہ کا سلسلہ جاری ہے۔ طرح طرح کے کارٹون دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ ایک دوسرے پر الزامات لگائے جارہے ہیں۔ انتخابی میدان میں اترے بہت سے امیدوار اور ان کے حامی اپنی اپنی جیت کے لیے ذات پات اور ٹولہ محلہ سے لے کر مذہب تک کے استعمال کی کوشش کررہے ہیں۔ کوئی اپنی سماجی خدمات کا صلہ مانگ رہا ہے تو کوئی دوسرے کو بدعنوان اور اپنے آپ کو ایماندار کہہ رہا ہے۔  کہیں کوئی امیدوار بننے اور اپنی جیت کو یقینی بنانے کے لیے باپ دادا کی زمین فروخت کررہا ہے تو کہیں بندوق کی نوک پر ووٹ مانگے جارہے ہیں۔ ایک پنچایت کے بارے میں تو یہاں تک معلوم ہوا کہ وہاں گذشتہ تین بار سے پیسہ اور طاقت کے زور پر مکھیا بننے والے امیدوار نے اس بار ہر ۲۵؍ ووٹ پر ایک موٹر سائیکل بطور تحفہ دینے کی بات کہی ہے۔ اسی طرح ایک پنچایت میں مکھیا کے ایک امیدوار نے سابق مکھیا پر لوگوں کو ڈرانے دھمکانے کا الزام لگاتے ہوئے انتظامیہ سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابی عمل کو صاف شفاف اور آزادانہ بنانے کے لیے بوتھ کو محفوظ جگہ پر منتقل کرے۔

یہ وہ تصویر ہے جس سے ان دنوں بہار میں کم و بیش ہر گاؤں گھر کے لوگ واقف ہونگے۔ لیکن بہت کم لوگ یہ سوال کررہے ہونگے کہ آخر حالات اتنے دگر گوں کیسے ہوگئے؟برسوں سے ایک دوسرے کے قریب رہنے والے کس وجہ سے ایک دوسرے کے دشمن بنے پھرتے ہیں۔ پنچایت سطح کے انتخابات میں اگر کوئی اپنی زمین جائیداد فروخت کرکے میدان میں اترتا ہے اور جیتنے کی کوشش کرتا ہے تو یہ سوال ضرور ہونا چاہیے کہ آخر اس کے پیچھے کون سا محرک ہے، اور وہ الیکشن جیتنے کے بعد کیا چاہتا ہے؟ ساتھ ہی اچانک انتخابی میدان میں کود پڑنے والے امیدواروں سے بھی سوال ہونا چاہیے کہ گاؤں گھر کی سیاسی سرگرمیوں سے برسہا برس دوری بنائے رکھنے کے بعد کن وجوہات سے وہ اپنی قسمت آزمائی کرنا چاہتے ہیں؟ ہوسکتا ہے کہ بہت سے لوگوں کے لیے یہ سوالات بچکانہ نوعیت کے ہوں، لیکن میری نظر میں ان کی اہمیت اس لیے بڑھ جاتی ہے کیونکہ ان کا سیدھا تعلق سماج کے سب سے چھوٹے عنصر یعنی فرد اور خاندان سے ہونے کے ساتھ ساتھ حکومت اور انتظامیہ کے لحاظ سے سب سے چھوٹی یونٹ گاؤں اور پنچایت سے ہے۔ اس سطح پر ہونے والی بحثوں سے ہمیں سماجی رجحانات کا پتہ چلتا ہے۔ وہ یہ بتاتے ہیں کہ جب سماجی معاملے اور سماجی سروکار کا وقت آتا ہے تو ہم کس انداز اور زاویے سے سوچنے اور عمل کرنے لگتے ہیں۔

کچھ اسی طرح کی صورتحال کا سامنا مذہبی اداروں اور ان کے رہنماؤں کے ضمن میں بھی ہوتا ہے۔ گذشتہ دنوں یہ سوال اس وقت اور زیادہ بڑا بن کر سامنے آیا جب علاج ومعالجہ کے پیشے سے وابستہ ایک ڈاکٹر نے کہا کہ بہت سی بیماریاں تو ایسی ہوتی ہیں جن سے عام طور پر بہت آسانی سے بچا جاسکتا ہے۔ اس کے لیے سماج کے ذمہ داروں اور بالخصوص مذہبی رہنماؤں کو آگے آنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا اگر جمعہ کی نماز سے پہلے ائمہ حضرات سماجی معاملات پر گفت و گو کریں تو ایک بڑی تبدیلی آسکتی ہے۔ مثال کے طور پر بہت سی بیماریاں آس پاس پھیلی گندگی سے ہوتی ہے۔ سماج میں صفائی ستھرائی کے مقصد سے بیداری پیدا کرنے کے لیے ائمہ حضرات کو پہل کرنا چاہیے۔ اسی طرح عوام کی سہولت کے لیے فراہم جگہوں جیسے سڑکوں کے کناروں پر دکانوں کے علاوہ گاڑیاں پارک کرنے سے اسی سماج میں رہنے والے لوگوں کو کتنا اور کس کس طرح کا نقصان ہوتا ہے، اس کی طرف بھی متعلقہ افراد کی توجہ مبذول کرانے کی ضرورت ہے۔ اتنا ہی نہیں رشوت دینے اور لینے کے ساتھ ہی سرکاری املاک کی چوری کو جائز قرار دینے کے رجحان پر قدغن لگانا بھی ضروری ہے۔

گویا سماج میں نیچے سے اوپرتک سرایت کرچکی برائیوں کو ختم نہیں تو انہیں کم کرنے کے مقصد سے ایک پہل کی بہرحال ضرورت ہے۔ یہ پہل حکومت یا سیاسی پارٹی کی طرف سے نہیں ہوگی، بلکہ اس کے لیے سماج کو ہی آگے آنا ہوگا۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ اس پر عمل درآمد کا موقع انتخابی موسم میں دوسرے دنوں کی نسبت زیادہ فراہم ہوتا ہے۔ ان دنوں ملک کی جن ریاستوں میں الگ الگ سطحوں کے انتخابات کا عمل جاری ہے، کم سے کم ان ریاستوں میں اس سمت میں قدم اٹھایا جاسکتا ہے۔ اس میں دوسروں سے زیادہ مسلمانوں کو آنے کی ضرورت ہے کیونکہ وہ جس مذہب کے پیروکار ہیں، وہ امن وآشتی اور محبت کے ساتھ ساتھ محنت اور ایمانداری سے جینے کا سبق دیتا ہے۔ اور اس سب سے بڑھ کر وہ ایک کو دوسرے کے حقوق کا احترام کرنے کی ہدایت کرتا ہے۔ اب اس کے آئینے میں ہمیں اپنی سیاسی اور سماجی ذمہ داریوں کا محاسبہ کرنا چاہیے، اور دیکھنا چاہیے کہ ہم اپنا فریضہ ادا کرنے میں کس حد تک ناکام ہیں اور اس ناکامی کے دور سے نکلنے کے لیے کس طرح عملی اقدام کرنا چاہیے؟
(بشکریہ روزنامہ انقلاب، نئی دہلی)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *