قومی کونسل کے زیر اہتمام سہ روزہ عالمی اردو کانفرنس آغاز

?"(افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے معروف صحافی اور بی جے پی رہنما ایم جے اکبر)

نئی دہلی: اردو صحافت ہمیشہ عوام کے ساتھ جڑی رہی ہے۔ اس کا سروکار عام لوگوں کے دکھ درد سے رہا ہے۔ تحریک آزادی اور تحریکِ خلافت دونوں ہی میں اردو صحافت کا بہت ہی اہم رول رہا ہے۔ اردو صحافت مختلف نشیب و فراز سے گزری ہے۔ یہ کبھی جذبات کو بڑھانے کا ذریعہ بھی بنی تو کبھی جذباتیت کا شکار بھی ہوئی ہے۔ ممتاز انگریزی صحافی ایم جے اکبر نے قومی اردو کونسل کی طرف سے دہلی یونیورسٹی کے کانفرنس سینٹر میں منعقدہ عالمی اردو کانفرنس میں کلیدی خطبہ دیتے ہوئے ان خیالات کا اظہار کیا۔ انھوں نے اردو صحافت کو در پیش مسائل پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اردو اخبار کی کوئی اکنامی نہیں ہے، کوئی اشتہار نہیں ہے۔ اردو کا اکنامک فاؤنڈیشن ہندی سنیما ہے جہاں اردو والوں کے لیے روزگار کے مواقع ہیں۔ ہمارا اکیسویں صدی کا ملک زبان کو تلاش کررہا ہے۔ جس زبان کی اکانومی ہوتی ہے اس زبان کے لیے بہت سی زمینیں ہیں۔ اس لیے اردو کو بھی اب مارکیٹ پلیس کی ضرورت ہے۔ انھوں نے اردو زبان کی بقا اور تحفظ کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جہاں پر اردو کی پیدائش ہوئی ہے وہاں اردو کا خاتمہ نہیں ہوسکتا۔ ایم جے اکبر نے اردو ہندی تنازعے کے حوالے سے کہا کہ یہ جھگڑا انگریزوں کا پیدا کردہ ہے۔ انھوں نے دو قوموں کے درمیان جھگڑے کی بنیاد ڈالنے کے لیے زبان کا سہارا لیا کیونکہ زبان جذبے سے جڑی ہوتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس وقت ہمارے سامنے سب سے بڑا چیلنج ماڈرنیٹی کا ہے۔ ہمیں جمہوریت، صنفی مساوات اور معاشی مساوات کو مستحکم کرنا ہوگا تبھی ہم ملک کو مضبوط کرپائیں گے۔
DSC_0084(عالمی اردو کانفرنس کے یادگاری مجلہ کااجرا کرتے ہوئے ایم جے اکبر، قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے ڈائریکٹر پروفیسر ارتضیٰ کریم و دیگر)

عالمی اردو کانفرنس کا آغازمعروف صحافی اور راجیہ سبھا کے ایم پی جناب ایم جے اکبر اور اور ایم اے آر کالج پونے کے چیئرمین جناب پی اے انعامدار نے کونسل کے وائس چیئرمین اور ڈائرکٹر کے ساتھ مل کر شمع جلا کر کیا۔ دنیا کے پچیس ممالک سے تشریف لائے مندوبین کا استقبال کرتے ہوئے کونسل کے ڈائرکٹر پروفیسر ارتضیٰ کریم نے کہا کہ کونسل کی یہ تیسری عالمی کانفرنس ہے اور ہم سب یہاں ایک چھت کے نیچے اردو کے فروغ کی سمت میں ایک لائحۂ عمل ترتیب دینے کے لیے بیٹھے ہیں۔
عالمی کانفرنس کے افتتاحی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے ایم اے آر کالج پونے کے چیئرمین جناب پی اے انعامدار نے کہا کہ ہمیں ٹیکنالوجی کی مدد سے اردو کو مزید آگے لے جانے کی ضرورت ہے۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ آئین ہند میں مذہبی اور لسانی اقلیتوں کو صرف برابر کے حقوق ہی نہیں دئیے گئے بلکہ کچھ اضافی حقوق بھی دئیے گئے ہیں۔ بنگلہ دیش کی محترمہ کلثوم ابوالبشر نے ڈھاکہ کی اردو صحافت پر مختصراً روشنی ڈالی اور کہا کہ ہمارے ملک میں اردو صحافت کا آغاز ’المشرق‘ نامی اخبار سے 1906 میں ہوا تھا۔ افتتاحی سیشن میں شکریے کی رسم کونسل کے وائس چیئرمین پدم شری مظفر حسین نے انجام دی۔ انھوں نے کہا کہ اردو کا دوسرا نام ہندوستان ہے۔ اردو زبان کی اصل روح اس کا رسم الخط ہے جو عطیۂ خداوندی ہے۔
DSC_0068(افتتاحی تقریب میں شریک سامعین کا ایک منظر)

اس موقعے پر عالمی اردو کانفرنس کے سوینیر کی رونمائی بھی ہوئی۔ ساتھ ہی ایم اجے اکبر اور پی اے انعامدار کو مومنٹو بھی پیش کیے گئے۔ ڈائرکٹر قومی اردو کونسل پروفیسر ارتضیٰ کریم کو ’نذرِ کونسل‘ کے عنوان سے لکھی نظم پر مشتمل ایک سپاس نامہ بھی پیش کیا گیا۔ پروفیسر سچترا گپتا نے بہت ہی خوب صورت اندازمیں نظامت کے فرائض انجام دیے۔ افتتاحی سیشن میں غیرملکی مندوبین اور ہندوستان سے تشریف لائے مہمانان، دہلی کی تینوں یونیورسٹیوں کے اساتذہ و طلبا کے علاوہ معززین اور عمائدین شہر کی ایک بڑی تعداد موجود تھی۔
افتتاحی سیشن کے بعد شامِ غزل کا انعقاد کیا گیا جس میں مندوبین اور مہمانان مشہور غزل گلوکار طلعت عزیز کی خوب صورت گائیکی سے محظوظ ہوئے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *