اس وجہ سے پرینکا گاندھی نہیں آ رہی ہیں سیاست میں

نئی دہلی: کانگریس کے سامنے 2019 کے لوک سبھا انتخابات میں بڑی جیت درج کرنے کے ساتھ ہی اپنا وجود بچانے کی بھی چنوتی ہے. گجرات سے جب سے نریندر مودی اور امت شاہ کی جوڑی قومی سیاست میں آئی ہے، کانگریس مسلسل زوال پذیر ہے. ویسے بھی نریندر مودی نے وزیر اعظم کا امیدوار بننے کے بعد 2013  ہی میں کانگریس مکت بھارت کا نعرہ دے دیا تھا. وزیر اعظم مودی اور بی جے پی صدر امت شاہ اپنے اس ہدف میں کامیاب ہوتے نظر آ رہے ہیں. غور سے دیکھا جائے تو 2014  کے لوک سبھا انتخابات میں 44 نشستوں پر سمٹ جانے والی کانگریس نے پنجاب کو چھوڑ کر کہیں بھی بڑی جیت درج نہیں کی ہے. پنجاب میں کانگریس کا سامنا مودی اور امت شاہ کی بجائے اکالی دل سے تھا۔گزشتہ سال گجرات اسمبلی کے انتخابات میں کانگریس نے سیٹوں کے لحاظ سے اپنی پوزیشن تھوڑی بہتر ضرور کی، لیکن وہاں بی جے پی کی نشستوں میں کمی آنے کا سبب کانگریس نہیں بلکہ مقامی لیڈران تھے.

اب بڑا سوال یہ ہے کہ راہل گاندھی کی قیادت میں کانگریس کی مسلسل ہار کے باوجود پرینکا گاندھی کو میدان میں کیوں نہیں لایا جا رہا ہے، یا دوسرے الفاظ  میں کہیں تو، انہِیں سیاست میں کیوں نہیں آنے دیا جا رہا ہے. اس سوال کا  جواب  دیتے ہوئے نہرو- گاندھی خاندان کو قریب سے جاننے والے ایک سینئر لیڈر بتاتے ہیں کہ جواہرلعل نہرو کی ایک بیٹی تھیں اندرا گاندھی، اس کے باوجود انہیں بہت دنوں تک سرگرم سیاست میں آنے کا موقع نہیں ملا-  اندرا گاندھی کے دو بیٹے تھے. بڑے راجیو گاندھی اور چھوٹے سنجے گاندھی. جب سنجے گاندھی سیاست میں سرگرم ہوئے تو راجیو گاندھی نے اپنی الگ راہ پکڑی اور وہ پائلٹ بن کر ہوائی جہاز اڑانے لگے. ہوائی جہاز کے ایک  حادثے  میں سنجے گاندھی کی وفات کے بعد راجیو گاندھی کو سیاست میں لایا گیا.

راجیو گاندھی اور سونیا گاندھی کے واقف کار اس  سینئر  لیڈر  نے  بتایا  کہ  خاندان میں ایک بہت ہی مضبوط روایت ہے. وہاں سیاسی ذمہ داری نبھانے کے لیے خاندان کا ایک ہی فرد  سامنے آئے گا. یہی وجہ ہے کہ جب تک راجیو گاندھی رہے، سونیا گاندھی سیاست سے دور رہیں. انہوں نے اپنا نام ظاہر نہیں کرنے کی شرط پر بتایا کہ راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی کے سامنے بھی خاندان کی یہی روایت ہے. انہوں نے دبے الفاظ میں یہ ضرور مانا کہ پرینکا گاندھی راہل گاندھی سے بہتر متبادل ہو سکتی ہیں، لیکن خاندان کی روایت اس کی فی الحال اجازت نہیں دیتی.

غور طلب ہے کہ پرینکا گاندھی پردے کے پیچھے سے کانگریس کے کاموں میں بہت سرگرم ہیں. گزشتہ دنوں کانگریس پارٹی کا جو قومی اجلاس ہوا، اس کی مکمل تیاری پرینکا  گاندھی ہی نے کی تھی. اس کے علاوہ سونیا گاندھی اور راہل گاندھی کے لوک سبھا حلقوں رائے بریلی اور امیٹھی میں کانگریس کی اصل کمان پرینکا گاندھی ہی سنبھالتی ہیں-

پرینکا کی ایک خاص بات یہ بھی ہے کہ لوگ ان میں اندرا گاندھی کی صورت اور سیرت دیکھتے ہیں- ایسے میں یہ مانا جاتا ہے کہ اگر پرینکا گاندھی سیاست میں سرگرم ہوتی ہیں تو   پھر راہل گاندھی کے لئے مشکل کھڑی ہو جائے گی-

کہتے ہیں کہ پرینکا بھی آپ بھائی کو ناکام نہیں دیکھنا چاہتی ہیں، اس لیے پردے کے پیچھے رہ کر ان کی پوری مدد کرتی ہیں۔  لیکن اگلے انتخابات میں مودی – شاہ کی قیادت میں بی جے پی کے رتھ کو روکنے کے لیے کانگریس کو علاقائی پارٹیوں سے معاہدہ کرنے کے ساتھ ہی اپنی بھی پوزیشن مضوط کرنے کی ضرورت ہے۔  راہل گاندھی بھلے ہی پارلیمنٹ اچھا بول  لیتے  ہوں،  لیکن وہ خود کو عوام سے جوڑنے میں ابھی تک بہت زیادہ کامیاب نہیں ہوئے ہیں- یہاں تک کہ جن علاقائی پارٹیوں سے راہل گاندھی اتحاد کرنا چاہتے ہیں وہ بھی   انہیں وزیر اعظم کے عہدہ  کا امیدوار ماننے کے لیے تیار نہیں ہیں. کانگریس اور اس کی حلیف پارٹیاں پارلیمانی  روایت کی دہائی دے کر پہلے سے وزیر اعظم کے عہدہ کا  امیدوار اعلان کرنے سے بچ  رہی  ہیں. لیکن سچی بات یہ ہے کہ وہ پارلیمانی روایت سے زیادہ ڈر سے راہل گاندھی یا کسی دوسرے کو وزیر اعظم کے عہدہ کا چہرہ نہیں بنا پا رہی ہیں. اگر پرینکا گاندھی میدان میں آ جاتی ہیں تو کانگریس کے اندر سے یہ ڈر ختم ہو سکتا ہے.

Share

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *