جموں و کشمیر میں حکومت سازی کو لے کر تعطل برقرار

تصویر: بشکریہ گوگل
تصویر: بشکریہ گوگل

نئی دہلی، ۱۸ مارچ: ایسا لگتا ہے کہ جموں و کشمیر میں نئی حکومت بننے میں ابھی اور وقت لگے۔ پی ڈی پی اور بی جے پی کے تیوروں کو دیکھتے ہوئے اس امکان سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ ریاست میں دوبارہ انتخابات کرائے جاسکتے ہیں۔ گزشتہ ماہ ریاست جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ مفتی محمد سعید کے انتقال کے بعد نئی حکومت بننے کے آثار دور دور تک نہیں دکھائی دے رہے ہیں۔

پی ڈی پی کی سربراہ محبوبہ مفتی نے کل دہلی میں بی جے پی صدر امت شاہ سے ملاقات کی تھی۔ لیکن اب تک یہ نہیں پتہ چل پایا کہ اس میٹنگ کا ایجنڈا کیا تھا یا میٹنگ میں حکومت سازی کو لے کر کوئی بات بنی بھی یا نہیں، کیوں کہ اس میٹنگ کو لے کر دونوں ہی فریقین خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔ البتہ بعض ذرائع سے یہ خبر مل رہی ہے کہ دونوں ہی پارٹیوں کی طرف سے ریاست میں نئی حکومت کی تشکیل کے لیے پرزور کوشش جاری ہے۔

قابل ذکر ہے کہ ریاست جموں و کشمیر کے لوگ بی جے پی کے ساتھ مل کر حکومت بنانے کی وجہ سے پی ڈی پی سے بہت زیادہ خوش نہیں ہیں۔ محبوبہ مفتی کو عوام کے ان جذبات کا احساس ہے، اس لیے وہ ہر قدم پھونک پھونک کر اٹھا رہی ہیں۔ دوسری طرف انھیں اس بات کا بھی خدشہ ہے کہ اگر انھوں نے بی جے پی کے ساتھ مل کر حکومت نہیں بنائی، تو اس بات کی کوئی گارنٹی نہیں ہے کہ اگلے انتخابات میں بھی انھیں عوام حکومت کی کرسی تک پہنچا ہی دیں۔

دوسری طرف بی جے پی کا یہ کہنا ہے کہ وہ نئی حکومت کی تشکیل کے لیے پی ڈی پی کی طرف سے عائد کی گئی کسی بھی شرط کو ماننے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ بی جے پی لیڈر رام مادھو نے آج نیوز ایجنسی اے این آئی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’’حکومت سازی میں دیری ہماری وجہ سے نہیں ہو رہی ہے، ہم نے تو بارہا یہ کہا ہے کہ زمینی سطح پر الگ صورتِ حال اس لیے پیدا ہوگئی، کیو ںکہ محترم مفتی صاحب اب اس دنیا میں نہیں رہے۔ پی ڈی پی کو مفتی صاحب کی جگہ کوئی نیا لیڈر چننا تھا۔ پی ڈی پی کو اس پر کوئی فیصلہ کرنے دیجئے، ہم لوگ ان کی مدد کریں گے اور حکومت کی تشکیل کریں گے۔ لیکن پی ڈی پی کے ذہن میں اس وقت کچھ اور ہی چل رہا ہے۔‘‘ انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’’ہم کوئی بھی نئی شرط قبول کرنے کو تیار نہیں ہیں۔‘‘

ملک کی سب سے حساس سمجھی جانے والی ریاست جموں و کشمیر میں اگلی حکومت کب بنے گی، یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا، لیکن موجودہ حالات یہ بتا رہے ہیں کہ یہ کام ابھی اتنا آسان نہیں ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *