تنقید کے لیے یہ صلاحیت ضروری ہے

بنارس ہندو یونیورسٹی کے شعبۂ اردو کے دستک ادبی فورم کے خصوصی پروگرام ’آج کا فنکار‘ کا انعقاد
تخلیقی صلاحیتوں کے بغیر بہترتنقیدی کارنامے انجام نہیں دیے جاسکتے: ڈاکٹرشعیب رضا فاطمی
بنارس : ادب کا معاملہ براہ راست زبان سے متعلق ہے۔ جب تک زبان پر دسترس نہیں ہوگی انسان شعر و ادب سے مستفیض نہیں ہوسکتا۔ تخلیقی صلاحیتیں فطری ہوتی ہیں لیکن انہیں صیقل کرنے اور ان کی تشکیل و تعمیر میں مطالعہ اہم کردار ادا کرتا ہے۔ شاعری یا تخلیقی نثرکے لیے جن صلاحیتوں کی ضرورت ہوتی ہیں ان میں زبان پر عبور سب سے اہم ہے کیونکہ لفظ محض لفظ نہیں بلکہ ایک زندگی اور شخصیت ہے، جس کا استعمال اس کی ضرورت کے مطابق ہونا چاہیے۔ان خیالات کا اظہاراردو کے معروف صحافی، ادیب اور شاعر ڈاکٹرشعیب رضا فاطمی نے دستک ادبی فورم شعبۂ اردو، بنارس ہندویونیورسٹی کے زیراہتمام منعقدہ’خصوصی پروگرام ’آج کا فنکار ‘ میں کیا۔انہوں نے زبان کے تخلیقی کردار، شاعری کی سماجی حیثیت اور فن پاروں کی عصری حسیت پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا دور مختلف مسائل سے پریشان ہے، اگر ہماری شاعری میں اس پریشانی کا ادراک نہ ہو تو پھر ایسی شاعری کے کیا معنی ہیں۔ آج کے فنکار ڈاکٹر شعیب رضا فاطمی نے اپنی موضوعاتی نظمیں اور غزلیں بھی سنائیں جنہیں سامعین نے داد و تحسین سے نوازا۔

پروگرام کی ابتدا میں صدر شعبۂ اردو ڈاکٹر آفتاب احمد آفاقی نے مہمان خصوصی کا استقبال کرتے ہوئے شعبۂ اردو کے تحت منعقدہ مختلف لیکچر کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالی۔انہوں نے کہا کہ یہ ساری کاوشیں صرف اس لیے ہوتی ہیں کہ طلبہ کی ادبی اور علمی صلاحیتوں کو صیقل کیا جاسکے۔ پروفیسر آفتاب احمد آفاقی نے ڈاکٹر شعیب رضا فاطمی کی ادبی اور سماجی کاوشوں سے طلبہ کو متعارف کرایا۔ پروفیسراشفاق احمد صدر شعبہ عربی نے مہمان خصوصی کے طور پر شرکت کی۔ انہوں نے ڈاکٹرشعیب رضا فاطمی کے خطاب کو فکرانگیز اور معلوماتی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے لیکچر سے طلبا کے ساتھ ساتھ اساتذہ کے علم میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔
پروگرام کی نظامت شعبۂ اردو کے استاد ڈاکٹرمشرف علی نے کی جبکہ اظہار تشکر کی رسم شعبہ کے استاد رشی کمار شرما نے ادا کی۔ اس موقع پر شعبۂ اردوکے اساتذہ عبدالسمیع اور رقیہ بانو کے علاوہ جاوید انور، منیجر امتیازاحمد، وسیم حیدرہاشمی اور شعبۂ ہندی ، انگریزی، مراٹھی اور مہیلا مہاودیالیہ اور بسنت کالج کے اساتذہ، ریسرچ اسکالر اور طلبا کثیر تعداد میں شریک ہوئے۔

Facebook Comments
Spread the love
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply