نظر بدلیں، نظارے خود بخود بدل جائیں گے

آشا ترپاٹھیAsha Tripathi
آج آٹھ مارچ ہے. ہر سال آج کے دن خواتین کا عالمی دن منایا جاتا ہے. خواتین کے حقوق، ان کی عزت اور معیشت میں ان کی شرکت کی بحث ہوتی ہے. اعلی تعلیم یافتہ طبقے اور کارپوریٹ کمپنیوں میں خواتین چاہے جتنی شہرت بٹور لیں، لیکن آج بھی انہیں وہ اہمیت نہیں ملتی، جس کی وہ مستحق ہیں. ملک کی چوطرفہ ترقی میں مردوں کے ساتھ شانہ بہ شانہ ملا کر چلنے والی خواتین کے ساتھ ہر سطح پر امتیازی سلوک اب بھی جاری ہے. یہ کہنے میں کوئی گریز نہیں کہ معاشرے میں ہر سطح پرخواتین کی شرکت میں اضافہ ہوا ہے، پھر بھی خواتین کی اکثریت، جو کارکن ہیں، ان کی شراکت، ان کی اقتصادی معنویت کا نہ تو ہمیں ٹھیک سے اندازہ ہوتا ہے اور نہ ہی انہیں واجب حق ملا ہے. وسیع پیمانے پر بھی دیکھیں تو خواتین کی بدولت ہم نے اقتصادی اعتبار سے بہت ترقی کی ہے. کوئی بھی معاشرہ خواتین کارکنوں کی طرف سے قومی آمدنی میں اس کی حصہ داری کو نظرانداز نہیں کر سکتا. اس کے باوجود، ان کو مطلوبہ اہمیت نہیں ملتی. ہندوستان کے لیبر مارکیٹ میں خواتین کی شرکت دنیا کے مقابلے میں بہت کم ہے. پھر بھی گھریلو کام میں خواتین کی شرکت ۷۵ فیصد سے زیادہ ہے. یہ جگ ظاہر ہے کہ دیہی اور شہری دونوں علاقوں میں خواتین کی تعلیم کی شرح میں اضافہ ہوا ہے. اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ دیہی علاقوں میں ۱۵ سے ۱۹ سال کی عمر کی لڑکیوں میں تعلیم کے فروغ کے ساتھ لیبر کے علاقے میں ان کی شرکت کم ہوئی ہے. یہ اچھی بات ہے، لیکن ۲۰ سے ۲۴ سال کی عمر کی حد کی لڑکیوں کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ ان کی طرف سے حاصل تعلیم کا فائدہ انہیں روزگار میں بہت نہیں مل پایا ہے. خواتین کی صلاحیت کے حوالے سے معاشرے میں پھیلے تاثر کا بھی اہم کردار ہوتا ہے. ملک کے پدرانہ نظام میں جدیدیت کے باوجود کئی سطحوں پر خواتین کو ان کا واجب حق نہیں مل پایا ہے. جب تک اس تعصب کو دور نہیں کیا جاتا، تب تک عورت مرد برابری صرف کتابی باتیں ہی رہ جائیں گی. مجھے لگتا ہے کہ خواتین کی تخلیق نو کے لیے چلی تمام مہموں اور پروگراموں کے باوجود خواتین کی فلاح و بہبود کی سمت میں بنیادی تبدیلی نہ ہونے کے پیچھے لوگوں کا آلودہ نقطئہ نظر ہے. ظاہر ہوتا ہے کہ اگر خواتین کے تئیں سوچ اور نظریہ بدلے تو نظارہ بھی بدلتا ہوا نظر آئے گا.
نظر اور نظارے کی بات کو تھوڑا توسیع دیں تو پتہ چلے گا کہ کس طرح اس ۲۱ ویں صدی کے سولہویں سال میں بھی خواتین کے تئیں آلودہ نقطئہ نظر رکھا جاتا ہے. گذشتہ سال کا ایک واقعہ یاد آ رہا ہے. ہندوستانی انتظامی خدمات (آئی اے ایس) افسر سمیتا سبروال تلنگانہ کے وزیر اعلی کے دفتر میں ایڈیشنل سکریٹری کے عہدے پر تعینات ہوئیں. ان کے تئیں سیاسی رہنماؤں اور کچھ حکام کی سوچ اتنی گندی تھی، جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہوگی. وہاں سوال پوچھنے پر لیڈر کہتے تھے:’وہ اپنی خوبصورت ساڑیوں سے فیشن اسٹیٹمنٹ دیتی ہیں اور میٹنگ میں ‘آئی کینڈی’ کا کام کرتی ہیں.’ ملک کی ایک معروف انگریزی میگزین نے ان کے بارے میں تمام طرح کی منفی باتیں شائع کی. اس پر سبروال نے میگزین کو ہتک عزت کا قانونی نوٹس بھیج دیا. بقول سمیتا سبروال: ‘مجھے سب سے برا یہ لگا کہ ایک میگزین جسے لاکھوں لوگ پڑھتے ہیں وہ اس طرح کی بات کرتی ہے کہ ایک خاتون خوبصورتی کی وجہ سے اپنے کیریئر میں آگے بڑھ پا رہی ہے’. سوشل میڈیا پر بھی بہت سے لوگوں نے اس مضمون کی مذمت کی تھی. میگزین نے اپنے مضمون کے ساتھ شائع کارٹون اپنی ویب سائٹ سے ہٹا لیا تھا. اس کارٹون میں ایک عورت کو فیشن شو میں حصہ لیتے ہوئے دکھانے کے ساتھ ہی کچھ رہنماؤں کو ‘بری نظر’ سے عورت کی طرف گھورتے ہوئے دکھایا گیا تھا. مضمون میں آفیسر کا نام لیے بغیر یہ لکھا تھا کہ ہمیشہ ساڑی پہننے والی عورت ایک فیشن شو میں پتلون اور ٹاپ میں نظر آئیں تو تصویر کھینچنے کا اچھا موقع بنا. گذشتہ ۱۵ سال سے آئی اے ایس آفیسر سمیتا سبروال کے مطابق ‘یہ اوچھی صحافت کی مثال ہے، یہ خواتین مخالف جنسی امتیاز کی سوچ ہے جو بدلتے معاشرے میں اب کم ہی لوگوں میں بچی ہے، لیکن میگزین اس پرانی سوچ کو شائع کرکے فروغ دے رہی ہے. ‘كیريئر میں آگے بڑھنے کے پیچھے ایک عورت کا کام نہیں اس کی خوبصورتی ہوتی ہے، بہت سے لوگ اس طرح کے الزامات طویل عرصے سے لگاتے آئے ہیں. ساڑی کی جگہ پتلون ٹاپ پہننے پر خواتین کو الگ نظر سے بھی دیکھا جاتا رہا ہے. البتہ اس سوچ کو قدیم اور قدامت پسند بتانے میں خواتین کا ساتھ اکثر صحافیوں نے ہی دیا ہے. مردوں کے غلبے والے کام اور صنعتوں میں خواتین کے آنے پر مضامین بھی لکھے گئے ہیں.
مندرجہ بالا مثال سے یہ سوال اٹھتا ہے کہ کیا یہ نسوانی سمجھ محض سطحی ہے؟ ماہرین کا کہنا ہے کہ صحافت میں جنسی امتیاز والے مضامین اور تصاویر کی مثالیں اب بھی عام ہیں. اس سے فرق نہیں پڑتا کہ انسٹی ٹیوٹ بڑا ہے یا چھوٹا، یا صحافی بڑے شہر میں کام کرتا ہے یا چھوٹے، یہ سوچ اب بھی ہے. اکثر خاتون کھلاڑیوں کی جو فوٹو شائع کی جاتی ہیں، وہ بھی ‘خراب’ نظر سے ہوتی ہیں. کچھ اسی طرح کی ایک مثال چند سال پہلے سامنے آئی جب ملک کے ایک معروف انگریزی اخبار نے بالی ووڈ اداکارہ دیپکا پاڈكو کی ‘كليویج’ والی ایک تصویر شائع کی تھی. دیپکا نے سوشل میڈیا کے ذریعہ کہا تھا کہ خواتین کو بااختیار بنانے کے دور میں قارئین کی نظر ایک کاروباری عورت کی طرف ایسے کھینچنا غلط ہے. اپنے ایک ٹوئٹ میں انہوں نے کہا تھا، “جی ہاں، میں ایک عورت ہوں. میرے پاس كليویج ہے. آپ کو کوئی مسئلہ ہے اس بات سے؟” پھر اخبار نے دیپکا کے اس غصے پر جواب دیتے ہوئے ایک ٹوئٹ کیا، ‘دیپکا، ہم تو آپ کی تعریف کر رہے ہیں. آپ تو انتہائی خوبصورت ہیں اور ہم چاہتے ہیں کہ ہر کسی کو اس بات کا پتہ چلے. ‘بہت سے لوگ اسے بہت باریک کہتے ہیں، لیکن ایک بہت صاف لکیر ہے جو تعریف کی حدود کو بدتمیزی کی حد میں بدل دیتی ہے. فرق نظریے کا ہے، لائن کے اس طرف یا اس طرف، عورت کی تعریف ایک بات ہے اور اس کی قابلیت کو کم سمجھنا یا خوبصورتی کے نام پر نظرانداز کر دینا دوسری۔ آخر یہ بھی صاف ہے کہ کامیاب کاروباری مردوں کے رنگ روپ پر ایسے تبصرے نہیں کیے جاتے. شاید ہی کسی مضمون میں ان کے پہناوے کو ان کے كريئر سے جوڑا جاتا ہو. لب لباب یہ ہے کہ معاشرے کی سوچ کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے. چونکہ سمیتا سبروال ملک کے کسی وزیر اعلی کے دفتر میں سکریٹری کے عہدے پر مقرر کی جانے والی پہلی خاتون آفیسر تھیں. ان کے مطابق مردوں کے تسلط والے کام میں اپنے لیے جگہ بنانا بھی ان کے خلاف مندرجہ بالا طنز بھرے مضمون کی وجہ ہو سکتی ہے. انہوں نے واضح طور پر کہا تھا کہ میری یہ حصولیابی شاید کچھ مردوں کو پسند نہیں آئی، لیکن میگزین کا میرے کام کے بارے میں معلومات جمع کیے بغیر ایسی باتوں کو جگہ دینا قابل مذمت ہے.
بتاتے ہیں کہ جنیوا میں واقع ورلڈ اکونومک فورم کی سالانہ جنسی گیپ انڈیکس کے مطابق ہندوستان ۱۴۲ملکوں کی فہرست میں ۱۳ مقام گر کر ۱۱۴ویں نمبر پر آ گیا ہے. گذشتہ سال وہ ۱۳۶ ملکوں کی فہرست میں ۱۰۱ ویں نمبر پر تھا. یہ سروے صحت، تعلیم، اقتصادی شراکت داری اور سیاسی شرکت کے پیمانے پر خواتین کی صورت حال کا اندازہ لگاتا ہے. ہندوستان تعلیم، آمدنی، لیبر مارکیٹ میں شرکت اور بچوں کی شرح اموات کے لحاظ سے اس فہرست کے آخری ۲۰ ممالک میں شامل ہے. مردوں اور عورتوں کے درمیان سب سے زیادہ مساوات ناروے، آئس لینڈ، فن لینڈ، سویڈن اور ڈنمارک جیسے شمالی یورپ کے ملکوں میں پائی گئی ہے. امریکہ میں خواتین کی حالت پہلے سے بہتر ہوئی ہے. مجموعی طور پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ خواتین کے تئیں آلودہ نظریہ اور امتیازی سلوک والا رویہ ناخواندگی کے اندھیرے میں ہی تیزی سے پنپتے ہیں. اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ تعلیمی نظام کو مضبوط کرکے خواتین کے تئیں لوگوں کی سوچ کو بدلا جائے. یقینی طور پر جب نظریہ بدلے گا تو نظارہ بھی بدلا ہوا نظر آئے گا. کہا جاتا ہے کہ ‘جیسی نظر ہوتی ہے ویسا ہی نظر آتا ہے.’

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *