کوئی تو حد ہوگی صاحب!

اسفر فریدیasfar
وطن عزیز ہندوستان کو ترقی کی ان دیکھی بلندیوں تک لے جانے کا جو خواب دکھایا گیا تھا، وہ بہت سے لوگوں کو بڑا حسین لگا تھا۔ چند ایک ایسے بھی نکلے جو اسی خواب کو دیکھنے کے لیے دن میں ’پردھان سیوک‘ کے لیے محنت کرتے اور دیر رات تک بے چینی کے ساتھ کروٹیں بدلتے بدلتے سو جاتے تھے۔ انہیں دن بھر تھکادینے والا کام کرنے کے سبب الٹا سیدھا سپنا آتایا پھر جاگتی آنکھوں سے ہی وہ سب نظرآجاتا جو خواب میں بھی کم ہی لوگوں کو میسر ہوتا ہے۔ بہر حال دن کٹتے گئے ۔ ایک سال گذر گیا۔ سپنا ، سپنا ہی رہا۔ پردھان سیوک کبھی یہاں تو کبھی وہاں جاتے ، اور ہر جگہ سے چند ایک روز کے لیے اپنی دھرتی پر قدم رکھتے تو یہی کہتے کہ بس اب کایا پلٹ ہونے والی ہے۔ لیکن ، اس بار بھی جب بجٹ کا پٹارہ کھلا، تو عوام کے لیے اس میں سے کچھ نہیں نکلا۔دلچسپ بات تو یہ رہی کہ آئندہ ایک سال کا بجٹ پیش کرتے ہوئے وزیر خزانہ ارون جیٹلی نے جو خواب دکھائے ہیں، ان کے پورا ہونے میں کم سے کم سات برس لگ جائیں گے۔ کیونکہ خود انہوں نے ہی اپنے بیشتر مجوزہ منصوبوں کو ۲۰۲۲ء میں پورا ہونے کی بات کہی ہے۔ اب اس دوران کسان کی کیاحالت ہوگی، وہ کہاں جائیں گے، نوجوانوں کو کتنا روزگار ملے گا، مہنگائی کس آسمان پر پہنچے گی ، یہ کسی کو معلوم نہیں ۔ خود ارون جیٹلی بھی شاید اس سے ناواقف ہونگے۔
لیکن مرکزی وزیر خزانہ کی سب باتوں کو اور ان کے دکھائے ہوئے خوابوں کی ممکنہ تعبیر کو اگر سچ بھی مان لیا جائے ، اس کے باوجود یہ سوال اپنی جگہ برقرار رہے گا کہ آخر ایسے ماحول میں جہاں ہر طرف تناؤ ہے، کشیدگی پھیلی ہوئی ہے، سماجی تانا بانا ٹوٹ پھوٹ رہا ہے، ترقی کی گاڑی کس طرح آگے بڑھے گی؟ اقتصادی امور سے ناواقف لوگ بھی جانتے ہونگے کہ تجارت پرسکون ماحول چاہتی ہے۔ سرمایہ کاری کے لیے امن وسلامتی پہلی شرط ہے۔ سرمایہ کار باہر کا ہو یا اندرکا، وہ اپنا پیسہ ایسی جگہ نہیں لگائے گاجہاں اسے پہلے ہی سے اس کے ڈوبنے کا اندیشہ ہو۔ اسی کے ساتھ ہر ایک تاجر اور بازار کی اپنی عزت بھی ہوتی ہے۔ اس سے کہیں بڑی عزت ملک کی ہوتی ہے۔ اتفاق سے ہندوستان کا وقار ایک ملک اور ایک بازار دونوں اعتبار سے ان دنوں مجروح ہورہا ہے۔ یہاں مرکز میں برسراقتدار بی جے پی اور اس کی سرپرست جماعت آرایس ایس ایسا ماحول بنانے کے در پے ہے جس میں بیشتر لوگوں کا دم گھٹ جائے گا۔ ہندوستان کی تاریخ پر نظر رکھنے والے اگرچہ اس بات سے مطمئن ہیں کہ سنگھ پریوار ملک میں جو بیماری پھیلانا چاہتا ہے، اس میں وہ کامیاب نہیں ہوگا تاہم کبھی کبھی منفی خیالات بھی ذہن میں آجاتے ہیں۔ اس وقت کلیجہ کانپ جاتا ہے۔ ذرا آپ بھی تصور کیجیے!برصغیر ہند میں لوگوں کو بولنے کی آزادی نہیں ہوگی۔ سب ایک رنگ میں رنگے نظر آئیں گے۔ ایک طرح سوچیں گے اور ایک ہی طرح کا کھانا کھائیں گے۔۔۔اس وقت اپنا ملک کیسا لگے گا اور جو لوگ ویسے ماحول میں جی رہے ہونگے، وہ کیسے لگیں گے؟
حقیقت یہ ہے کہ ملک پر خطرہ بہت بڑھ گیا ہے۔ عظیم ہندوستان کی تشکیل میں سب سے اہم کردار نبھانے والے عوام ہی کو بے دست و پا بنانے کی کوشش نہیں ، سازش ہورہی ہے۔ اس کا سب سے مؤثر ہتھیار وطن پرستی یا حب الوطنی کو بنا لیا گیا ہے۔ سنگھ پریوار پہلے حب الوطنی کا سرٹیفکٹ تقسیم کیا کرتا تھا۔ اب وہ لوگوں سے اس کی سند مانگ رہا ہے۔ کمال کی بات یہ ہے کہ اپنے علاوہ ہرایک کو ملک دشمن اور غدار وطن کہنے میں اسے کوئی ہچک محسوس نہیں ہورہی ہے۔ اس کی وجہ ہے۔ سینیاں بھئے کوتوال ، اب ڈر کاہے کا۔ملک میں کس طرح کے حالات ہیں، اس کا اندازہ قومی دارالحکومت دہلی کے جنترمنتر پر جاکر آسانی سے لگایا جاسکتا ہے۔ عوام مختلف مسائل اور مطالبے کے ساتھ احتجاج کررہے ہیں۔ لوگ دھرنا پر بیٹھے ہوئے ہیں، اور ان کو پوچھنے والا کوئی نہیں ہے۔ یعنی عوام چلاتے رہیں، دھرنا اور مظاہرہ کرتے رہیں، اقتدار کی کرسی پربراجمان سیوکوں کے چین میں اس سے خلل نہیں پڑے گا۔ جب عوام کے پاس طاقت لوٹے گی، اس وقت پھر چھوٹے چھوٹے ڈبوں سے منھ باہر نکال کربولنے والے حاکموں کے کارنامے گنوانے کے لیے کرائے پر لے لیے جائیں گے ۔ لیکن تب تک شاید بہت دیر ہوچکی ہوگی۔اس کی وجہ یہ ہے کہ سنگھ پریوار حب الوطنی کی اپنی تعریف کے دائرے میں سبھی کو قید کرلینے تک پورے ملک کو یرغمال بنائے رکھنا چاہتا ہے۔ ابھی حیدرآباد سینٹرل یونیورسٹی کے روہت ویمولا کو انصاف ملنا تو دور اسے مظلوم بھی نہیں مانا گیا تھا کہ جے این یو پر دھاوا بول دیا گیا۔ اسی طرح اترپردیش کے مظفرنگر کے تجربہ کو آگرہ میں دہرانے کی سازش شروع ہوگئی ہے۔ مظفرنگر کے انسانیت سوز مسلم کش فسادات سے پہلے جس طرح اشتعال انگیز تقریریں کی گئی تھیں، اسی طرح آگرہ میں مسلمانوں کے خلاف جنگ چھیڑنے کی بات کی گئی ہے۔ اس حوالے سے دہلی یونیورسٹی میں درس و تدریس سے وابستہ پروفیسر اپوروانند نے بہت اہم بات کہی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ آگرہ میں ایک مرکزی وزیر کی موجودگی میں جس طرح مسلمانوں کے خلاف آخری لڑائی کی بات کی گئی وہ ملک میں جنگ چھیڑنے کا کھلا اعلان ہے مگر مرکزمیں بالواسطہ طور سے برسراقتدار آرایس ایس اور اس کی سیاسی شاخ بی جے پی اس کو جرم نہیں مان رہے ہیں۔ یہاں تک کہ وہ شخص ابھی تک وزیر بنا ہوا ہے۔ افسوس کی بات یہ بھی ہے کہ وہ شخص وزیر تعلیم ہے۔ ظاہر ہے جب حب الوطنی کی اپنی مخصوص تعریف ہوگی اور اس دائرے میں سبھی کو گھسیٹنے کی کوشش کی جائے گی تو پھر تھوڑے دنوں کے بعد شاید ناگپور کے علاوہ ہندوستان میں کہیں اور کوئی اس پیمانے پر اترنے والا محب وطن ملنا مشکل ہی نہیں ناممکن بھی ہوجائے گا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ حکومت کی عوام مخالف پالیسیوں کے خلاف بلند کی جانے والی ہر آواز کو ملک دشمن بتاکر دبانے کا ایک سلسلہ سا چل پڑا ہے۔ سنگھ پریوار کے لوگ اپنے علاوہ کسی اور محب وطن نہیں مانتے ، جبکہ ان کی کرتوتوں سے صاف واضح ہے کہ وہ صرف ملک دشمن ہی نہیں بلکہ ان کی سوچ انسان دشمن بھی ہے۔ آخر کون سی جماعت یا تنظیم ہے جس کے ممبران اور عہدیداران اس طرح اپنے ہم وطنوں کے خلاف جنگ کا اعلان کررہی ہے۔ کیا اطلاعاتی ٹکنالوجی کے اس دور میں بھی وہ ان ملکوں اور خطوں کے حالات سے واقف نہیں ہیں جہاں ایک فرقہ یا گروپ نے دوسرے کو حاشیہ پر پہنچانے کے لیے خود کو بربادی کے اندھیرے کنوئیں میں دھکیل دیا؟ملک کے مسلمانوں کے خلاف زہر افشانی صرف مسلمانوں کے خلاف نہیں ہے بلکہ اس عظیم ہندوستان کے بھی خلاف ہے جس کی آبادی سواسو کروڑ سے زیادہ ہے۔ ہندوستان کی ترقی کا خواب مسلمانوں اور دیگر پسماندہ فرقوں اور طبقوں کی ترقی کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ اس کے علاوہ کسی بھی فرقے یا طبقے کے خلاف لڑائی چھیڑنے کا ایک مطلب خونریزی اور تباہی ہے۔ دہلی کے نزدیک ہریانہ میں گذشتہ دنوں جاٹ ریزرویشن کے لیے چلائی گئی پرتشدد تحریک سے کم وبیش ۲۰؍ ہزار کروڑ روپے ہونے کا اندازہ لگایا گیا ہے۔ یہ صرف ہریانہ کا نقصان تھایہ پورے ملک کا؟ اس سوال کا جواب ہی ان لوگوں کو آئینہ دکھانے کے لیے کافی ہوگا جو ملک میں انتشار پھیلانا چاہتے ہیں، اور شاید ان کی بھی آنکھیں کھل جائیں جو ’اپنوں‘ کی ہر چھوٹی بڑی غلطیوں کو نظرانداز کررہے ہیں۔

(بشکریہ روزنامہ انقلاب، نئی دہلی)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *