مکمل شراب بندی اہل وطن کی خیر خواہی ہو گی: جماعت اسلامی ہند

Mohammad Saleemنئی دہلی، ۱۹؍ اپریل: جماعت اسلامی ہند نے مرکزی حکومت اور ریاستی سرکاروں سے ملک اور اہل ملک کی ہمہ جہت فلاح و بہبود کے لیے شراب پر مکمل پابندی لگانے کا مطالبہ کیا ہے۔

جماعت کے سکریٹری جنرل انجینئر محمد سلیم نے کہا کہ ملک میں ہر سال شراب خوری کے نتیجے میں ہونے والی دردناک اموات،شراب کے نشہ میں ہونے والے طرح طرح کے حادثات، لڑائی جھگڑے،قتل و خون،زخمیوں کے علاج معالجہ ،پولیس اور عدالتوں کی کاروائیوں میں غیر ضروری طور پر صرف ہونے والی سرکاری قوت کار اور سرمائے کا نقصان شاید اس فائدہ سے بہت زیادہ ہوتا ہوگا جو ملک کو شراب کے کاروبار سے حاصل ہوتا ہے۔اور بالفرض نقصان کے مقابلے میں فائدہ کچھ زیادہ بھی ہوتا ہے تو بھی شراب کے ذریعہ افراد،خاندانوں،سماج کے اخلاق و کردار ،امن سکون،تعلیم ترقی اور معاشی بہتری کے ذرائع کی جو خاموش تباہی ہوتی ہے اس کو روپیوں میں نہیں تولا جاسکتا۔

سکریٹری جنرل جماعت اسلامی ہند نے مزید کہا کہ بہار سرکار کے ذریعہ شراب پر پابندی لگایا جانا،تمل ناڈو کی وزیر اعلیٰ کے ذریعہ شراب بندی کا عندیہ ظاہر کرنا،شیوسینا کے سربراہ ادھو ٹھاکرے کا ریاستی حکومت سے مرا ٹھواڑہ کی شراب فیکٹریوں کو پانی فراہم نہ کرنے کا مطالبہ کرنا اور جودھپور میں عوام کا شراب کی دکانیں کھولنے کے خلاف مسلسل احتجاج کرنا اورشراب کے خلاف چند ماہ قبل راجستھان کے ایک سابق ایم ایل اے کا جے پور میں مرن برت رکھ کر جان دے دینا اور خود وزیر اعظم کا ایسی ریاست سے ہونا جہاں شراب بندی نافذہے، ایسے متفرق واقعات ہیں جن سے شراب کے خلاف ملکی مزاج کا پتہ چلتا ہے۔ ضرورت ہے کہ پارٹی وابستگیوں سے اوپر اٹھ کر تمام ہی ارکان پارلیمنٹ،اسمبلیوں کے ممبران،کارپوریشنوں کے نمائندے اور تمام سیاسی اور غیر سیاسی پارٹیوں اور جماعتوں کے ذمہ داران اور جملہ مذاہب کی مقتدر شخصیات شراب کے نقصانات اور اس کی تباہی کے خلاف اور اس پر مکمل پابندی کے لیے آواز بلند کریں تاکہ حکومتوں کو ملکی سماج کے وسیع ترمفاد میں دستور ہند کے رہنما خطوط کے تقاضے کی تکمیل کی خاطر مکمل شراب بندی کے لیے آمادہ و تیار کیا جاسکے اور ملک میں ایک پر سکون و پاکیزہ ماحول کے قیام کا راستہ ہموار کیا جاسکے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *