انگریزی ناول ’دی لانگ ویٹ‘ کا اردو ترجمہ وقت کی اہم ضرورت: سہیل انجم

’پتھا بہو دورا‘اردو اور اڑیا تہذیب کے درمیان ایک پل : ڈاکٹر اربند رائے

( بائیں سے دائیں: اسفر فریدی، اشوک پوہان، رینڈل لانگ، سہیل انجم، اجے سوائن، بنوج تریپاٹھی، نہلہ احمد، سیبل موغلی، اربند رائے اور ڈاکٹر انوارالحق)
( بائیں سے: اسفر فریدی، اشوک پوہان، رینڈل لانگ، سہیل انجم، اجے سوائن، بنوج تریپاٹھی، نہلہ احمد، سیبل موغلی، اربند رائے اور ڈاکٹر انوارالحق)

نئی دہلی، ۲۹؍مارچ (پریس ریلیز)

ڈاکٹر انوارالحق کے انگریزی ناول’دی لانگ ویٹ‘ کے اڑیا ترجمہ’پتھا بہو دورا ‘ کے رسمِ اجرا کے موقع پر مختلف ممالک کے ادبا وشعرا نے اظہارِ خیال کیا۔ اس موقع پر اردو کے مشہور صحافی اور کالم نویس سہیل انجم نے اس ناول کے اچھوتے موضوعات کو اس کا سب سے بڑا خاصہ بتاتے ہوئے کہا کہ آج کل دہشت گردی ہمارے سماج کا ایک بڑا مسئلہ ہے۔ آئے دن پولس کسی کو بھی دہشت گردی کے شبہہ میں اٹھا لے جاتی ہے اورر بعد میں وہ عموماََ بے قصور ثابت ہوتا ہے لیکن عام طور سے کوئی یہ نہیں سوچتا کہ اس کے ذہن پر اس کا کیا اثر پڑتا ہے اور اس کے گھر والے کن ذہنی اذیتوں سے دوچار ہوتے ہیں۔ انہوں نے ناول کے پلاٹ پر مزید روشنی ڈالتے ہوئے کہا ’جو لوگ ڈاکٹر انوارالحق کو ذاتی طور پر جانتے ہیں وہ بہ آسانی سمجھ سکتے ہیں کہ اس ناول میں ان کی زندگی کا عکس بھی موجود ہے جو در اصل ہمارے سماج کے ہر نوجوان کی داستان ہے۔ آج جو وقت ہم پر آن پڑا ہے اس میںیہ اشد ضروری ہے کہ ’دی لانگ ویٹ ‘کا اردو ترجمہ بھی کرایا جائے تاکہ اس ناول سے اردو کے قارئین بھی مستفید ہو سکیں۔ اڑیا زبان میں اس ناول کے ترجمے کو انہوں نے ایک خوش آئند قدم بتایا اور کہا کہ اس سے بلا شبہ اڑیسا کے عوام ایک اردو ادیب کے ذہن اور اس کی سوچ سے واقف ہونگے۔‘ ’نیوز ان خبر ڈاٹ کام‘ کے ایڈیٹر اسفر فریدی نے اس تقریب میں اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے اس ناول کے اردو ترجمے میں اپنی ذاتی دلچسپی کا اظہار کیا اور اس کو اردو میں لانے پر زور دینے کے ساتھ ہی انہوں نے اردو ترجمہ میں در پیش آنے والی دشواریوں کے ازالے میں اپنی خدمات بھی دینے کا بھروسہ دلایا۔

انگریزی زبان کے استاد مسٹر رینڈل لانگ نے اس ناول کو ہندوستان کی دیہی تہذیب کا عکاس اور ترجمان بتایا۔ لیبیا سے تشریف لائی زاویہ یونیورسٹی کی شعۂ کمپیوٹر سائنس کی سابق صدر نہلہ احمد نے اپنے اظہارِ خیال کے دوران کہا کہ یہ ناول ہندوستان کے دیہی علاقوں میں بسے مسلمانوں کی تہذیب سے علاقہ رکھتا ہے اور لیبا کے لوگ اس تہذیب سے بہت کم واقف ہیں۔ اس ناول کا مختلف زبانوں میں ترجمہ ہونا چاہیے۔ سوئٹزر لینڈ کی انگریزی کی استانی نے سوئٹزر لینڈ میں اس کتاب کی مقبولیت کے تعلق سے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عام طور سے ہندوستان کے بارے میں غیر ملکوں میں جو مفروضے ہیں یہ کتاب اس کو توڑتی ہے اور زمینی حقیقت سے واقف ہونے کا ایک اچھا موقع فراہم کراتی ہے۔ مبین تہرانی نے اس ناول کے تعلق سے کہا کہ ڈاکٹر انوارالحق کا اسلوب عام روش سے مختلف ہے۔ یہ ہندوستانی مسلمانوں کی ذہنی کشاکش کو دکھاتاہے۔ اس موقع پر اڑیسا سے تشریف لائے ادبا میں پکشی گھر پبلی کیشن کے بنوج ترپاٹھی، اڑیا زبان کے مشہور شاعر اشوک پوہان اور اڑیا زبان کے فکشن نگار اور اپنے ناول پر اڑیسہ ساہتیہ اکیڈمی انعام سے نوازے جانے والے مصنف ڈاکٹر اربند رائے نے بھی اس رسمِ اجرا تقریب میں حصہ لیا۔

ذاکر نگر، نئی دہلی کے ڈائنامک انسٹی ٹیوٹ کے ہال میں کھچاکھچ بھرے دانشوروں، ادیبوں اور طالب علموں سے خطاب کرتے ہوے اربند رائے نے کہا کہ ہندوستا ن کے دیہی علاقوں میں بسنے والے اور اردو بولنے والے مسلمانوں خاص کر معذور لڑکیوں کے کرب کا اڑیسا کے لو گ صرف اندازہ ہی کر سکتے ہیں۔ اس ناول کے اڑیا ترجمہ سے اڑیا زبان بولنے والوں کو اس کرب کا اندازہ ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اڑیا میں اردو بولنے والوں کے تعلق سے لکھی گئی مختلف کتا بوں کے ترجمے کی اشد ضرورت ہے۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے شعبۂ اسلامک اسٹڈیز کے بی اے کے طالب علم محمد یوسف نے بھی ناول کے تعلق سے اپنی رائے ظاہر کی اور مصنف کو مبارکباد پیش کیا۔ اس موقع پر ڈاکٹر انوارالحق نے اپنے ناول ’دی لانگ ویٹ ‘کے اڑیا ترجمے پر خوشی کا اظہار کیا اور امید ظاہر کی کہ اڑیسہ میں اس ناول کو سراہا جائے گا۔ ڈائنامک انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر مسٹر رینڈل لانگ،محترمہ ہائڈی لانگ اور آرنی سوان نے تمام مہمانوں کا شکریہ ادا کیا۔ اس موقع پر مختلف ملکوں سے تشریف لائے اس ناول کے قارئین کے علاوہ ڈائنامک انسٹی ٹیوٹ کے طلبہ نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *